fbpx

خاتون صحافی کو راوی پل پر ہراساں کرنے کا ملزم گرفتار ہوا یا نہیں؟

خاتون صحافی کو راوی پل پر ہراساں کرنے کا ملزم گرفتار ہوا یا نہیں؟

وزیرِ جیل خانہ جات و ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے خاتون صحافی کو ہراساں کرنے کے معاملے پر کہا ہے کہ خاتون صحافی کو راوی پل پر ہراساں کرنے والا ملزم بارہ گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور سی سی پی او لاہور نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔ پنجاب پولیس نے بہترین کاروائی کرتے ہوئے بائیک کے نمبر سے ملزم کو ٹریس کیا۔ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔بہت جلد اس گھٹیا حرکت میں ملوث دیگر ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کسی معافی کے مستحق نہیں خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ ملزمان کو قرار واقعی سزا دیکر معاشرے کے لیے نشان عبرت بنایا جائے گا۔بروقت اور موثر کاروائی پر پنجاب پولیس کے جوان اور افسران داد کے مستحق ہیں۔

ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

واضح رہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خاتون صحافی کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا ،خاتون صحافی کام کے لئے جا رہی تھی کہ راستے میں اوباش نوجوانوں نے آوازیں کسنا شروع کر دیں، اور نازیبا حرکات کیں واقعہ کا مقدمہ تھانہ شاہدرہ میں درج کر لیا گیا ہے، درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو دفتر لے کر آتا جاتا ہوں دس بجے دفتر چھوڑنے جا رہا تھا کہ راوی پل پر رش تھا ، اسی اثنا میں دو لڑکے بائیک پر آئے اور نازیبا حرکات شروع کر دیں،آوازیں کسیں، بدتمیزی کی، میرے منع کرنے کے باوجود وہ باز نہ آئے اور مجھے بھی گالم گلوچ کی