fbpx

ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں ، ان کی موجودگی میں آپ کیوں آئے،سپریم کورٹ

ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں ، ان کی موجودگی میں آپ کیوں آئے،سپریم کورٹ

صدارتی نظام رائج کرنے سے متعلق درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف سماعت ہوئی

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا دراخواست گزار معاملے میں متعلقہ بھی ہے کہ نہیں ؟ کیا یہ دراخواستیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کوئی ٹھوس بات کرتی بھی ہیں کہ نہیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں موجود ہیں، ان کی موجودگی میں آپ کیوں آئے،درخواست گزار نے کہا کہ سیاستدان اگر ملک کے مفاد اور فلاح کا نہیں سوچتے تو کیا میں بھی خاموش ہو جاؤں،عدالت نے کہا کہ آئین کے تحت وزیراعظم ریفرنڈم کے لیے معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ معاملہ ابھی تک وزیراعظم یا پارلیمان کے سامنے آیا بھی ہے کہ نہیں؟ کیا صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے صرف فرد واحد کی خواہش ہے؟ آئین بن رہا تھا اور درخواست گزار اس وقت رکن پارلیمنٹ تھے،

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت درخواست گزار نے پارلیمانی نظام حکومت کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ درخواست گزار احمد رضا قصوری نے کہا کہ میں نے تو اس وقت بھی آئین کے دستاویز کی مخالفت کی تھی، جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ آپ خود کو کیسے آئین بنانے والوں میں شمار کر رہے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں سیاسی سوال ہے جو عدالت سے متعلقہ نہیں درخواست گزار نے کہا کہ میں نے ملک کو 1976 میں دو لخت ہوتے دیکھا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کو غیر متعلقہ معاملات میں مت اُلجھائیں،

@MumtaazAwan

درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا کہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے، پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہوچکا، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ضروری ہوچکا ہے۔

عدالت سے استدعاہے کہ ملک میں ریفرنڈم کروانے کا موقع دیا جائے۔ 1973 کا آئین بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ درخواست میں صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، الیکشن کمیشن سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

مولانا اسلام آباد فتح کرنے آئے تھے، نئے پنجاب میں فرق نظر آئیگا،اپوزیشن کی سیاست ختم، وزیراعظم

وزیراعظم کے آبائی حلقے میں پولیس گردی، شہریوں نے مجبور ہو کر کیا قدم اٹھایا؟

صدارتی نظام….ہمیں یہ کام کرنا ہی ہو گا، گورنر سندھ خاموش نہ رہ سکے

پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام،اپیلیں سماعت کے لئے مقرر