fbpx

لوڈشیڈنگ ‘‘کا جن کب قابو میں آئیگا ؟ تحریر: محمد انور

پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی بے حد اضافہ ہو گیا ہے ۔بجلی کی پیداوارمیں کمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے اور شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ لوڈشیڈنگ سے جہاں صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں عام تاجر بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں اور ان کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ایک طرف توسال 2020 کوویڈ کی نذر ہوگیا۔ تاجر حضرات کورونا کے باعث کاروبارنہ کرسکے اور اب گرمیوں میں کوویڈ میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تو ان کو بجلی کی قلت نے متاثر کردیا۔
توانائی کے بحران نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اورملک میں ہرطرف روشنیاں گل ہورہی ہیں۔ صنعتی پیداوار‘ گھریلو زندگی اورسماجی ، معاشی اور دفتری معمولات درہم برہم ہوچکے ہیں۔ معاشی ترقی بے روزگاری میں اضافہ اور غربت کے پھیلاؤ میں بھی بجلی کی کمی اور اس کی قیمت میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو بجلی کی اس قلت سے متاثر نہ ہو کھانے پینے سے لیکر پیداوار تک ہر چیز تو بجلی کے تابع ہے۔ اگر بجلی نہ تو انسان ایسے ہوجاتا ہے جیسے بینائی کے بغیر ہو۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو بجلی نہیں مل رہی لیکن بجلی کے بل میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، الٹا اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس وقت جو بجلی عوام کو میسرکی جارہی ہے وہ نہ ہونے کے مترادف ہے۔ عام روٹین میں جو وولٹج مہیا کئے جاتے ہیں وہ 220 یا اس سے زائد ہوتے ہیں مگر اس وقت جو وولٹج عوام کو مل رہے ہیں وہ صرف 100ہیں جو گھریلو برقی آلات کونہیں چلا سکتے ۔ لوگ اتنی گرمی میں پانی سے بھی تنگ ہیں کیونکہ 100وولٹج سے واٹر پمپ نہیں چلتے بلکہ جل جاتے ہیں اورعوام پانی کے لیے باہر نہروں یا نلکوں کا رخ کرتے ہیں۔ فریج کا چلنا تو ممکن ہی نہیں بلکہ اس گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کئی سوروپوں سے زائد کا برف بازار سے خرید کر استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ بجلی کا بل اپنی آب و تاب کے ساتھ آرہا ہے۔ بجلی ملے نہ ملے مگر بل ہر بار گھر کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔
پاکستان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہونا کوئی نئی بات نہیں یہ تواب معمول کا حصہ ہے۔ جس کو پورا رکھنے کے لیے ہر قدم اٹھانا منظور ہے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نئے پاکستان یا پرانے پاکستان کا نہیں ہے یہ ہردور کا مسئلہ ہے نوازشریف، پرویز مشرف ، زرداری اور اب عمران خان کی حکومت میں بھی لوڈشیڈنگ زوروں شور سے جاری ہے۔ ہر دور میں اس پر قابو پانے کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے رہے مگرحقیقت میں مکمل قابوپانے کے لیے خاص اقدامات نہیں کئے ہرحکومت نے تھوڑا بہت قدم اٹھا کریہ ثابت کرنے کے کوشش کی جیسے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔ گرمی کی شدت جون کے وسط سے لیکر اگست تک بھرپور عروج پر ہوتی ہے اور ان ماہ میں ہی حکومت کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔
گرمی کی شدت کو دیکھ کر سکولوں کی چھٹیاں کردی جاتی ہیں ، دفتری اوقات میں تبدیلی کردی جاتی ہے مگر اس کا کیا کریں کہ گھر بیٹھے وقت میں جب گرمی آگ برسا رہی ہوتی ہے اوراوپر سے بجلی بھی نہ ہوتو پھر گرمی سے بچنے کے لیے کیافارمولااستعمال کرنا چاہیے؟مجھے یاد ہے ہر سال لوڈشیڈنگ جب عروج پر ہوتی ہے اور وام کا جینا مشکل ہورہا ہوتا ہے تو عوامی فرمائش پرایک دو کالم لکھنے پڑتے ہیں اوریہ بھی پتہ ہے کہ کالم لکھنے سے اس کا حکومتی سطح پر کبھی کوئی اثر نہیں ہوگا مگر اتنا ضرورہے کہ اپنا ضمیر مطمئین ہوجاتا ہے کہ عوام کی پریشانی حکام بالا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کردیا ہے ۔
حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے اور ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہو کیونکہ مسائل ہمارے مستقبل کے دشمن ہیں جن کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ میٹرو بس یا اورنج ٹرین ہو، ہاؤسنگ سکیم ہو یا قرضہ سکیم ، ان سب سے زیادہ ضروری ہے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لیے حکومت ترجیح بنیادوں پر اقدام اٹھانا ہوں گے کیونکہ ہرکاروبار، ادارہ، انڈسٹریز اور انسانی ضروریات زندگی کا تعلق بجلی سے ہے اگر بجلی نہ ہو تو ہرشے متاثرہوتی ہے۔ اس لئے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ لودشیڈنگ کے خاتمے کے مسئلہ جلد ازجلد حل کرے تاکہ عوام سکون سے جی سکے۔