لاوڈ سپیکر پر اذان دوسروں کیلئے تکلیف دہ، بند ہونی چاہیے

0
80

بالی وڈ کے معروف شاعر ،مصنف،اور ملحد جاوید اختر کا کہنا ہے کہ لاوڈ سپیکر پر اذان دوسروں کیلئے تکلیف دہ، بند ہونی چاہیے

باغی ٹی وی : بالی وڈ کے معروف شاعر ،مصنف،اور ملحد جاوید اختر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اذان کے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہند میں تقریبا 50 سال تک اذان بلند آواز سے کہنا حرام تھی پھر یہ حلال ہو گیا کہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہوگا لیکن اس کا خاتمہ ہونا چاہئے اذان ٹھیک ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر دوسروں کو تکلیف کا باعث بنتا ہے۔


جاوید اختر کی اس ٹویٹ پر صارفین نے امختلف تبصرے کئے اور ایتھیسٹ جاوید اختر کو تنقید کا نشانہ بنایا


اظہر نامی صارف نے لکھا کہ میں اپ کی رائے سے متفق نہیں ہوں پلیز اس طرح کے تبصرے مت کریں جو اسلام اور عقیدہ سے وابستہ ہیں
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ہر بار اونچی آواز میں گانے نہیں چلا رہے ہیں اور برائی کے راستے چل رہے ہیں اذان نماز کے لئے آنے اور زندگی کے صحیح راستے پر چلنے کے لئے سب سے خوبصورت دعوت ہے


صارف اظہر کے جواب میں ایتھیسٹ جاوید اختر نے لکھا کہ تو کیا آپ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اسلامی اسکالرز جنہوں نے لگ بھگ پچاس سالوں سے لاؤڈ اسپیکر کو حرام قرار دیا تھا وہ سب غلط تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو پھر اتنا کہہ دیں میں آپ کو ان عالم کے نام بتاؤں گا۔


راج ٹی نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ وہ بہت باشعور ہے .. اسے احساس ہوا کہ اس کا ملحد چل چکی ناکام ہوچکی ہے ..وہ بے نقاب ہو رہا تھا .. اس کی طرف سے یہ ٹویٹ صرف ایک توازن عمل ہے۔
https://twitter.com/ArnabGoswame/status/1259135184999514122?s=20
ارنب گوسوانی نامی صارف نے لکھا کپ دنیا میں کون سے ملک کے شہری اپنے ہی فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں؟اگر انھیں غدار کہا جاتا ہے تو پھر دین کا چراغ لہرانے لگتا ہے ، خطرے میں آجاتا ہے !!


ایک صارف نے مزاحیہ میم شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ لبرل ان کے جیسے ہوتے ہیں


شعیب راج نامی صارف نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ ہم آپ کی رائے کی پروا کیوں کریں گے؟حال ہی میں اسپین میں لگ بھگ 500 سال بعد اذان کو لاؤڈ اسپیکر پر اس بحران یعنی کورونا وائرس کے وقت اس بحران کے خاتمے کے لئے دی گئی تھی … یہاں تک کہ وہ اس کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر رہے ہیں …..مجھے آپ کے "ملحد” ہونے پر بہت ترس آتا ہے !!!!!
https://twitter.com/izubairansari/status/1259141633293070342?s=20
زبیر انصاری نامی ایتھیسٹ جاوید اختر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کا مقصد لوگوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے کے لئے بلانا ہے۔ اور اذان دنیا کی خوبصورت آواز ہے۔ یہ کسی بھی قیمت پر نہیں رکے گی- اور آپ اور سونو نگم نے اور بہت سے لوگ سمجھ لیں جو یہ سوچتے ہیں کہ اذان کے دوران وہ پریشان ہوتے ہیں توپھر اپنے کانوں کوبند رکھیں۔
https://twitter.com/ron_naber/status/1259136333320200193?s=20
ایک صارف نے لکھا کپ یہ ملحد ہے۔ آدھے ہندوستان کو یہ تصور نہیں ملتا ہے اور وہ اس کے نام پر گندگی پھینکتے رہتے ہیں۔ میرے لئے یہ حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہ آدمی مذہب سے نفرت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھارتی معروف گلوکار سونو نگم نے تین سال قبل 2017 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اذان کی آواز کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا سونو نگم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ خدا آپ سب کا بھلا کرے میں مسلمان نہیں ہوں اور مجھے اذان کی آواز سن کر صبح اٹھنا پڑتا ہے انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی گلوکار کی اس ٹویٹ پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا تھا

بھارتی گلوکار سونو نگم کو 2017 میں کی گئی ٹویٹس پر پھر تنقید کا سامنا

بھارت وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کررہا ہے مہوش حیات

Leave a reply