جڑانوالہ سانحہ،میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا،پادری،100 افراد گرفتار

ن تحقیقات کی روشنی میں مناسب کاروائی عمل میں لائی جائے
0
20
jaranwala

پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں گزشتہ روز افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے املاک کو آگ لگا دی، چرچوں سے سامان باہر پھینکا، اور چرچ جلا دیئے، صلیب اتار دی، واقعات کے بعد جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، شہر میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے، آج عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب نے رات گئے جڑانوالہ کا دورہ کیا ہے، پنجاب کی نگراں حکومت نے واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مسیحی خاندانوں کی املاک اور چرچوں کو جلانے والے 100 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، دیگر کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے،ترجمان پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کارروائی کی اور مساجد سے یہ اعلان بھی کروایا گیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے اشتعال بڑھ چکا تھا اور 5 سے 6 ہزار کا مجمع مختلف ٹولیوں کی صورت میں جڑانوالہ کے مختلف علاقوں میں اکٹھا ہوا اور انہوں نے ایک اقلیت کی آبادیوں پر حملہ کیا

جڑانوالہ کے گرجا گھروں کے انچارج بادری خالد مختار کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے چھ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، ان کی اپنی رہائش گاہ پیرش پادری ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا مظاہرین دو گھنٹے تک ان کی رہائشگاہ کے باہر جمع رہے اور وہ بمشکل اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،پادری خالد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار پولیس کو بلایا لیکن وہ مدد کے لیے نہیں آئے

سانحہ جڑانوالہ کے ذمہ داران پر تھانہ سٹی جڑانوالہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ میں دہشت گردی، اقدام قتل، پولیس مزاحمت اور توہین مذہب سمیت 18 دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ 34 نامزد اور 600 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔مقدمہ میں نامزد 29 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ملزم یسین نے مسجد میں اعلان کرکے لوگوں کو اکٹھا ھونے کی دعوت دی جبکہ مفتی یونس اور آصف اللہ شاہ بخاری نے پرتشدد احتجاج کی قیادت کی۔مظاہرین کے حملہ سے ایس ایچ او سمیت پولیس ملازمین بھی زخمی ھوئے۔مظاہرین نے جتھے کی شکل میں بستی عیسائیوں میں گھس کر چرچوں اور گھروں کی توڑ پھوڑ کرتے ھوئے آگ لگا دی۔ پرتشدد ہجوم کو شیلنگ کرکے کنٹرول کیا گیا۔

پاکستان میں چرچ حملوں پرگہری تشویش ہے،امریکا
جڑانوالہ واقعہ پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چرچ حملوں پرگہری تشویش ہے آزادی اظہار اور مذہبی آزادی ہر کسی کا حق ہے ،تشدد کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، تشدد میں ملوث افراد سے پرامن رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں

فساد پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، آصف علی زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری نے جڑانوالہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں ،
ہمارے مذہب میں عبادت گاہوں کے احترام کا درس دیا گیا ، انتشار اور فساد پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ،

عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال رکھیں،چیئرمین سینیٹ
چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہوں، املاک کو نقصان پہنچانے والے واقعات کی مذمت، فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، مرزا محمد آفریدی نے جڑانوالا میں اقلیتی عبادت گاہوں اور املاک پر حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ انھوں نے فریقین سے بھی اپیل کی کہ وہ صبرو تحمل سے کام لیں اور عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال رکھیں۔چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اسے ایک دلخراش واقعہ قرار دیا اور کہا کہ میڈیا پر اس واقعے کے مناظر دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ انھوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔انھوں نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کو امن اور محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ پرامن بقائے باہمی کے لئے برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔ انھوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ان تحقیقات کی روشنی میں مناسب کاروائی عمل میں لائی جائے

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیر اطلاعات
پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے جڑانوالہ واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گھناؤنا فعل سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پولیس اور انتظامیہ کو قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے جڑانوالہ فیصل آباد میں پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔، انہوں نے کہا کہ مذاہب اور مذہبی عبادت گاہوں پر حملے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہیں

دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کو جلا کر دین کی کوئی خدمت نہیں ہوتی،احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ کے دلخراش واقعات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ بعض مذہبی گروہوں نے آذادانہ طور پہ عوام میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے جنونیت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اسلامی ریاست میں جتھہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کو جلا کر دین کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ ریاست کے اداروں کو ان گروہوں کو قابو میں لانا ہو گا چونکہ یہ مخصوص حالات میں پنپے ہیں۔ کوئی شخص قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا چونکہ ہر جرم کے لئے قانون موجود ہے۔ ہم نے پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا چونکہ مسلمان بحیثیت اقلیت خود کو متحدہ ہندوستان میں غیر محفوظ سمجھتے تھے۔ اگر پاکستان میں کوئی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھے تو یہ نظریہ پاکستان کی نفی ہو گی۔ 12-14 سال کے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کر جس طرح ایک مذہبی جماعت کے نعرے لگاتے ہوئے فوٹیج میں نظر آ رہے ہیں یہ رجحان لمحہ فکریہ ہے اور سیالکوٹ کے دلخراش واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور علماء کو معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا۔ اس واقعہ سے پہلے بھارت میں منی پور کے واقعات دنیا کو بھارت میں اقلیتوں سے ناروا سلوک پہ متوجہ کر رہے تھے اس واقعہ نے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ کیا یوں دین کی کوئی خدمت ہوئی یا ملک کی نیک نامی ہوئی؟
مسیحی برادری نے پاکستان کو ووٹ دیکر تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ وہ بھی پاکستان میں اتنے حصہ دار ہیں جتنے مسلمان ہیں۔ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس میں سب پھولوں نے ملکر اس کو حسین بنانا ہے اور ہم سب نے ہم آہنگی اور یکجہتی کیساتھ رہنا اور بسنا ہے۔ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے۔

جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہ پر حملے کا معاملہ ،اسلام آباد میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی سخت کر دی گئی،”منیارٹی پروٹیکشن یونٹ” میں 70 جوان تعینات کردیے گئے۔تمام ڈی پی اوز اپنے علاقہ میں اقلیتی عبادتوں گاہوں اور آبادیوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گےہر ڈویژن کی سطح پر اقلیتی کمیٹیوں سے رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ ایس ایس پی آپریشنز کی زیر نگرانی فرائض سر انجام دے گا۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ کےلیے حالیہ بھرتی میں سے بھی جوان منتخب کیے گئے ہیں۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ کا قیام نیشنل منیارٹیز کمیشن کی سفارشات کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے۔

مسیحی برادری کے گھروں اور مقدس املاک پہ حملہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے،سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ جڑانوالا میں توہین مذہب کے الزام میں چرچ اور مسیحی برادری کے گھروں پہ حملہ افسوسناک ہے، مسیحی برادری کے گھروں اور مقدس املاک پہ حملہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اسلام اقلیتوں کے اور انکی عبادت گاہوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے،شرپسند عناصر اسلام اور پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں حکومت اورپولیس شرپسندوں کے خلاف کاروائی کرے،

مسجد سے اعلان کر کے عوام کو اشتعال دینے والا ملزم گرفتار
پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے جڑانوالہ میں مسجد سے اعلان کر کے عوام کو اشتعال دینے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے،پولیس حکام کے مطابق ملزم یاسین نے مساجد سے اعلانات کئے، جس کی ویڈیو منظر عام پر آئیں، ملزم کو ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزم ویڈیو میں اعلان کر رہا ہے کہ لوگ باہر جمع ہوں، قرآن مجید کی بے حرمتی ہوئی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کو جلد بھی گرفتار کر لیا جائے گا،پولیس حکام کے مطابق واقعہ کے دو مقدمے درج کئے گئے ہیں،جس میں 37 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ چھ سو سے زائد نامعلوم افراد لکھے گئے ہیں، ملزمان نے توڑ پھوڑ کی، گھروں اور گرجا گھر کو آگ لگائی، مقدمات میں دہشتگردی اور توہین مذہب سمیت 13 سے زائد دفعات شامل ہیں.

سانحہ جڑانوالہ: مسیحی وکلا نے لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں احتجاج کیا، مسیحی وکلا کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک تھی، مسیحی وکلا نے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کردیا،وکلاء کا کہنا تھا کہ معصوم مسیحی لوگوں کے گھر جلانا گھر غیر قانونی عمل تھا،اس کی مذمت کرتے ہیں.

جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے،سید ناصر حسین شاہ
پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے سابق صوبائی وزیر، سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ پوری قوم کیلئے باعث افسوس و ندامت اور قابل مذمت ہے، جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے،پنجاب حکومت واقعہ کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کو انجام تک پہنچائے، پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کا ضامن ہے، قیام پاکستان اور دفاع پاکستان میں اقلیتی برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ،

پیپلز پارٹی لاہور کی سیکرٹری اطلاعات اور سابق ایم پی اے فایزہ ملک نے فیصل آباد جڑانوالہ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ھے کہ اس سانحہ کی ایک آزادانہ انکوائری کروای جائے تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں اور آئندہ کے لیے ایسے نا خوشگوار واقعات کی روک تھام بھی ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی اولین زمہ داری ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث اصل چہروں کو قوم سامنے لائے ایک مشتعل ہجوم کی طرف سے قانون ہاتھ میں لینے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ہم سب کو اس بات کا اچھی طرح سے علم ہے کہ دین اسلام تمام مذاہب اور آسمانی کتب کا مکمل

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

Leave a reply