fbpx

جب پہاڑوں سے پیار ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے آپ کے ہو جاتے ہیں

پاکستان میں موجود دنیا کی دوسری سب سے بلند چوٹی K-2 کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ یقین کرنا مشکل ہے لیکن پہاڑ بہت پرسکون ہیں۔ ایک بار جب آپکو ان سے پیار ہوجائیں تو وہ ہمیشہ آپ کے لئے رہیں گے۔

باغی ٹی وی :پاکستان میں موجود دنیا کی دوسری سب سے بلند چوٹی K-2 کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے الوداعی چیمپز جان سنوری ، جے پی موہر اور علی سدپارہ کا کہنا تھا پہاڑ ہمیشہ کے لئے ان کے لئے ہے یہ مجھے ہالی ووڈ مووی کی یاد دلاتا ہے۔

کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ یقین کرنا مشکل ہے لیکن پہاڑ بہت پرسکون ہیں۔ ایک بار جب آپکو ان سے پیار ہوجائیں تو وہ ہمیشہ آپ کے لئے رہیں گے۔

K-2 کو سر کرنے کی کوشش میں تین کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستان آرمی کے دو ہیلی کاپٹروں پر مشتمل ریسکیو آپریشن آج (پیر) بھی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جوان پابلو موہر جمعے کی شام سے لاپتہ ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں جن میں تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

کوہ پیمائی کی گائیڈ کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے مینیجر داوا شرپا، جو کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں، نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ آرمی کے ہیلی کاپٹروں نے پیر کی صبح تقریباً 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی تاکہ لاپتہ کوہ پیماؤں کا سراغ لگایا جا سکے۔

ان کے مطابق لکپا ڈینڈی اور انھوں نے ان علاقوں کا چکر لگایا جن کے جغرافیے سے وہ آگاہ ہیں۔داوا شرپا کے مطابق کے ٹو کی بالائی سطح بادلوں سے مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہے اور چوٹی پر حد نگاہ بہت کم ہے۔

جبکہ اطلاعات کے مطابق لاپتہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی تلاش کے لیے اُن کے دو رشتہ داروں امتیار اور اکبر نے رضا کارانہ طور پر کے ٹو کا سفر شروع کر دیا ہے دونوں باصلاحیت کوہ پیما ہیں جنھوں نے ماضی میں کے ٹو سر کیا ہوا ہے۔ انھوں نے ساجد سدپارہ (علی سدپارہ کے بیٹے) کی کے ٹو بیس کیمپ واپسی میں مدد فراہم کی تھی۔واضح رہے کہ ساجد سدپارہ بھی اپنے والد کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث وہ مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آ گئے تھے۔


دوسری جانب کوہ پیماؤں میں شامل پاکستانی مہم جو محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ ان کے والد اور ساتھی کوہ پیماؤں کو جو بھی حادثہ پیش آیا وہ چوٹی سر کرنے کے بعد ہی ہوا-

گزشتہ روز اتوار کوسکردو پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساجد سدپارہ نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ محمد علی سد پارہ اور ان کی ٹیم نے سردیوں میں K-2 فتح کرنے کا کارنامہ انجام دے دیا تھا اور ان کے ساتھ جو بھی حادثہ ہوا، وہ واپسی کے سفر میں ہوا ہے-

ساجد سدپارہ نے یہ بھی کہا تھا کہ انتہائی سرد موسم کے ساتھ آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر کسی انسان کے اتنے زیادہ وقت تک بچ جانے کے امکانات کم ہی ہیں تاہم لاش کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہنا چاہیے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.