fbpx

عثمان بزدار کو بطور وزیر اعلیٰ بحال کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

عثمان بزدار کو بطور وزیر اعلیٰ عہدے پر بحال کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقررکر دی گئی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کل درخواست پر سماعت کریں گے

قبل ازیں عثمان بزدار کے بطور وزیر اعلیٰ استعفی منظوری کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا درخواست میں عمران خان ، عثمان بزدار ،حمزہ شہباز اورعمر سرفراز چیمہ فریق بنائے گئے ہیں،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار نے اپنا استعفٰی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو بھجوایا قانون کے مطابق وزیر اعلی ٰاستعفیٰ گورنر کو بھجوا سکتے ہیں سابق گورنرنے غیر قانونی طور پر عثمان بزدار کا استعفٰی منظور کیا لاہور ہائیکورٹ عثمان بزدار کا استعفٰی منظور کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا سارا پراسس کالعدم قرار دیا جائے حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلی ٰکام کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں عثمان بزدار کو بطور وزیر اعلیٰ پنجاب بحال کیا جائے

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ پنجاب میں حکومتی اور انتظامی معاملات شدید آئینی بحران کا شکار ہیں۔ نئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے عمل کی آئینی اور قانونی حیثیت مخدوش اور مبہم اقدامات پر مشتمل ہے۔ سردار عثمان بزدار کے استعفے کے معاملے نے صوبے کے سیاسی معاملات کو پیچیدہ تر کر دیا ہے۔ہائی کورٹ سردار عثمان بزدار کی حکومت اور کابینہ کو بحال کر کے صوبے کو اس آئینی بحران سے نکالے۔ آئین کے آرٹیکل 130 (8) کے مطابق وزیرِ اعلیٰ اپنا استعفی خود تحریر کر کے گورنر کو بھیجتا ہے۔وزیراعظم کے نام سردار عثمان بزدار کے ٹائپ شدہ استعفیٰ کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔ قانون کے مطابق ایک کے بعد دوسری تحریکِ عدم اعتماد چھ ماہ سے پہلے نہیں لائی جا سکتی۔ سردار عثمان بزدار تاحال پنجاب کے آئینی وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ن لیگ نے پہلے تو سردار عثمان بزدار کے استعفے پر واویلا مچایا؛ بعد میں عدالت سے چھپائے رکھا۔

قبل ازیں پنجاب میں ایک اور آئینی بحران، وزیراعلی عثمان بزدار کا استعفیٰ غیر آئینی قرار دے دیا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس ایڈووکیٹ نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے مراسلے کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ااستعفیٰ آئین کے آرٹیکل 130 کی شب شق 8 کی خلاف ورزی ہے، اسی وجہ سے استعفیٰ غیر آئینی ہے،

واضح رہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے عثمان بزدار کے استعفی پر آئینی رائے مانگی تھی اور اس حوالے سے یکم اپریل کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزداروزیراعلی پنجاب کا یہ استعفا اس وقت کے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے منظور کیا جو کہ انہیں مخاطب ہی نہیں کیا گیا تھا گورنرپنجاب نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استعفا کی منظوری قانونی رائے طلب کی تھی

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے استعفے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف 16اپریل کو ہنگامہ اجلاس میں حکومتی امیدار چودھری پرویز الٰہی کو شکست دے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے لیکن تحریک انصاف کے رہنما اور گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے ان سے حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے حلف برداری تقریب ملتوی کر دی تھی اس کے بعد گورنر نے عثمان بزار کے استعفے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے رائے طلب کی تھی کیونکہ عثمان بزدار نے بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کو استعفا دیا تھا مگر قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ نے گورنر کو استعفا دینا ہوتا ہے

تین دفعہ شریفوں نے وعدے لئے جو کبھی پورے نہ ہوئے،پرویز الہیٰ پھٹ پڑے

ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

پنجاب اسمبلی میں دوبارہ جھگڑا ،پرویز الہیٰ بھی زخمی ہو گئے

پنجاب اسمبلی اجلاس، تصادم کے بعد پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج

مقدمہ درج نہ ہوا، پرویز الہیٰ عدالت پہنچ گئے