fbpx

جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے جہانگیر ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ علی ظفر نے وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں انہوں نے جہانگیر ترین کو نیٹ اینڈ کلین قرار دیا ہے

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے بعد سازشی عناصر کو طمانچہ لگا ہے ، انہیں استعفی دینا چاہیے کل ہمارے گروپ کی جو میٹنگ ہوئی ہے وہ اسی خوشی میں ہوئی ہے پارٹی میں سازشی عناصر کو رپورٹ کے بعد شرمندگی ہوئی ہے جہانگیر ترین سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو دیدی گئی ہے علی ظفر نے رپورٹ دی ہے کہ جہانگیر ترین نیٹ اینڈ کلین ہیں

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم سرخرو ہو گئے ہمارے گروپ کا موقف کامیاب ہوا ہے جو چیزغلط ہو گی ہم حکومت کو احساس دلاتے رہیں گے ہم کہیں نہیں جا رہے تحریک انصاف میں ہی رہیں گے ، وزیراعظم کا شکریہ ہمیں نیوٹرل ایمپائر دیا

واضح رہے کہ جہانگیر ترین نے چند روز قبل ہم خیال گروپ تشکیل دیا ہے اور پارلیمانی لیڈر بھی قومی و پنجاب اسمبلی میں طے کر لئے ہیں تا ہم دو روز قبل انہوں نے عدالت پیشی کے موقع پر کہا تھا کہ ہم تحریک انصاف میں ہی رہیں گے

جہانگیر ترین کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رات میڈیا کی جانب سے تاثر دیا گیا کہ شاید ہم تحریک انصاف چھوڑ رہے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے.ہم تحریک انصاف کا حصہ تھے اور رہیں گے. ہمارے گروپ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی اور امید ہے جلد بیرسٹر علی ظفر اس معاملے کی چھان بین کر کے وزیراعظم کو آگاہ کریں گے.

وزیراعظم کی ہدایت؟ جہانگیر ترین سے اہم شخصیت کی ملاقات

جہانگیر ترین کیخلاف درج ایف آئی آر کا از سر نو جائزہ شروع

جہانگیر ترین کو بڑی خوشخبری مل گئی

وزراء سمیت کتنے اراکین اسمبلی جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت آئے؟

ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے رابطہ ہے یا نہیں ؟ جہانگیر ترین نے بتا ہی دیا

جہانگیر ترین کو ملی خوشخبری، ایسا اعلان کر دیا کہ سب کے پسینے چھوٹ گئے

جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!