نیٹ فلیکس نے ترکی میں متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کی ریلیز روک دی

اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ نے ترک حکومت کی دھمکی کے بعد وہاں متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کی ریلیز روک دی حال ہی میں ایوارڈ یافتہ فرانسیسی فلم ’کیوٹیز‘ کا مختصر ٹریلر جاری کرتے ہوئے ’نیٹ فلیکس‘ نے فلم کو رواں ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا-

باغی ٹی وی : نیٹ فلیکس نے فرانسیسی فلم ’کیوٹیز‘ کا ٹریلر ریلیز کرتے ہوئے فلم کو رواں ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے فلم کے ٹریلر میں ہی انتہائی کم عمر لڑکیوں کو بولڈ انداز میں دیکھا جا سکتا ہے جس پر دنیا بھر کے افراد نے نیٹ فلیکس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’کیوٹیز‘ کو ریلیز نہ کرے۔

11 سال کی مسلم لڑکی کو فلم میں انتہائی بولڈ اور جنسی رجحانات کی جانب راغب دکھانے والی اس فلم کے ٹریلر پر ہی لوگوں نے اعتراض کیا اور مذکورہ فلم کے خلاف چینج آرگنائزیشن پلیٹ فارم پر نوید وردک کی جانب سے آن لائن پٹیشن بنائی گئی جس میں نیٹ فلیکس سے مذکورہ فلم کو ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا – دنیا بھر میں نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن کو ختم کرنے کی مہم شروع ہوگئی تھی-

کیوٹیز پر تنقید کے بعد نیٹ فلیکس نے اپنی ایک ٹوئٹ میں وضاحت کی تھی کہ انہوں نے مذکورہ فلم سے متنازع تصاویر کو ہٹا دیا ہے اور یہ کہ فلم میں دکھائے جانے والے مناظر اسٹریمنگ ویب سائٹ کی پالیسی کو بیان نہیں کرتے۔

جس کے بعد تُرک حکومت نے بھی کے فلم اور میڈیا ریگولیٹر ادارے نے نیٹ فلیکس کی فلم کو بچوں کے استصال پر مبنی فلم قرار دیتے ہوئے نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم کو ترکی میں ریلیز نہ کرنے کا کہا تھا اور رواں ماہ ستمبر کے پہلے ہی ہفتے میں نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم ترکی میں ریلیز کرنے سے روک دیا تھا۔

ترک حکومت کے ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن ہائی کونسل (آر ٹی یو کے) کی جانب سے جاری بیان میں ’کیوٹیز‘ کو نامناسب فلم قرار دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ میڈیا ریگولیٹر ادارہ نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم ترکی میں بلاک کرنے کا حکم دے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ترک میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر نیٹ فلیکس نے ’کیوٹیز‘ کو اسلامی ملک میں بلاک نہیں کیا تو رجب طیب اردوان کی حکومت اسٹریمنگ ویب سائٹ کا عارضی طور پر لائسنس بھی منسوخ کرسکتی ہے۔

تاہم اب نیٹ فلیکس نے مذکورہ فلم کو دنیا کے متعدد ممالک میں ریلیز کرتے ہوئے ترکی میں اس کی ریلیز روک دی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹ فلیکس کے ترجمان نے فلم کو ترکی میں ریلیز نہ کرنے کی تصدیق کی۔

نیٹ فلیکس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسٹریمنگ ویب سائٹ نے ترک میڈیا ریگولیٹر ادارے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہاں ’کیوٹیز‘ کی نمائش روک دی۔

نیٹ فلیکس نے جہاں فلم کو ترکی میں ریلیز نہیں کیا وہیں اسٹریمنگ ویب سائٹ نے ’کیوٹیز‘ کو 9 ستمبر کو دنیا بھر میں ریلیز کردیا تھا۔

جبکہ دوسری جانب پاکستانی معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی اسی مہم کی حمایت کرتے ہوئےٕ اپنی ٹوئٹ میں نیٹ فلیکس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مذکورہ فلم کی ریلیز کینسل کرے دوسری صورت میں وہ نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن کینسل کردیں گے-

تاہم پاکستان میں بھی ’کیوٹیز‘ کو ریلیز کیے جانے کے بعد معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن ختم کردی تھی اور انہوں نے مداحوں کو بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کی سبسکرپشن ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ ’کیوٹیز‘ کی کہانی افریقی ملک سینیگال کے پناہ گزین مسلمان خاندان اور اس گھر کی جوان ہوتی 11 سالہ بچی کے بلوغت کو پہنچنے والے رجحانات کے گرد گھومتی ہے جس میں 11 سالہ بچی کے والد دوسری شادی بھی کرتے ہیں جب کہ ان کے گھر میں مسائل بھی رہتے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 11 سالہ بچی اپنے آبائی مذہب اور انٹرنیٹ دور کے ٹرینڈز کے درمیان الجھ کر بے راہ روی کا شکار بن جاتی ہے اور اپنی عمر دیگر فرانسیسی بچیوں کے آزاد ماحول، تنگ لباس اور ان کی جانب سے بولڈ ڈانس کرنے سے متاثر ہوکر ان کے راستے پر چل پڑتی ہے اور پھر انتہائی کم عمری میں ہی وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے لگتی ہے اور مسلمان بچی کی بولڈ اور فحش حرکتوں کو ان سے عمر میں بڑے لڑکے موبائل پر ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.