fbpx

آرڈیننس، آرڈیننس اور آرڈیننس، صدرمملکت کا یہی کام رہ گیا

آرڈیننس، آرڈیننس اور آرڈیننس، صدرمملکت کا یہی کام رہ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن سے متعلق چند ہی روز میں دوسرا صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا

صدر مملکت کے دستخط کے بعد ایچ ای سی دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کیا گیا ہے،نظرثانی شدہ صدارتی آرڈیننس کا اطلاق 26 مارچ سے ہوگا آرڈیننس کی بعض شقوں میں ترمیم ، ارکان کی تعداد 10 سے بڑھا کر 13 کر دی گئی ہائر ایجوکیشن کمیشن میں نجی ارکان کی تعداد 2 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی وفاقی وزارت تعلیم سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کا اختیار واپس لے لیا گیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کا اختیار کمیشن کو حاصل ہوگا

آرڈیننس کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خودمختاری ختم کردی گئی ایچ ای سی کے فیصلے وزارت تعلیم کی منظوری سے مشروط ہوں گے. چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی 2 سال کیلئے ہوگی. ممبران ایچ ای سی کی تعیناتی 4 سال کیلئے ہوگی

بلاول کا نیئر حسین بخاری کو ٹیلیفون،صدارتی آرڈیننس بارے دیں اہم ہدایات

آئین کہتا ہے کوئی عدالت آرڈیننس کو چیلنج نہیں کر سکتی،سینیٹ اجلاس میں انکشاف

خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس2021،اے این پی رہنما امیر حیدر خان ہوتی کا بڑا اعلان

قبل ازیں وفاقی حکومت نے ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات اہم شخصیت کو عہدے سے ہٹا دیا تھا،پی ٹی آئی حکومت نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) طارق بنوری کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا اس ضمن میں سٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا طارق بنوری کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 2018 میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن تعینات کیا تھا اور انہوں نے مئی 2022 تک 4 سالہ مدت پوری کرنا تھی لیکن انہیں مدت پوری کرنے سے پہلے ہی عہدے سے ٰہٹا دیا گیا ،

دوسری جانب پی پی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی آرڈیننس اور اس کے پیچھے چھپے مقاصد کی مذمت کرتے ہیں،حکومت نے ایچ ای سی کی خودمختاری ختم کرنے کا فیصلہ کس مقصد کے لئے کیا ہے؟ ایچ ای سی کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنا ہائر ایجوکیشن کے خلاف سازش ہے،تباہی سرکار تعلیم کو تو بخش دے،آپ تعلیم کو ایڈہاک بنیاد پر آرڈیننس سے نہیں چلا سکتے، آپ کی نیت ٹھیک ہے تو بل لائیں، قانون سازی کریں، ایچ ای سی آرڈیننس کو سینیٹ میں مسترد کریں گے،ایک تسلیم شدہ ادارے کو وفاقی حکومت کے ماتحت کرنا تعلیم دشمنی ہے،نئے ادارے بنانے کے بجائے پرانے اداروں پر قبضہ کیا جا رہا ہے،سندھ کے ہسپتالوں سے لیکر ایچ ای سی تک قبضہ سرکار کو ناکامی نصیب ہوگی، حکومت ایک خودمختار تعلیمی ادارے کو تباہ نہ کرے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.