قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔ ایک شخصیت،ایک عہد ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔
ایک شخصیت،ایک عہد۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

کراچی میں 25دسمبر 1876ء
میں پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر عالمِ اسلام کا عظیم لیڈر اور عہد ساز شخصیت بنے گا۔۔۔؟؟؟

تاریخ پاکستان کا چمکتا ستارہ عالمی سیاسی منظر نامے پر بھی ایک عظیم لیڈر کے طور پر نظر آتا ہے۔۔۔ !!!!
آپ عہد آفریں شخصیت۔۔۔
با اصول سیاستدان۔۔۔۔
کامیاب قانون دان۔۔۔
اور بلند مرتبہ مدبر بھی تھے۔۔۔
یہ آپ کی مضبوط قوتِ ارادی۔۔۔اور دانشورانہ صلاحیتوں کا صلہ تھا کہ۔۔۔ہندو کی تنگ نظری (Narrow vision) آپ پر جب واضح ہو گئی تو آپ کے لیئے یہ بات سمجھنا مشکل نہ رہی کہ مسلمانانِ ہند کو اس غلامی کا طوق اتار پھینکنا چاہیئے۔۔۔
اور ایک الگ پہچان۔۔۔۔اور مملکت ناگزیر ہو چکی ہے۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ مسلمانانِ برصغیر نے عظیم لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر اپنا بھر پور کردار ادا کیا جو بالآخر دنیا کے نقشے م پر پاکستان جیسی عظیم ریاست کے قیام کی وجہ بن گیا۔۔۔
تاریخ اس تحریک پر حیران نظر آتی ہے کہ مدبرانہ اور ولولہ انگیز مخلص قیادت قوموں کی کامیاب و بامراد سمت کا تعین کر دیتی ہے۔۔۔۔
یہی کردار ہمیں محمد علی جناح کا نظر آتا ہے۔۔۔
قوم کے لیئے ان کے دل میں محبت اور خدمت کا جو جزبہ موجزن تھا وہ آج بھی ہم جیسوں کے لیئے مشعل راہ ہے۔۔۔ !!!
آپ کی غیر معمولی شخصیت کی بنیاد ابتداء سے ہی پڑ گئی تھی اور شروع سے ہی آپ کے کردار میں ایک دیانتدار اور محنتی انسان کی جھلک نظر آتی تھی۔۔۔۔
اور یہی کردار آگے بڑھ کر قابلِ تقلید مثال بن گیا۔۔۔۔
دیانتداری۔۔۔۔
اصولوں کی پاسداری۔۔۔۔
اور کردار سے ثابت کر کے دکھانا آپ کی پہچان بن گئی۔۔۔۔
قومی وسائل کے بے دریغ استعمال۔۔۔اقرباء پروری۔۔۔۔رشوت۔۔۔۔بڑائی۔۔۔خیانت ان کے نزدیک سنگین جرائم تھے۔۔۔
تاریخ کے صفحات میں ان کے بے مثال و قائدانہ کردار کی ایک جھلک دیکھیئے کہ
1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں کانگریس اور مسلم لیگ کے طلباء کے درمیان پرچم لہرانے کا تنازعہ اٹھا۔۔۔
ہندو طلباء ملکی اکثریت کی بناء پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔۔
جبکہ یونیورسٹی میں مسلمان طالبعلموں کی اکثریت کی وجہ سے مسلم لیگی اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔
یونین کے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کے بعد طلباء نے جب ان سے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کا کہا تو آپ نے فرمایا:
"تمہاری اکثریت خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش اچھی حرکت نہیں ہے۔۔۔کوئی ایسی بات نہ کرو جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے۔۔۔یہ مناسب نہیں کہ ہم جس کام پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں،وہی کام خود کرنے لگ جائیں۔۔۔۔ ”

یہ تھا آپ کا نوجوانوں کو ٹھنڈے دل و دماغ، تحمل اوربردباری سے آگے بڑھنے کا مدبرانہ مشورہ۔۔۔۔۔

دو قومی نظریہ کی وضاحت جس خوبصورتی کے ساتھ آپ نے دنیا کے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔
قیامِ پاکستان کی وجوہات کا وہ بہترین سرمایہ تھی۔۔۔۔
عدل و انصاف پر مشتمل پر امن معاشرے کا قیام ان کا خواب تھا۔۔۔۔
کسی بھی طبقے کے حقوق کا استحصال اور لوٹ مار سے قوم کو خبردار کیا۔۔۔۔
اسلام کا نظام مساوات،عدل،رواداری،اتحاد ان کا دو ٹوک پیغام تھا۔۔۔۔
قائد کی شخصیت۔۔۔حوصلہ،تدبر،احساسِ ذمہ داری۔۔۔اور بے بے باکی کی آئینہ دار تھی۔۔۔
آپ نے مسلمانوں کا مؤقف واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے اخلاقی جرأت کے ساتھ پیش کیا۔۔۔۔ !!!!
مگر افسوس!
ہم رفتہ رفتہ ان اصولوں سے دور ہوتے گئے۔۔۔جن کا خواب قائد کی دور اندیشی سے لبریز آنکھوں میں چمکتا تھا۔۔۔۔
آپ مخالفین کے سامنے آہنی دیوار تھے۔۔۔
وہ آپ کو جھکا نہ سکتے تھے۔۔۔۔
آپ کے اٹل ارادوں کے آگے بند نہ باندھ سکتے تھے۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا تھا کہ میں ہندوستان کو متحد رکھنے کی غرض سے ہی گیا تھا۔۔۔مگر اس راہ میں ایک شخص پہاڑ کی طرح ڈٹا ہوا تھا اور وہ محمد علی جناح تھا۔۔۔ !!!

بلاشبہ ایسی عظیم شخصیات صدیوں بعد جنم لیتی ہیں۔۔۔۔
جو قوموں کی تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔۔۔۔
جو دنیا کے نقشے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔۔۔۔
جو نوزائیدہ مملکت کو مدبرانہ انداز و سوچ سے اپنے پاؤں پر۔۔۔کفایت شعاری سے کھڑا کر دیتی ہیں۔۔۔۔ نوجوانوں کو تعلیم و محنت اپنی ترجیح بنانے کا درس دیتی ہیں۔۔۔۔اسی صورت میں وہ اپنی دنیا آپ پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔ !!!
بقول اقبال
>ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔۔ !!!
بانئ پاکستان 11ستمبر 1948 کو وفات پا گئے اور قوم عظیم لیڈر اور ہیرو سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
But heroes like him never die…..
Do they die????
He lives in our hearts…. !!!!!
آپ کے فرمودات آج بھی قومی استحکام اور ترقی کے لیئے ہمارے لیئے راہنما اصول ہیں۔۔۔۔ !!!!
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.