لاہور پولیس کا یاسمین راشد کی وزیرداخلہ و دیگرحکام کیخلاف مقدمے کی درخواست لینے سے انکار

0
65

لاہور میں تھانہ شفیق آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی وزیرداخلہ اور پولیس حکام کے خلاف مقدمے کی درخواست لینے سے انکار کردیا۔

باغی ٹی وی : یاسمین راشد نے درخواست میں الزام لگایا گیا کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اور ایس ایس پی سٹی کی ایما پر پولیس نے زبردستی گاڑی سے کھینچا، گاڑی پر ڈنڈے برسائے، شیشے ٹوٹنے سے وہ زخمی ہوئیں بیٹی اور ہمشیرہ نہ بچاتےتو پولیس اہلکار جان سے مار دیتے۔

سینیٹر اعظم سواتی اور یاسمین راشد حکومت کے خلاف تھانہ پہنچ گئے

تھانے کے ایس ایچ او نے درخواست لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یاسمین راشد پر تشدد اور توڑپھوڑ کے الزامات کے تحت 2مقدمات درج ہیں، پہلے وہ ان مقدمات میں شامل تفتیش ہوں۔

میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد کے وکیل نے کہا کہ پولیس کی جانب سےد رخواست وصول نہ کرنا افسوسناک ہے۔

قبل ازیں یاسمین راشد نے کہا تھا کہ اگر میڈیا کے کیمرے نہ لگے ہوتے تو شاید مار کٹائی قتل و غارت میں تبدیل کردیتے،ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں پر گولیاں مارنے والے لوگ بھی یہی تھے،ہمارے مشکل حالات میں میڈیا نے ہمارا ساتھ دیا،اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ فاشسٹ اور امپورٹڈ حکومت کا چہرہ دکھایا.

انہوں نے کہا تھا کہ 72 سالہ زندگی میں ایسی بربریت پہلے کبھی نہیں دیکھی،ڈی چوک میں 34 ہزار شیل فیملیز پر چلائے گئے،ہم نے دو دن سے کوشش کررہے تھے کہ شفیق اباد تھانے میں پرچہ درج کرائیں،جس طریقے سے ڈنڈے برسائے گئے وہ سب کے سامنے ہے،کونسے گلو بٹ تھے جو ہم پر ڈنڈے برسارہے تھے،ہماری کہیں شنوائی نہیں ہوئی الٹا ہمارے اوپر ایف آئی آر درج کی گئی-

حج آپریشن کے تمام کرائے امریکی ڈالرز کے مساوی پاکستانی روپوں میں ہونگے،پی آئی اے

یاسمین راشد نے کہا تھا کہ مرد پولیس والا خواتین کو ہاتھ نہیں لگا سکتا لیکن یہ ہمیں کھینچتے رہے،ہماری ایم پی اے راشدہ کے گھرگھسے انہیں گھسیٹا،رانا ثناء اللہ جو قاتل ہے جس کے سر ماڈل ٹاؤن سانحہ بھی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ہمارے سامنے آئیں تو ہم نے پکڑ نہ لیا تو کہنا،کسی بزرگ، کسی خاتون ،کسی بچے کا کوئی احساس نہیں ہوا،دس سال کی بچی کو منہ پرتھپڑ مارے گئے،فیصل شہید کی بیوی بتا رہی تھی کہ جائے نماز سے اسے کھینچا،ہم ممی ڈیڈی پارٹی نہیں ہیں ہم نے بتا دیا کہ ہم لڑنا جانتے ہیں،

انہوں نے کہا تھا کہ مریم نواز کہتی ہے لوگوں کے بچوں کو مروا رہے ہیں،میری بیٹی میری بہن بھی میری گاڑی میں موجود تھیں،تمہاری آل اولاد اور بھائی لندن میں بیٹھے ہیں،سپریم کورٹ سے اپیل کرتی ہوں کہ ہم پر جو ظلم کیا گیااس پر سووموٹو لیں،پولیس نے جو غنڈا گردی کی ،لوگوں کو مارا پیٹا، ہمارا ورکر پل سے نیچے پھینکا ہمارا لیڈر عمران خان ہے انہوں نے جرت مندانہ فیصلہ کیا،اگر واپسی کا فیصلہ نہ کرتے تو تصادم ہوتا،یہ پولیس بھی ہماری اپنی پولیس ہے .ہم اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرائیں گی،عمران خان کا موقف اور بیانیہ بھی قبول ہوگیا ہے،یہ گھس پیٹیے اپنے آپ کو بچانے کے لیے نیب قوانین میں ترمیم کی-

مارچ کے شرکاء مسلح تھے،عمران خان کا اعتراف

Leave a reply