fbpx

اسرائیلی وزیراعظم اور محمد بن سلمان نے 5 گھنٹے کیا باتیں کیں؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی اہم ڈیولپمنٹ ہو رہی ہیں خطے کے اندر، لگتا یہ ہے کہ ٹرمپ اور محمد بن سلمان خطے میں کچھ اور کرنے جا رہے ہیں اس سے پہلے کہ ٹرمپ جنوری میں وائیٹ ہاؤس خالی کرے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن سے خطرہ ہے کہ وہ آتے ہیں ایران کو ریلکسیشن دے دیں گے،اس پر سعودی عرب نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران نے اگر نیو کلیئر پر کام شروع کیا تو پھر ہم بھی آزاد اور خود مختار ہیں، ہم بھی کریں گے، یہ ایک الگ بات ہے کہ سعودی فارن منسٹر یہ بتانا بھول گئے کہ وہ پہلے ہی ایک پلانٹ بنا رہے ہیں چین کی مدد سے، اسی بات پر ٹرمپ اور ان میں اختلاف ہوئے تھے کہ ساری مدد امریکہ سے لینا اور نیو کلیر کے لئے مدد چین سے لینا

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی میڈیا نے خبر کو بریک کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے موساد چیف کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا اور پانچ گھنٹے موجود رہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلقات اپنی جگہ پر،ہر آزاد ملک کو حق ہے کہ وہ کس سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے ،سعودی عرب کو بھی حق ہے لیکن موساد کا چیف کیا کرنے گیا تھا؟اسکے اوپر بھی رائے دوں گا، مائیک پومپو نے اہم پیغام دیا اور قطر کے اندر ہونے والے مذاکرات جو افغان اور طالبان کے گروپس میں ہو رہے ہیں کو اہم پیغام دیا ،میں نے ڈیڑھ سے دو ماہ پہلے بتایا تھا کہ سعودی عرب قطر کی طرف ہاتھ بڑھائے گا صلح کا اور دوستی کا، آج وہ خبر بھی سامنے آ گئی ہے،ہمیں کیسے پہلے پتہ چل جاتا ہے یہ بھی بتاؤں گا کسی کو کوئی خیال ہے تو اسکی وضاحت بھی ہونی چاہئے ٹویٹر پر کچھ لوگ میری مداح سرائی کر رہے ہیں میرا نام لے لے کر، میں نے جو بات کی آپ بھی دو ماہ بعد وہی بات کریں گے فرق یہ ہے کہ میں نے پہلے بات کر دی

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پانچ گھنٹے پہلے نیتن یاہو کے سوشل میڈیا ایڈوائیز نے سیاسی حریف گینز کے متعلق ٹویٹ کی اور کہا کہ وہ سیاست کر رہا ہے اور نیتن یاہو امن قائم کر رہا ہے یہ سعودی عرب کی طرف ہی اشارہ تھا،کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ امن قائم کر نا چاہتے ہیں، جس طرح کے ہارڈ لائنرز کسی بھی ملک میں ہو سکتے ہین اسی طرح اسرائیل کے اندر بھی ہین، جوز کا ایک بہت بڑا گروپ ہے جو اسرائیل کے قیا م کے خلاف ہے ان میں زیادہ تر امریکہ میں مقیم ہیں، انکی کتاب تورات مین لکھا ہے کہ جب یہودی دوبارہ اپنے دوبارہ گھر کو ری کلیم کریں گے تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، انکا خیال ہےکہ اگر اسرائیل مین یہودی سیٹلمنٹ ہو گئے تو پھر وہ بالکل قیامت ہو گی ،ہر جگہ پر ہارڈ لائنر ہین جس طرح بحرین یا سعودی عرب مین ری ایکشن ہو رہا ہو گا لوکل لوگوں کا اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملانے میں اس طرح اسرائل میں بھی ری ایکشن ہو گا

اسرائیل کے وزیراعظم نے سعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا، شواہد مل چکے ہین کہ موساد چیف بھی ساتھ تھے، یہ جہاز پر گئے، یہ میٹنگ نیوم میں ہوئی، اس حوالہ سے سعودی عرب اور اسرائیل کی طرف سے کوئی اعلان نہین ہوا، اسرائیلی میڈیا نے اس خبر کو بریک کیا، میٹنگ پانچ گھنٹے جاری رہی، سول ایوی ایشن اور ورلڈ ایوی ایشن پر جو لوگ نگاہ رکھتے ہیں اس میں یروشلم پوسٹ کے سینئر ایڈیٹر ایوی شوف جس کا میں نے انٹرویو بھی کیا ہے انکا دعویٰ ہے کہ جہاز نیوم سٹی میں پانچ گھنٹے لینڈ رہا، دنیا کی ٹریفک کو وہ مانیٹر کرتے ہین، ایوی شوف نے ہی سات ماہ پہلے رپورٹ کی تھی کہ طیارہ تل ابیب سے اڑا اور جورڈن مین لینڈ کر گیا اور وہاں سے اڑا اور پاکستان کی ایئر سپیس میں آ کر اس کا پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا اور کہیں بھی لینڈ کر سکتا تھا، بحرحال ایک گھنٹے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ دوبارہ پاکستان کی سائیڈ سے اڑا اور تل ابیب لینڈ کر گیا

باقی تو باتیں سب کی ہین،لیکن مائیک پومپو نے ٹویٹ میں بات کی کہ وہ اور ایم بی ایس نیوم سٹی میں موجود تھے، انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کا ذکر کیوں نہین کیا، شاید وقت نہیں آیا، لیکن اسرائیل کا ریڈیو جو کہہ رہا ہے اسکو کوٹ کر رہا ہوں، موساد کا چیف کیوں تھا اسکی ایک وجہ جو سمجھ آتی ہے کہ سائبر سیکورٹی جو رائل فیملی کی ہے اسکو اسرائیل ہی دیکھ رہا ہے، دنیا میں آئی ٹی اور سائبر وار میں اسرائیل سے آگے کوئی نہین، اب غالبا یہ ہے کہ سعودی اگر پاکستان سے فاصلہ رکھ رہے ہین تو اسرائیل یا موساد رائل فیملی کی سیکورٹی کو ٹیک اوور کر سکتا ہے یہ تجزیہ دے رہا ہوں،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملاقات میں ایران، سعودی عرب، اسرائیل سارے تعلقات کی بحالی پر بات ہوئی، امریکہ کی جو گیم ہے ک ایک دو سے نہین بلکہ ہر ایک سے اس کو منوانا ہے تا کہ اسرائیل کو تھریٹ کسی نہ کسی طرح ختم ہوں، سعودی عرب اس ھوالہ سے تردید کرے گا کہ فلسطین کا مسئلہ ہو گا تو ہم تسلیم کریں گے لیکن فلسطینیوں نے جوبائیڈن سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ پیس ٹاک کو آگے بڑھائٰین، وی بھی پیش کے خواہشمند ہین لیکن سعودی عرب نے آفیشیلی اسرائیلی جہازوں کو کمرشل اجازت دے دی ہے،اور اگلے ہفتے تقریبا اس مہینے کے ختم ہونے سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب کی ایوی ایشن میں تحریری اعلان بھی ہو جائے گا اسکی وجہ سے ایک مسلمان ملک کو نقصان پہنچے گا لیکن کئی مسلمان ملک فائدہ اٹھائیں گے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوئس کینال کے روٹ سے جب نہیں جائیں گے، ڈیڑھ گھنٹے کا ٹایم ہو جائے گا تو بہت سی چیزیں جا سکتی ہے،یو اے ای کے اندر ایک دم سے انویسمنٹ شروع ہو گئی ہے، ایک ڈائریکٹ ٹریڈنگ روٹ بن چکا ہے ایشیا تک اسرائیل نے جو فلائٹس کرنی ہیں تو اگر سعودی عرب کا روٹ استعمال کرتا ہے تو روٹ چھوٹا ہو جائے گا، کارگو فلائٹس کے لئے بھی اچھا روٹ ہو گا، سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین باقاعدہ اعلان ہو گا، موساد کے چیف اعلان کر چکے ہیں کہ حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کو جوبائیڈن کے آںے سے پریشانی ہے کیونکہ وہ صلح پسند ہیں اور ہر ایک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں،ہر ایک میں ایران بھی ہے، اس میں دو راستے ہین یا بائیڈن کو ایران کے حوالے سے روکا جائے یا منت سماجت کر کے ایران سے بھی بات شروع کر دی جائے، سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، آنیوالے دنوں میں کوئی ایسی خبر ملی کہ جہاز اڑا اور واپس گیا تو حیران نہین ہونا، یہ سب کچھ جوبائیڈن کے حلف لینے سے پہلے ہوں گی، اثرات نظر آئیں گے

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات نارمل ہو چکے ہیں، صرف اعلان ہونا باقی ہے،اپنی پبلک کو سعودی عرب نے نارمائیز کرنا شروع کردیا ہے، ساتھ ہی امریکہ نے بی 52 گلف میں مختلف جگہوں پر تعینات کرنا شروع کر دیئے وہ اپنے ٹروپس ضرور واپس بلا رہا ہے لیکن ایئر پاور کو بڑھا رہا ہے تا کہ ممالک زیادہ جوش میں نہ آ جائیں یہ نہ سمجھیں کہ امریکہ نکل گیا تو ہم اس پر اٹیک کر لیں، امریکہ ایئر سپیس کو پہلے سے زیادہ بڑھا رہا ہے، بی 52 بڑھا رہے ہیں،

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے دفاعی محکمہ مین مزید تبدیلیاں شروع کر دی ہین کہ جو بھی اس کے گیم پلان کو ڈ س ایگری کر رہا ہے اسکو بدل رہا ہے گیم پلین کیا ہے اسکا نہیں پتہ،لیکن کوئی نہ کوئی ضرور ہے جس کو اسکے خیال میں بیورو کریسی روڑے اٹکا رہی ہے،وہ اسکو فارغ کرتا جا رہا ہے اور مرضی کے بندے لگا رہا ہے تا کہ جلدی کچھ نہ کچھ نہ کرے، جنوری 2021 بہت اہم ہے،کچھ بھی ہو سکتا ہے،