کیوں نکالا کے شکوے کے بعد”انتقام نہیں”،پاکستان کی تعمیر نو کریں گے، نواز شریف نے بیانیہ د ے دیا

0
174

سابق وزیراعظم نواز شریف نے مینار پاکستان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہاں سے چھیڑوں فسانہ،کہاں تمام کروں، وہ میری طرف دیکھیں تو میں سلام کروں،آج کئی سالوں بعد آپ سے ملاقات ہو رہی مگر پیار میں کمی نہیں آئی، آج جو خلوص آنکھوں میں دیکھ رہا، یہ ناز ہے، ہمارا رشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہےنہ آپ نے دھوکہ دیا، نہ نواز شریف نے کبھی دھوکہ دیا، جب بھی موقع ملا بڑے خلوص کے ساتھ خدمت کی،دن رات ایک کر کے عوام کے مسائل حل کئے ، جب بھی موقع ملا کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، جیلوں میں مجھے ڈالا گیا، ملک بدر مجھے کیا گیا،جعلی کیسز مجھ پر ،شہباز شریف، مریم پر بنائے گئے،لیکن کسی نے ن لیگ کو نہیں چھوڑا، کون ہے جو نواز شریف کو پیاروں سے دور کر دیتا ہے، ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ہم نےلوڈشیڈنگ ختم کی، نواز شریف نے بجلی بنائی اور سستے داموں بیچی، ہم نے بجلی مہنگی نہیں کی، میں بل ساتھ لے کر آیا ہوں،نوا زشریف نے کارکنان سے مخاطب ہو کر کہا آئی لو یو ٹو، جتنی محبت آپ کرتے ہیں میں بھی آپ سے کرتا ہوں، آج آپکی محبت دیکھ کر سارے دکھ درد بھول گیا، یاد بھی نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں جا سکتے، انسان انکو کچھ دیر کے لئے فراموش کر سکتا ہے، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے، آپ جانتے ہیں،کاروبار چلا جائے پھر آ جاتا ہے لیکن پیارے جدا ہو جائیں تو کبھی واپس نہیں ملتے، آج میں سوچ رہا تھا کہ جب بھی میں کبھی وہاں پہنچتاتھا میری والدہ ،میری بیوی میرے استقبال کے لئے کھڑی ہوتی تھیں، آج میں جاؤں گا تو وہ دونوں نہیں ہیں، وہ میری سیاست کی نذر ہو گئیں، یہ بہت بڑا زخم ہے جو نہیں بھرے گا، میرے والد ،والدہ فوت ہوئے تو قبر میں نہ اتار سکا، میری بیوی فوت ہوئی تو قید خانے میں اطلا ع ملی، جیل خانے کے حکام سے پوچھو کہ میں اسکی منتیں سماجتیں کر رہا،میری بات کروا دو، میرے بیٹے سے بات کروا دو، میں پوچھنا چاہتا ہوں کلثوم کس حال میں ہے ، میری بات نہیں کروائی گئی، میں نے کہا میز پر دو دو فون ہیں، دو موبائل، دو لینڈ لائن، ایک کال ملا کر بات کروا دو تو جیل حکام کہنے لگے کہ اجازت نہیں، میں نے کہا کہ کس سے اجازت لینی ہے، تو اس نے کہا کہ میں نہیں کروا سکتا، میں سیل میں چلاگیا، جس میں چارپائی مشکل سے آتی تھی، یہ بات کروانا بھی مشکل کام تھا اسکے لئے، ڈھائی گھنٹوں کے بعد اسکا نمبر ٹو بندہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے آپکی بیوی کلثوم اللہ کو پیاری ہو گئی،ہم اب مریم کو اطلاع کرنے جا رہے جس پر میں نے کہا کہ اس کے پاس نہ جانا، میں نے کہا کہ اسکو میرے پاس لاؤ، یا میں جاؤں گا،ہماری ملاقات ایک ہفتے میں ایک گھنٹے کے لئے ہوتی تھی،پاس پاس ہو کر ہم ایک ہفتہ نہیں ملتے تھے،میں نے مریم کو بتایا تو وہ بیہوش گئی،اور گلے لگ کر رونے لگ گئی، کیا گزری ہو گی ان پر ، کیا سوچا ہو گا،یہ ہمارا ملک ہے، میں بھی اسی وطن کی مٹی سے پیدا ہوا، میں بھی سچا پاکستانی ہوں، پاکستان کی محبت میرے سینے میں ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا نام نہیں لیتا چاہتا، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والا نہیں

