بھارت : مسلمانوں کا قتل عام جاری ، 43 شہید ، سیکڑوں زخمی ، سیکڑوں گرفتار، ہرطرف آہ و بکا جاری

0
26

نئی دہلی : بھارت : مسلمانوں کا قتل عام جاری ، 45 شہید ، سیکڑوں زخمی ، سیکڑوں گرفتار، ہرطرف آہ و بکا جاری ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارالحکومت کی زمین مسلمانوں پرتنگ کردی گئی، مسلم کُش فسادات میں مرنے والوں کی تعداد45 ہوگئی ہے جبکہ فسادات میں 48گھنٹے میں مزید تین مساجد ، دومزار اوراسی طرح ایک مدرسے پربھی حملہ کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والے فسادات کےبعد دہلی کے حالات تاحال کشیدہ ہیں، مسلم ہندو فسادات میں اب تک 43 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، مرنےوالوں میں سب مسلمان ہی ہیں ، جبکہ ڈھائی سو سے زائد افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

دلی ہائی کورٹ کےجج جسٹس ایس مرلی کی بازپرس انتظامیہ کو اچھی نہیں لگی اور حکومت نےجج کا تبادلہ کردیاہے،جسٹس ایس مرلی نےسیاسی رہنماؤں پر مقدمات درج کرنے کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ ہم دلی میں دوسرا انیس سو چوراسی نہیں ہونے دیں گے، کم از کم اس عدالت کے ہوتے ہوئے تو ایسا نہیں ہوگا جبکہ شدیدتنقیدکے بعد دلی پولیس کے سربراہ کو بھی تبدیل کردیاگیا ہے۔

دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں بڑے اجتماعات پر پابندی دس گھنٹے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول ن کےمطابق ہنگاموں کے دوران لوگوں کو پولیس پر اعتماد نہیں تھا جب کہ دہلی کے کمشنر پولیس کا کردار بھی مایوس کن تھا ، دہلی میں اڑتالیس گھنٹے کے دوران مزید تین مساجد . ایک مدرسہ اوردو مزارجلادیئےگئے۔

مودی سرکار نے متاثرہ علاقوں میں کرفیولگادیا ہے اور نمازجمعہ کے اجتماعات پربھی پابندی عائد ہے،متاثرہ علاقوں میں تجارتی مراکزبھی تاحال بند ہیں جبکہ مسلمانوں کے خاکستر گھر اور تباہ کاروبار ان پر گزری قیامت کاپتہ دے رہے ہیں۔

خیال رہے بھارت کےگلی کوچوں میں آرایس ایس کےغنڈے سرعام ڈنڈے اور تلواریں لیے مسلمان بستیوں پر حملہ کرتے اور جانیں لیتے رہے ، مسجد شہید کی، مسلمانوں کےگھر اور دکانیں جلاڈالیں۔ پولیس بھی بلوائیوں کے ساتھ تھی، وردی میں ملبوس غنڈوں نے جلاو گھیراو میں ساتھ دیا۔

جامعہ ملیہ اورجواہرلال نہرویونیورسٹی کےطلبانے وزیراعلی اروند کیجریوال کی رہائشگاہ جانے کی کوشش کی تو پولیس نے طلبا کومنشترکرنےکےلئے آنسوگیس اورواٹرکینن استعمال کی بلوائیوں کو پکڑنے کے بجائےدلی پولیس کو پُرامن مظاہرین کو دیکھتےہی گولی مارنے کاحکم دیا۔

Leave a reply