عورت اور معاشرہ؟  تحریر فیضان علی

0
50

‏:

معاشرے میں عورت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیا عورت کو ہمارے معاشرے کی لعنت سمجھا جاتا ہے کیوں؟ اس جدید دور میں احمقانہ سلوک کیا جا رہا ہے؟ کیوں ہم لوگوں نے اپنی آخرت کی فکر چھوڑ دی ہے؟ کیوں ہم لوگ جاہلوں سے بھی بد تر ہوتے جا رہے ہیں کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ 

اگر عورت پہ فحاشی کا دبہ لگا کر معاشرہ کو بدنام کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کے عورت معاشرے کو خراب کر رہی ہے؟ صرف عورت ہی اس معاشرے کی زمہ دار نہیں ہے اس معاشرے میں مرد بھی رہتے ہیں جن کو با اخلاق ہونا لازمی ہے معاشرے کی زمہ داری کسی ایک فرد پہ نہیں ہے اس کے لیے مرد اور خواتین دونوں کو با کردار ،با اخلاق ہونا ضروری ہے، 

عورت کو کوئی ترجی نہیں دیتا کسی کی ماں، بہن، بیٹی ،بیوی کیا انکو معاشرے میں عزت سے زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے؟ اگر ہم کسی کی عورت کے بارے میں الٹے خیالات سوچ سکتے ہیں تو یہ بات بھی سوچ لینی چاہیے کے کوئی ہمارے گھر کی عورتوں کے لیے بھی غلط خیالات تصور کر سکتا ہے

اس معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس کے زمہ دار کون لوگ ہیں کن لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خراب اور بد کردار ہوتا جا رہا ہے، 

آئیے اب آپ کو بتاتا ہوں کے اس معاشرے میں انسانیت کس حد تک گیر چکی ہے اور درندگی کس حد تک پھیل گئی ہے کے لوگوں میں خوف خدا بلکل ختم ہو چکہ ہے، 

 عورت کے لباس سے شروع کرتا ہوں کے عورت نے اگر ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہےدوپٹے کے بغیر ہےپوری آستینیں پہنی ہیں,آدھی آستینیں ہیں برقعہ پہنا ہے یا ٹانگیں ننگی ہے چاہے جس بھی طرح کے لباس میں ہو اس کا ریپ ہو جاتا ہے

عورت چاہے 3 سال کی بچی ہے,4 سال کی سکول جانے والی ,8 سال کی قرآن پاک پڑھنے جانے والی,14 سال کی بلوغت میں قدم رکھنے والی, 20 سال کی جوان,40 سال کی ,50 سال می بزرگ,70 سال کی برگزیدہ یا پھر قبر میں لیٹی ہو ریپ کر دی جاتی ہے

عورت کا مذہب اسلام ہو. سکھ ہو ,عیسائیت ہو,یہودیت ہو,جین مت ہو,بدھ ہو ,چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو مسلک سے ہو فرقے سے ہو یا وہ ان سب سے نا تعلق رکھتی ہو اس کو ریپ کر دیاجاتا ہے

کالی ہو ,گوری ہو,سانولی ہو,موٹی ہو,پتلی ہو,چھوٹی ہو,یا لمبی ہو اپاہج ہو اس کا ریپ ہونے کی خبریں آتی ہیں

ہمارے مزہب نے عورت کو بہت عزت دی ہے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے کہیں ماں کے قدموں تلے جنت کا رتبہ کہیں بیٹی جیسی نعمت عطاء کر کے اللہ رب العزت رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اللہ رب العزت بیٹی عطاء کر کے فرماتا ہے اے میرے بندے میں خود تیرے ساتھ ہوں اتنا بڑا رتبہ عورت زات کو میں نے یا اپ نے نہیں دیا؟ نہیں یہ رتبہ عورت کو اللہ پاک نے دیا ہے پھر ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کے ہمیں بھی کسی عورت نے جنا ہے ہم بھی کیسی عورت سے پیدا ہوئے ہیں اگر اپ مرد پیدا کیے گئے ہو تو کیا اس کا مطلب اپ عورت کی عزت کرنا چھوڑ دوگے؟ اے انسان تیری کیا اوقات ہے تجھے اس بات کا اندازہ بھی ہے توں کس سے پیدا کیا گیا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، 

قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے کے”اے انسان ہم نے تمہیں ایک گندے پانی کی بوند س پیدا کیا ہے” اس کے بعد اب انسان کی کیا اوقات رہ جاتی ہے کے پلیت پانی سے انسان کی پیدائش ہوئی انسان کی اوقات کچھ بھی نہیں رہتی مگر یہی انسان بڑا ہو کر خود کو بہت خوبصورت سمجھنے لگ جاتا پیسہ کیا پاس اجاتا ہے وہ انسانیت ہی بھولا دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے اور حیوانیت سر چڑھ کر بولنے لگتی ہے مسئلہ اگر لباس,عمر مذہب,رنگ,سائز کا نہیں تو پھر مسئلہ ہے کیا مسئلہ ہے ہوس ,ہوس زدہ ذہنوں کا مسئلہ ہے درندگی کا مسئلہ ہے بھوک کا اور مسئلہ ہے "انسانیت” سے گرنے کا، جب انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے تو پیچھے صرف ایک چیز حیوانیت بچتی ہے جس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہی کیوں کے اگر انسانیت ہے تو انسان اشرف المخلوق ہے ورنہ انسانیت کے بغیر انسان باقی نہیں رہتا اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں کے مجھے اور آپ سب کو با کردار اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بنائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں انسانیت اور اخلاقیات کو سئ معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🙏

اپ مجھے ٹویٹر پہ بھی فالو کر سکتے ہیں

 "فیضان علی”

‎@Faizan_Ali92

Leave a reply