بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

0
42

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی۔

باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جان کی بازی ہار گئے رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 14 جون سے اب تک ایک ہزار 265 ا موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث آزاد کشمیر میں 42،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں 257،سندھ میں 470،پنجاب میں 188 اور خیبر پختونخوا میں 285 افراد جاں بحق ہوئے-

این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 35 ہزار 584 مویشی مر چکے ہیں،اب تک بارشوں اور سیلاب سے 14 لاکھ 27 ہزار 39 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا،

رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پلوں کو نقصان پہنچا،پنجاب میں 130 کلومیٹر،خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 589 کلومیٹر شاہرائیں متاثر ہوئیں ،سندھ میں 2 ہزار 328 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،60 پلوں کو نقصان پہنچا،بلوچستان میں ایک ہزار 500 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،18 پلوں کو نقصان پہنچا-

کوہلو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد سانپوں کے ڈسنے کے کیسزمیں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رواں ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں سانپ ڈسنے کے 3 درجن سے زائد کیسزرپورٹ ہوئے-

نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

دوسری جانب سیلاب متاثرین کے شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں 6 ماہ تک توسیع کردی گئی نادرا نے سیلاب متاثرین کی سہولت کے لیےایکسپائر ہونے والی شناختی کارڈز کو آئندہ 6 ماہ کے لیے قابل استعمال قراردے دیا۔ رعایت کا اطلاق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہوگا۔

کوئٹہ، لسبیلہ، کوہلو سمیت بلوچستان بھر کے شہریوں کے ایکسپائر شناختی کارڈ 31دسمبر تک قابل استعمال ہیں۔ دادو، میرپور خاص اور لاڑکانہ سمیت سکھر ریجن کے سیلاب متاثرین کو بھی یہ سہولت دی گئی ہے۔

نادرا نےڈیرہ غازی خان ریجن کےلیےبھی شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں توسیع کردی ہےچیئرمین نادرا کےمطابق یکم مئی سے زائد المعیاد اور تیس نومبر تک ایکسپائر ہونے والے تمام شناختی کارڈز اکتیس دسمبر تک قابلِ استعمال رہیں گے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

Leave a reply