امریکا نے پاکستان سے متعلق انسانی حقوق کیخلاف ورزیوں پر مبنی رپورٹ جاری کر دی

مجرمانہ ہتک عزت کے قوانین، اور توہین رسالت کے خلاف قوانین کا ذکر کیا گیا ہے۔
0
106

واشنگٹن: امریکانے پاکستان سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی رپورٹ جاری کر دی ہے-

باغی ٹی وی : عرب نیوز کے مطابق ہیومن رائٹس پریکٹسس کی کنٹری رپورٹس 2023 سے متعلق امریکا نے رپورٹ میں پاکستان کا بھی ذکر کیا ہےامریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینا اور بنیادی آزادیوں کا دفاع کرنا اس بات کا مزکر ہے، کہ ہم بحیثیت ملک کون ہیں، انسانیت کی فلاح و بہبود اور آزادی کے لیے کام کرنے والوں کو امریکا ہمیشہ سپورٹ کرتا رہے گا۔

یچ آر سی پی نے حراستی مراکز میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ کئےامریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلوچستان میں منحرفین کے اغوا، تشدد اور قتل کے واقعات رپورٹ کئے اور حکومت یا اس کے ایجنٹوں کے ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کی گئیغیر قانونی حراست، سیاسی قیدی، آزادی اظہار پر سنگین پابندیوں کی نشاندہی بھی امریکی رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہے جبکہ میڈیا کی آزادی، صحافیوں پر تشدد اور صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں کی نشاندہی بھی رپورٹ میں شامل ہے۔

زیرِ اعظم کا ٹیکس کیسز التوا کا نوٹس ،متعلقہ تمام افسران کو معطل …

گمشدگیاں، سنسرشپ کے مسائل، توہین مذہب کے خلاف قوانین، اقلیتوں کےخلاف واقعات اور انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کی رپورٹ میں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں کو خاص طور پر جنسی تشدد اور ہراسانی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔امریکی رپورٹ میں جنسی تشدد، کم عمری میں جبری شادیاں، ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنانے، ٹرانس جینڈرز ملزمان کو مرد قیدیوں کے ساتھ رکھنے پر ہراسانی کا سامنا، پرامن اجتماع کی آزادی میں مداخلت اور خواتین سے امتیازی سلوک کا بھی ذکر ہے

9 مئی واقعات کےمقدمات سے بریت ، شیخ رشید کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور

رپورٹ میں پاکستان میں انٹرنیٹ پر بندش سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے بھی ذکر کیا گیا ہے، انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کام پر حد سے زیادہ پابندی والے قوانین سمیت پرامن اجتماع کی آزادی اور انجمن کی آزادی میں خاطر خواہ مداخلت، مذہبی آزادی کی پابندیاں، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں، افراد کی زبردستی یا زبردستی کسی ایسے ملک میں واپسی جہاں انہیں ممکنہ طور پر تشدد یا ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا،وزیر خزانہ

جبکہ سرکار سے متعلق امریکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے شاذ و نادر ہی ایسے اہلکاروں کی شناخت اور سزا دینے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کیے دہشت گردی کے تشدد اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے انسانی حقوق کے مسائل میں اہم کردار ادا کیا، سال کے دوران دہشت گردی کے تشدد میں اضافہ ہوا، شہریوں، فوجیوں اور پولیس کے خلاف دہشت گرد اور سرحد پار سے عسکریت پسندوں کے حملوں میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں، فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف اہم مہمات جاری رکھی۔

زیرِ اعظم کا ٹیکس کیسز التوا کا نوٹس ،متعلقہ تمام افسران کو معطل …

جنوبی ایشیائی ملک میں نومبر 2022 سے جب عسکریت پسندوں اور ریاست کے درمیان ایک نازک جنگ بندی ٹوٹ گئی تھی، تشدد، خاص طور پر خودکش حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اس کے بعد سے پاکستان نے پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور ایک بلوچ علیحدگی پسند عسکریت پسند تنظیم، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف ملک کے دو مغربی صوبوں میں فوجی کارروائیاں کی ہیں جن کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔

Leave a reply