‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

0
85

یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔

أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔

پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔

ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔

پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔

پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔

لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔

لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟

تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟

أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔

Name: Sadiq Saeed
Twitter: ‎@SadiqSaeed_

Leave a reply