کلبھوشن کیس ، عدالت نے ایک بار پھر مہلت دے دی

کلبھوشن کیس ، عدالت نے ایک بار پھر مہلت دے دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلبھوشن کووکیل فراہم کرنے کیلئے دائر وزارت قانون کی درخواست پر سماعت ہوئی

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان ڈپٹی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ہمراہ پیش ہوئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب قرنطینہ میں ہونے کے باعث ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوئے

بھارتی قیدی اسماعیل کے کیس میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل شاہ نواز نون روسٹرم پر آگئے ،شاہ نواز نون نے کہا کہ مجھے بھارتی سفارتخانے نے کلبھوشن کیس میں بھی تفصیلات لینے کا کہا تھا، میں نے کلبھوشن کے سزا کے فیصلے کی کاپی اور دیگر دستاویزات مانگیں،مجھے کلبھوشن سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کو دستاویزات نہیں مل رہی تھیں تو اس عدالت آجاتے ،

شاہ نواز نون نے کہا کہ عدالت آنے کیلئے کلبھوشن کا دستخط شدہ وکالت نامہ چاہیے تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شاہ نواز نون کے پاس بھارتی سفارتخانے کی پاور آف اٹارنی نہیں تھی ،پاور آف اٹارنی کے بغیر ہم انہیں دستاویزات فراہم نہیں کرسکتے تھے، یہ پاور آف اٹارنی  لےکر آئیں ہم انہیں دستاویزات دے دیں گے، خوش آمدید کہیں گے،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا کہ ویانا کنونشن پر تو عملدرآمد کرنا ہی ہو گا، عدالت نے شاہ نواز نون سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو بھارتی سفارتخانے سے مزید ہدایات کیلئے وقت چاہیے؟ جس پر شاہ نواز نون نے کہا کہ جی مجھے وقت دے دیں میں ان سے ہدایات لے کر بتا دوں گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ بھارت خود ایک وکیل کلبھوشن کیلئے مقرر کرتا،ہم تو بھارت کو ایک اور موقع بھی فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت بھی یہی چاہتی تھی کہ کلبھوشن کو بھارت خود وکیل فراہم کرے،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُس کیس میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل بھی اس عدالت میں موجود ہیں ،بھارتی قیدی اسماعیل کی رہائی کی درخواست بھی آج ہی مقرر ہے،وہی بھارت اسی عدالت کے سامنے ایک اورقیدی کی رہائی کیلئے درخواست دائر کرچکا،

اٹارنی جنرل نے بھارتی موقف میں تضادات کی نشاندہی کر دی اور کہا کہ ہم بھارتی ہائی کمیشن کو بارہا موقع دے چکے کہ کلبھوشن سے ملاقات کرکے وکیل فراہم کریں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا کیا وہ دورکیے گئے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر اس کارروائی میں شمولیت سے گریزاں ہے،عدالت نے پوچھا تھا بھارتی شمولیت کے بغیر کیا کلبھوشن کووکیل کی فراہمی موثر ہوگی؟

اسماعیل کیس میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل کو کلبھوشن کیس میں بھی ہدایت لینے کی مہلت مل گئی ،عدالت نے وکیل کو کہا کہ 2 ہفتوں میں بھارت سے ہدایات لے کر بتائیں، کلبھوشن کو وکیل فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی گئی.

واضح رہے کہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد ،حکومت نے فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے

وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حکومت نے حال ہی میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،

دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

بھارت کوکوئی تحفظات ہیں تو عدالت سے رجوع کرسکتا ہے،کلبھوشن کیس میں عدالت کے ریمارکس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.