میرے زمانے میں روٹی 4 روہے کی تھی آج کتنے کی ہے ، نواز شریف کا پنڈال سے سوال
نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے ایٹمی دھماکوں کے وقت پانچ ارب کی پیشکش کی گئی، آج ہم ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہے ہیں اسوقت مجھے بھی کچھ مل جاتے لیکن میں اس مٹی کی بات کر رہا، اس مٹی نے اجازت نہیں دی کہ پاکستان کے مفاد کے خلاف جاؤں، دنیا کا طاقتور ترین صدر کہہ رہا ہے کہ دھماکے نہ کرنے، ہم نے کئے اور انڈیا کے دھماکوں کا جواب دیا،میری جگہ کوئی اور ہوتا، آپ جانتےہیں کون ہوتا؟ وہ امریکہ کے‌صدر کے آگے بول سکتا تھا، کیا اسی بات کی ہمیں سزا ملتی ہے، اسی بات پر ہماری حکومتیں توڑ دی جاتی تھیں، ہمارے خلا ف فیصلے آتے ہیں، میرے زمانے میں روٹی چار روپے کی تھی ،بتاؤ آج کتنے کی ہے؟آج 20 روپے کی روٹی ہے، اسلئے مجھے نکالا ، اس لئے کہ نواز شریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،یہ کہاں کا فیصلہ ہے؟ پھر ملک کا یہ حال ہو گیا کہ بربادیوں کی حد تک چلا گیا، اب واپس آئے گا، لائیں گے واپس اسکو ہم،

مجھے کیوں نکالا؟ نواز شریف کا مینار پاکستان پر ایک بار پھر سوال
نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتاؤ، پٹرول کتنے کا ملتا تھا میرے دور میں؟ میرے دور میں ساٹھ روپے لیٹر ملتا تھا یا نہیں آج کتنے کا ہے؟ اسلئے نکالا نواز شریف کو؟ آج پاکستان میں ڈالر کتنے کا ہے، میرے زمانے میں 104 کا تھا، آج 250کے لگ بھگ ہے، اس سے بھی اوپر ہے، اسی لئے پاکستا ن میں مہنگائی کا طوفان ہے، اسلئے نواز شریف کو نکالا تھا کہ اس نے ڈالر کو ہلنے نہیں دیا، روپیہ مضبوطی کے ساتھ کھڑا تھا، پتہ نہیں ہم ناشکرے کیوں ہیں، ملک ترقی کی طرف چل رہا ہے،اگر میری حکومت چلتی تو آج کوئی بیروزگار نہ ہوتا، غریب کو علاج معالجے کے لئے جائیداد نہ بیچنی پڑتی، آج تو سوچنا پڑتا ہے ، حالات مشکل ہو گئے، بجلی کا بل دیا جائے یا بچوں کا پیٹ پالا جائے،آج چینی 250کی ہے، میرے زمانے میں 50کی تھی، اسلئے مجھے نکالا؟ پاکستان اس وقت ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا، پاکستان جی 20 میں جا رہا تھا،جو ہم سے پیچھے تھے وہ آگے چلے گئے، ہم پیچھے رہ گئے،ہم نے نہ صرف انکو پکڑنا ہے بلکہ ان سے آگے بھی جانا ہے.میں آج کئی سالوں بعد تقریر کر رہا ہوں، چھ سال بعد کسی اپنےجلسے سے خطاب کر رہا ہوں، یہ بتانا چاہتا ہوں ،میں نصراللہ خان کا بل لایا ہوں، مئی 2016 میں اس وقت بل کتنا تھا؟حالانکہ اس وقت دھرنے ہو رہے تھے وہ کون کروا رہا تھا؟ دھرنوں کے باوجود بجلی پہنچا دی،موٹروے بنائی، گلگت والو مت بھولو کہ گلگت سے سکردو موٹروے بھی نوازشریف نے بنائی، چترال والے بتائیں کہ لواری ٹنل کس نے بنائی، وہ بھی ہم نے بنائی، گوادر سے کوئٹہ ہم نے موٹروے بنائی، پشاور سے اسلام آباد ،لاہور سے اسلام آباد، ملتان سے لاہور ،ملتان سے سکھرموٹروے سب کس نے بنائیں، نواز شریف نے بنوائیں، کیا اسلئے مجھے بار بار نکالا.نصراللہ کا بل میری حکومت میں 1600 روپے تھا، اگست 2022 میں اسکا بل 15 ہزار ہے، کیا بجلی مہنگی نواز شریف نے کی؟ اس وقت سے مہنگی ہونا شروع ہوئی جب نواز شریف کو نکالا تھا،مٹی کی محبت میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے، غالب نے مجھ جیسوں کہاہے کہ زندگی اپنی کچھ اس شکل سے گزری غالب، ہم بھی کیا یاد کریں گے،

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف
نواز شریف کا کہنا تھا کہ مشکل سے اللہ نکالے گا،زخم بھرتے بھرتے وقت لگے گا لیکن بدلے کی کوئی تمنا نہیں، تمنا یہی ہے کہ میری قوم کے لوگ خوشحال ہو جائیں ، انکو روزگار ملے، باعزت پاکستانی بننے کا موقع ملے، غربت، جہالت نہ ہو، یہ نواز شریف چاہتا ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، میں قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، پہلے بھی کی ہے، مریم سامنے بیٹھی ہے، میں جیل میں تھا تو مریم کو نیب نے گرفتار کیا، اسکی بیٹی اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اتنا ظلم،شہباز شریف کو بھی جیل میں بند کر دیا، بیٹوں کو بھی بند کر دیا، رانا ثناء اللہ، حنیف عباسی کو سزائے مو ت دینے کے چکر میں تھے، سعد رفیق دو سال جیل میں رہے،23 سالوں میں 15 سال جیل میں، مقدمے یا باہر رہا، اگر یہ 23 سال پاکستان کو دیئے ہوتے تو پاکستان جنت بنا ہوتا، ہم پاکستان کو پھر جنت بنائیں گے،میں پوچھتا ہوں کہ جو دور ہمارے ملک میں گزرا ہے اسکا کوئی ایک کارنامہ، کوئی ایک منصوبہ بتا دیں، ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا بیانیہ کیا ہے،بیانیہ پوچھنا ہے تو اورنج لائن، میٹرو بس، گرین لائن سے پوچھو،ایٹمی دھماکوں سے پوچھو،ہمارا بیانیہ روٹی کی قیمت، ڈالر کے ریٹ، بجلی کے بل سے پوچھا، ہمارا بیانیہ پوچھنا ہے تو پھر اخلاقیات سے پوچھا،بزرگوں کی عزت سے پوچھو، ہم کسی کی پگڑی نہیں اچھالتے،ہماری بہنیں یہاں موجود ہیں، آرام سے جلسہ سن رہی ہیں، ڈھول کی تھاپ پر یہاں ناچ گانا نہیں ہو رہا،

ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات،مسئلہ کشمیر کا باوقار تدبیر کے ساتھ حل،متحد ہوکر چلنا ہو گا، نواز شریف
نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام کو جو درپیش مسائل ہیں، اب کوتاہی کی گنجائش نہیں، مسائل کے اسباب پر غور کریں،اور آئین کی رو کے مطابق متحد ہو کر مستقبل کا پلان بنائیں، ہمارے آئین پر عملدرآمد کرنے والے ریاستی اداروں کو قوم سے ملکر کام کرنا ہو گا، دنیا میں مقام حاصل کرنا ہے تو سب کو ملکر کام کرنا ہو گا، چالیس سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا، آئین پر عملدرآمد کے لئے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا،ہمیں ایک نئے سفر کی آغاز کی ضرورت ہے، نیا سفر شروع کرنا ہے، طے کریں کہ ہم نئے سفر کا آغاز جوش و خروش سے کریں گے،چار سال بعد بھی میرا جذبہ ماند نہیں پڑا،ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا،کشکول توڑنا ہو گا، قومی غیرت وقار کو بلند کرنا ہو گا، غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا، ہمسایوں کے ساتھ اور دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کس طرح کرنے ہیں، فیصلہ کرنا ہے ہمسایوں کے ساتھ لڑائی کر کے دنیا کے ساتھ اچھا تعلق نہیں قائم کر سکتے، کشمیر کے حل کے لئے باوقار تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا،ہم نے اس صورتحال سے باہر نکلنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ کس طرح سے اپنے معاملات کو ٹھیک کرنا ہے، میرا دل زخموں سے چور ضرور ہے مگرآج میں اپنے رب سے دعا کر رہا ہوں کہ میرے دل میں رتی برابر بھی انتقام کی خواہش نہیں بس تو قوم کی تقدیر بدل دے،میرے ساتھ دعا کرنی ہے کہ آج میں بدلا ہوا پاکستان دیکھوں ، میں آپ کو جگانے آیا ہوں، آگے بڑھو، اور پاکستان کو سنبھالو، اور آئندہ کسی کو اجازت نہ دینا کہ آپکے ملک کے ساتھ سلوک کر سکے، میں نے آج بہت ضبط سے،صبر سے کام لیا ہے، میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو میں سمجھتا ہوں کہ نہیں کرنی چاہئے تھی، میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کی مدد کرے، انکو ظلم سے بچائے، فلسطین میں ظلم انسانیت کا قتل ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں،دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف سے کام لو، اور فلسطین کا باعزت حل نکالو، انکا حق انکو واپس دیا جائے، تا کہ وہ بھی چین سکون سے زندگی گزار کر سکیں،

نواز شریف کا کہنا تھا کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، راستہ کٹھن ہے لیکن کریں گے، ملک کی تعمیر نو کریں گے، بے روزگاری کم کرٰیں گے، موٹروے بنائیں گے، پاکستان کو خوشحال بنائیں گے،مسلم لیگ ن کا ایجنڈہ یہی ہو گا،برآمدات کو بڑھانا ہے، زراعت کی اصلاحات کرنی ہیں، آئی ٹی میں انقلاب لانا ہے،انصاف کے نظام میں بھی اصلاحات لانی ہیں، نوجوان، پارٹی لیڈر سن لیں، نواز شریف نے جو کہا ہے کر کے دکھایا ہے،

درود شریف ،تہجد پڑھیں، باوضو رہیں،اللہ سے جو مانگیں گے ملے گا، نواز شریف کی جلسہ کے شرکاء کو نصیحت
نواز شریف نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ درود ابراہیمی پڑھا کریں، تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن دوسروں سے سامنے نہیں نکالتا، بغل میں چھری اور منہ میں رام رام مجھے نہیں آتا، دعا کریں اللہ سے ،اللہ وہ عطاکرے گا جو مانگیں گے، ندامت کا ایک آنسو،زندگی کے سارے گناہ دھو دیتا ہے،تہجد کے وقت ایک آنسو بہائیں، اللہ کو یاد کر کے دیکھیں اللہ کس طرح تقدیر بدلتا ہے، خشوع و خضو ع کے ساتھ پڑھیں، درود شریف سو بار نہیں تو دس بار پڑھ لیں، اللہ کا نام لیتے ہوئے دل میں کھوٹ نہیں ہونا چاہئے، سالوں بعد گفتگو ہوئی، اللہ تعالیٰ سب کو خیرو برکت کی زندگی دے، اللہ سب پر رحم کرے، سب کو عزت کی روزی دے، فرض شناس پاکستانی بنائے، میرے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں، یہی میرا آپ سے رشتہ ہے، نواز شریف نے خطاب کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوایا،

سابق وزیراعظم نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو ن لیگی قیادت نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالر کر کارکنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، سٹیج پر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، اسحاق ڈار،حمزہ شہباز،عابد شیر علی،و دیگر موجود تھے، نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنان کے نعروں کا جواب دیا، مریم نواز سے نواز شریف گلے ملے، اس موقع پر مریم نواز نے اپنے والد کے پاؤں چھوئے، نواز شریف آبدیدہ نظر آئے،نواز شریف نے سٹیج پر پہنچ کر ن لیگی رہنماؤں سے مصافحہ کیا،ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ بھی سٹیج پر موجود تھے

نواز شریف رہنماؤں سے مصافحہ کے بعد ڈائس پر آئے، نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز تھیں، شہباز شریف اورحمزہ شہباز بھی ہمراہ تھے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رہنماؤں نے یکجہتی کا اظہار کیا، نواز شریف کے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی اور نعت رسول مقبول پڑھی گئی.

 نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

Leave a reply