ورلڈ ہیڈر ایڈ

بلاول نے دیا مولانا فضل الرحمان کو دھوکہ

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اپنے والد آصف زرداری کے دیرینہ دوست مولانا فضل الرحمان کو دھوکا دے گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری نے ماہ رمضان میں اپوزیشن جماعتوں کو افطار پارٹی پر دعوت دی تھی، جس میں اپوزیشن کے رہنماوں نے بشمول مریم نواز نے شرکت کی تھی، اس افطار پارٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اے پی سی ہو گی اور حکومت کے خلاف تحریک کا فیصلہ ہوگا،

رمضان کے بعد عید آئی، عید کے بعد اے پی سی ہوئی جس میں حکومت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ تو نہ ہوا البتہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا گیا، چیئرمین سینیٹ صادق سجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں لائی گئی لیکن اپوزیشن جماعتوں کو اراکین کی اکثریت کے باوجود اس میں ناکامی ہوئی.

مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پھر تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائیں اور ایک اور اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا، اس اے پی سی میں بلاول زرداری، شہباز شریف نے شرکت نہیں کی جس کی وجہ سے اے پی سی میں کوئی خاص فیصلہ نہ ہو سکا،البتہ یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت کے‌خلاف لانگ مارچ کیا جائے گا اور اسلام آباد کا گھیراؤ کیا جائے گا.

مولانا کا آزادی مارچ،ملک کے بڑے سجادہ نشین نے کی حمایت

لانگ مارچ میں اپوزیشن جماعتیں مولانا کے سخت موقف کے باعث نہیں جانا چاہتی ، اگرچہ سب نے کہہ دیا تھا کہ شرکت کریں گے، آخری اے پی سی میں بلاول زراری کا شریک نہ ہونا مولانا فضل الرحمان کی تحریک سے راستے الگ کرنے کا پیغام تھا ،

آج بلاول زرداری نے جامشورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو واضح پیغام دے دیا کہ مولانا کا اور ہمارا بیانیہ ایک ہے لیکن مولانا اسلام آباد میں دھرنادینے جائیں گے اور میں ملک بھر میں جلسے کروں گا .

 

مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ، ن لیگ اختلافات کا شکار، اراکین اسمبلی کا نواز شریف کی بات ماننے سے انکار

مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مولانا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہوں لیکن اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ میں شریک نہیں ہونا چاہتی کیونکہ مولانا چاہتے ہیں کہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا دیا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جائے لیکن اپوزیشن جماعتیں متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ استعفے مسئلہ کا حل نہیں، ایوان میں رہ کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے.

باغی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے رواں ہفتے ملاقات کریں گے اور لانگ مارچ میں شمولیت پر زور دیں گے.

مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے حوالہ سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کہہ چکے ہیں کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے.

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ تو ہوا لیکن اب اپوزیشن جماعتیں مولانا کا ساتھ دینے کو تیار نظر نہیں آ رہی، اگر اپوزیشن جماعتوں نے ساتھ نہ بھی دیا تو مولانا فضل الرحمان اکیلے اپنے کارکنان کے ساتھ نکلیں گے اور یقینی طورپر تاریخی مارچ کریں گے، اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

 

مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوئے تو قیادت کون کرے گا؟ اہم خبر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.