شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

0
36

شمالی کوریا کی جانب سے آج مزید دو بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

باغی ٹی وی : جنوبی کورین فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، جاپان نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔

جاپانی حکام نے بتایاہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روزایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے یہ خبر دی ہے شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر دومیزائل داغے ہیں۔

شمالی کوریا نے دو اور بیلسٹک میزائل داغ دیئے

شمالی کوریا کا 25 ستمبر کے بعد سے اس طرح کے میزائلوں کا یہ ساتواں تجربہ ہے اور اس کی ان سرگرمیوں سے ٹوکیو اور واشنگٹن دونوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات جاری ہیں اورگزشتہ دو ہفتوں میں شمالی کوریا سات بیلسٹک میزائل فائر کر چکا ہے رواں ہفتے شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا، میزائل کے جاپان کی حدود سے گذرنے پر جاپان نے شدید مذمت کی تھی۔

شمالی کوریا کے میزائل تجربوں میں تیزی کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

این ایچ کے کا کہنا ہے کہ ایسالگتا ہے،ایک بیلسٹک میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے دور گراہے۔اس نے بعد میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ایک اورمیزائل بھی فائر کیا گیا ہے جبکہ فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔

شمالی کوریا کے تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے میزائل داغ دیئے

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوزایجنسی نے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے حوالے سے خبردی ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب ایک غیرواضح بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

جاپان کے وزیر مملکت برائے دفاع توشیرو انو نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں میزائل 100 کلومیٹر (60 میل) کی بلندی تک پہنچے اورانھوں نے اپنی 350 کلومیٹر کی رینج کا احاطہ کیا ہے۔ پہلا میزائل مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 47 منٹ (1647جی ایم ٹی) پر داغا گیا اور دوسرا اس کے چھے منٹ کے بعد فائرکیا گیا۔

انھوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے ہیں اور حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس قسم کے میزائل داغے گئے تھے ، جس میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل تھے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ منگل کے روز جوہری ہتھیاروں سے لیس پہلے سے کہیں زیادہ دور تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ پانچ سال میں پہلی بار جاپان کی فضائی حدود سے شمالی کوریا کا میزائل گزرا ہے اور وہاں کے مکینوں کو خبردارکردیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں پناہ لے لیں۔

توشیرو انو نے کہا کہ ٹوکیو شمالی کوریا کی جانب سے بار بار کی جانے والی اس طرح کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل اور جوہری تجربات کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے نئے میزائل تجربات امریکا سے لاحق براہ راست فوجی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کیے ہیں اور ان سے ہمسایہ ممالک اور خطوں کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے نے ایوی ایشن انتظامیہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے میزائل تجربات ملک کی سلامتی اور علاقائی امن کو براہ راست امریکا سے لاحق فوجی خطرات سے بچانے کے لیے معمول کا ایک منصوبہ بند خود دفاعی اقدام ہے۔

امریکا اور جنوبی کوریا نے جمعہ کے روز مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں۔ اس سے ایک روز قبل سیئول نے شمالی کوریا کی جانب سے بظاہر بمباری کی مشقوں کے جواب میں لڑاکا طیاروں کوچوکس کیا تھا۔

دریں اثناء امریکا نے ان تازہ میزائل تجربات کے جواب میں شمالی کوریا کے خلاف گذشتہ روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے دوسری جانب اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کے بیلسٹک اور نیوکلیئر میزائل تجربوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

Leave a reply