fbpx

 الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا سندھ حکومت کا فیصلہ مسترد کردیا

 الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا سندھ حکومت کا فیصلہ مسترد کردیا۔

الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن 15 جنوری کو ہی کروانے کا فیصلہ کیا۔سندھ میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے ہنگامی اجلاس میں سندھ حکومت کے اقدام پر برہمی کا اظہارکیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں کوئی بھی بلدیاتی انتخاب کرانا نہیں چاہتیں۔ اسلام آباد بلدیاتی قانون میں ترمیم کا سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالا گیا۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تمام انتظامات مکمل تھے دودن پہلے عین وقت پر سندھ حکومت نے ایسا اقدام کیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد کی صورتحال پر بھی غورکیا گیا۔اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر، ممبران،ا سپیشل سیکرٹری، ڈی جی لاء، ڈی جی لوکل گورنمنٹ الیکشن سمیت دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ روز کراچی، حیدر آباد اور دادومیں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا تھا۔

یاد رہے کہ  ایم کیوایم کی جانب سےحلقہ بندیوں پر تحفظات کے بعد سندھ حکومت نے کراچی، حیدر آباد اور دادو میں پندرہ جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ بلاول بھٹو کی صدارت میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے ہونے والے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔ ایم کیو ایم کے حلقہ بندیوں پر تحفظات ہیں ، چاہتے ہیں اتحادیوں کے مطالبات کو سنجیدہ لیا جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی، حیدرآباد اور دادو میں15 جنوری کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جارہے ہیں البتہ سندھ کے باقی تمام اضلاع میں الیکشن شیڈول کے مطابق ہوں گے ۔ شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ دادو میں سیلابی پانی کے باعث الیکشن ملتوی کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ چکی ہے شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم ٹنڈوالٰہ یار، ٹھٹہ، بدین، سجاول ،مٹیاری،جامشورو،ٹنڈو محمد خان میں الیکشن شیڈول کے مطابق پندرہ جنوری کو ہی ہونگے۔

بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سے فاروق ستار کی سربراہی میں متحدہ کے وفد کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں ایم کیو ایم وفد نے سندھ کابینہ کے بلدیاتی حلقہ بندیوں کے حوالے سے کئے گئے فیصلے پر شکریہ ادا کیا، ایم کیو ایم کے وفد میں فیصل سبزواری ، مصطفیٰ کمال، وسیم اختر اور جاوید حنیف بھی شریک تھے۔ دوسری جانب انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو تحریک انصاف نے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے، ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی بی ٹیم کے طور پریشر بناتی رہی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں شکست کا خوف پی ڈی ایم کے اعصاب پر سوار ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ملکر بھی عوام میں جانے سے گھبرائے ہوئے ہیں ۔جمہوریت کی بات کرنے والے عوام کے جمہوری حق سے خوفزدہ ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ حکومت کے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے اعلان کی مذمت کرتے ہیں. پیپلز پارٹی نے چوتھی مرتبہ کراچی کے الیکشن کو ملتوی کیا ہے.سندھ حکومت کے سامنے عوام کی یا پھر عدالتوں کے حکم کی کوئی حیثیت نہیں.کراچی کے عوام گھروں سے نکلیں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں۔ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم نے کہا ہے کہ رات کی تاریکی میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم نے کراچی، حیدرآباد پر شب خون مارا ۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے ہمارا حق چھین لیا ہے فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے ۔ عدالت اور الیکشن کمیشن بھی جائینگے، حافظ نعیم نے کہا کہ کارکن تیار رہیں ، آج لائحہ عمل کا اعلان کرینگے،