ای سگریٹ سے نوجوان نسل کو روکنا ہو گا، کرومیٹک

0
112

کرومیٹک کے زیر اہتمام نتھیا گلی میں تیسری سالانہ انفلوانسر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا کانفرنس میں انفلوانسر نے شرکت کی ۔کانفرنس مین کرومیٹک کے طیب رضا ، مستنصر، منصور نے بھئ شرکت کی ، کانفرنس سے کرومیٹک کے سی ای او شارق خان اور ڈاکٹر ضیاء الدین نے خطاب کیا اور انفلوانسر کو تمباکو نوشی، ای سگریٹ کے خلاف آگاہی دی

کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا تھا کہ ہم غلط چیزوں کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ کرومیٹک نے 2019 میں تمباکو نوشی کیخلاف مہم شروع کی تھی ۔ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کو روکنا چاہتے ہیں اسکے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے۔ کرومیٹک یوتھ کے لیے کام کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں سکولز کالجز یونیورسٹیوں سمیت مدارس میں بھی مہم چلائی ہے ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں اور صحتمند زندگی گزاریں۔

ڈاکٹر ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ سائنس کہتی ہے کہ تمباکو دنیا کی واحد پروڈکٹ ہے جس کو اگر بنانے والے کے طریقہ کار کے مطابق استعمال کیا جائے تو آدھے سے زیادہ لوگوں کو موت کا شکار کر دیتی ہے دنیا میں آٹھ بلین افراد کی تمباکو سے موت ہوتی ہے پاکستان میں بھی تمباکو کا استعمال بڑھ گیا ہے روزانہ 467 لوگ تمباکو نوشی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ ڈینگی کرونا ، سمیت سب بیماریوں سے شرح اموات تمباکو سے موت کی زیادہ ہے ہم اسکو نوٹس نہیں کرتے کیونکہ لوگ ایک مقام پر نہیں بلکہ مختلف جگہوں پر مرتے ہیں۔ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالی بیماریوں کی وجہ سے روز ہسپتال پہنچتے ہیں۔ 12 سو بچے روز تمباکو نوشی شروع کر رہے ہیں۔ کینسر تمباکو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دل کی بیماریاں بھی تمباکو نوشی سے پھیلتی ہیں کسی بیماری کا نام لیں اسکے پیچھے تمباکو نظر آئے گا پاکستان نے ٹوبیکو کنٹرول کے لیے دستخط کر رکھے ہیں 187 ممالک میں بھی شامل ہے تا کہ ایسی پالیسی بنائی جائے کہ لوگوں کو تمباکو نوشی سے روکا جائے ۔ پاکستان نے 2002 میں اس حوالہ سے دو لا بھئ بنائے تھے۔

ڈاکٹر ضیاء الدین کا مزید کہنا تھا کہ 2016 میں تمباکو انڈسٹری کو سمجھ آ گئی کہ تمباکو نوشی قتل کرتی ہے لوگ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں تو اسکا متبادل لائیں سگریٹ کے متبادل کے طور پر پروڈکٹس کا طوفان ہو چکا ہے لوگوں کو یہ پتہ نہیں کہ یہ ٹوبیکو پروجیکٹ ہے بزنس بڑھانے کے لیے جھوٹے دعوے کیے جاتے ہیں سگریٹ کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ؟ اب جو پروڈکٹس آ رہی ہیں اس سے بھی یہی مسئلہ ہے ۔ ای سگریٹ مختلف ناموں سے میسر ہے ای سگریٹ لیکوئڈ ہے مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے وزارت صحت نے ایک ایس آر او پاس کیا جس سے اسکا استعمال جائز قرار دے دیا گیا پاکستان کا پہلا رول ہے جس سے تمباکو نوشی کو لیگلائز کیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس حوالہ سے پٹیشن دائر کر کے اسکو چینلج کیا گیا ہے۔ ویلو میں نکوٹین کو خوبصورت پیکنگ میں لانچ کیا گیا اور اسکو پروموٹ کیا گیا ویلو کو بنانے کا مقصد اور خوبصورت پیک میں لانے کا مقصد دھوکہ دینا ہے کہ یہ ٹوبیکو پروجیکٹ نہیں ہے

ڈاکٹر ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ ایک جیسی پروڈکٹس کو مختلف ناموں سے بیچا جا رہا یے تا کہ زیادہ لوگ خرید سکیں ای سگریٹ کے خلاف بھی بھرپور مہم چلانے کی ضرورت ہے تا کہ نوجوان نسل کو اس سے بچایا جا سکے

Leave a reply