fbpx

نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نیب کے مختلف مقدمات میں ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت کی

نیب پراسیکیوٹرعدالت میں پیش ہوئے ،دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کی ٹرائل کورٹ سے بریت سے ضمانت منسوخی کی اپیلیں غیر موثر ہوچکی ہیں نیب پراسیکیوٹر کے موقف پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملزمان عدالت سے کب بری ہوئے؟ کیا احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کا نیب کے پاس حساب کتاب ہے؟

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ملزمان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب بیورو آفسز میں ملزمان کا تمام ریکارڈ رکھا جاتا ہے عدالت نے نیب سے احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

نیب نے ظہیر الدین،ناصر قادر،مسود اختر،سلیم اختر، خالد نعیم کی صمانت منسوخی کیلئے اپیلیں دائر کی تھی

خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف