پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 بلین ڈالرز کی فراہمی پرمذاکرات بے نتیجہ ختم

0
21

اسلام آباد :پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 بلین ڈالرز کی فراہمی پرمذاکرات بے نتیجہ ختم،اطلاعات کے مطابق وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ مشن کے سربراہ برائے پاکستان ارنسٹو رامیرز ریگو کے درمیان 6 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کی بحالی کے لیے بات چیت کا دوسرا دور بے نتیجہ ختم ہو گیا، کیونکہ دونوں فریق ایک نئے متفقہ مسودے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل، 2021 پر متفق نہیں ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق منگل کوآئی ایم ایف اور پاکستان کی طرف سے خصوصی نمائندہ ڈاکٹرفروغ نسیم کے درمیان ہونے والی میٹنگ تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی جس میں پاکستان نے تجویز پیش کی کہ وفاقی حکومت پالیسی کی سمت متعین کرنے اور مہنگائی کے اہداف مرکزی بینک کو دینے کا حق برقرار رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ نے بدھ کے روز آئی ایم ایف کے ساتھ ایک دن پہلے ہونے والی بات چیت، آئینی تقاضوں اور مروجہ قانونی فریم ورک کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس بی پی ترمیمی بل کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کی

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ”اس موقف کو آئی ایم ایف مشن کے سربراہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اور اس کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک بل کے موضوع پر جلد ہی ایک حتمی میٹنگ ہوگی۔”

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نے پاکستانی ٹیم سے بل کی ان شقوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کو کہا جو کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کی طرح آئین اور قوانین سے متصادم ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ حکام نے 22 دسمبر اور 14 جنوری 2022 کو بورڈ میٹنگ کے لیے متبادل تاریخوں کے طور پر غور کیا، جو کہ تمام پیشگی کارروائیوں کے نفاذ سے مشروط ہے۔

اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر آئی ایم ایف سے کہا کہ وہ مرکزی بینک سے قرض لینے کا آپشن برقرار رکھے گی، کیونکہ حکومت مقامی کرنسی کو ڈیفالٹ کرنے یا کمرشل بینکوں کو اس کا استحصال کرنے کی بھی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ اس تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

Leave a reply