لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

لاک ڈاؤن از قلم عشاء نعیم

ہائے! وہ کشمیر میں قید تھے
جنھیں لوگ سبھی تھے بھول گئے
وہ رات دن تھے پکارتے
ہم اپنی تجارت تاڑتے
وہ لاشیں اٹھاتے جاتے تھے
ہم آگے بڑھتے جاتے تھے
ڈر تھا ذرا پل جو ٹھہرے
شاید چھا جائیں اندھیرے
خون دیکھا ، سی لیں زبانیں
تم نے چمکانی تھیں دکانیں
آواز ضمیر کی یوں دبا لی
کوئی کر ڈالی ایک آدھ ریلی
ضمیر کی ہر مار جھیلی
ذرا نکلی جو سسکاری دبا لی

پھر آہوں نے رستہ پایا
خدا کو جا کر دکھڑا سنایا
عرش بھی کانپ گیا ہوگا
ہر فرشتہ رو دیا ہوگا
پھر رب کی رحمت روٹھ گئی
پھر قہر کی یوں بارش ہوئی
پھر تجارت ساری بھول گئی
پھر قید ہی سب کو قبول ہوئی
اور تجارت کو یوں لاک لگا
تجارت کا نام ہی خوف بنا
کہتے تھے جنگ کے متحمل نہیں
بن تجارت کے کچھ بھی نہیں
اب ساری دنیا کو جاں کی پڑی
یاد آئے برما، کشمیر و فلسطیں؟
اب جاں ہی سب کو پیاری ہے
یہ مال و دولت کچھ بھی نہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.