پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

0
62

دہشت گردی افراد، گروہوں اور گورنمنٹ کے خلاف سیاسی یا دوسرے مقاصد کے حصول کیلئے طاقت اور دھمکیوں کا استعمال ہے دہشتگردی کشت و خون کا کھیل ہے جس میں دھماکوں اور قتل و غارت کے ذریعے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے دہشت گردی میں جدید سے جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اور ملک میں بھیانک صورت حال پیدا ہو جائے۔
موجودہ دور میں دہشت گردی اور دھماکے کے ایک منظم عمل بن چکے ہیں آج کل دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں دہشت گرد تنظیمیں نہ ہوں،
ایشیائی ممالک میں ان تنظیموں کی بھرمار ہے ہمارے ملک میں بھی ان تنظیموں کا سلسلہ بہت وسیع ہے دنیا کے مختلف دہشت گرد تنظیمیں "را”
کے جی بی، سی آئی اے اور موساد ہیں۔
پاکستان تو ان کا خاص نشانہ ہے اپریل انیس سو اٹھاسی میں ان تنظیموں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں راکٹ برسائے جن سے سیکڑوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،لاکھوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا عمارتیں زمین بوس ہو گئی سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں پر مزائل گرنے سے بے شمار لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور اجڑی کیمپ کے نام سے مشہور فوجی ڈپو میں دھماکے ہوئے جن سے ڈپو میں موجود اسلحہ برباد ہوگیا۔۔۔
دہشت گرد تنظیمیں بڑی مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں بعض اوقات ان تنظیموں کو غیرملکی حکومتیں بھی امداد فراہم کرتی ہیں انہیں خطیر رقم اور جدید ترین اسلحہ دیتی ہیں بعض اوقات دہشتگرد ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کے روپ میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہیں،
دہشتگردی کا مقصد عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں پاکستان میں تو یہ لعنت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے یہاں تو آئے دن دہشتگردی اور دھماکے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہمارا نا قابل تلافی نقصان ہوتا رہتا ہے اس دہشت گرد نے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر صدر ضیاءالحق تک اور دوسرے ایک کئی علماء،وکلاء،ججوں اور سیاستدانوں کو بھی نہ چھوڑا۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کو کام ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا اور اہم ا امیر شخصیات کو اغوا کرنا ہے اس قسم کے دہشتگرد تاوان کے طور پر بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اگر یہ تعاون ادا نہ کیا جائے تو یہ اغوا کیے ہوئے افراد کو قتل کر دیتے ہیں،
دہشت گردی کو بہت ہی محتاط انداز میں چیک کرنا چاہیے حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو بزور طاقت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کرے دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں آئے ہوئے مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں میں محصور رکھیں تاکہ وہ ملک میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہ کر سکیں،
نیز حکومت کے پاس ایسی پوشیدہ سروس ہونی چاہیے جو ہر قسم کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتی رہے علاوہ ازیں حکومت کو پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر رضاکار تنظیموں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی عمدہ قسم کے اقدامات کرنے چاہیے۔
اب پہلے سے کہی گناہ زیادہ پاکستان کی انٹیلی جنٹس الرٹ ہیں کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی ایسی جرات کر بھی لے تو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے
پاکستان میں الحمد اللہ دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی ہے اس امن کے حصول کیلئے ہر ادارے نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا،
اللّه پاک اس ملک خداداد کی حفاظت فرمائے تا قیامت اور ملک میں اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر قوتوں کو تباہ و برباد کریں۔

@SyedUmair95

Leave a reply