ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ

0
43
Matthew Miller

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھو ملر کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں قانون کی حکمرانی کےحامی ہیں، واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان میں انتخابات کی تیاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے میتھو ملر نے کہا کہ آزاد میڈیا، آزادی اظہار رائے، اجتماع کی آزادی ہونی چاہیے، یہی تمام اصول جمہوری انتخابات کی بنیاد ہیں جن کی حمایت کرتے ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بنیادی جمہوری اصولوں کو سپورٹ کرتے ہیں، البتہ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں قانون کی حکمرانی کے حامی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میتھو ملر نے کہا کہ طالبان اپنے وعدوں پر قائم رہیں ہم اپنے وعدوں پر برقرار ہیں، خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کا حق برقرار رکھیں گے۔

علاوہ ازیں امریکی ترجمان سے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے گزشتہ روز دیے گئے ایک بیان کے تناظر میں سوال کیا گیا، جس میں انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے اس اعتراف کے حوالے سے گفتگو کی تھی کہ عمران خان کا امریکی مداخلت کے بارے میں سائفر کا بیانیہ من گھڑت تھا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران اس سوال کے جواب میں کہا۔ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں اس سوال کا کتنی بار اس پوڈیم سے ایک ہی جواب دے سکتا ہوں جو یہ ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔‘

جب ایک صحافی نے امریکی ترجمان سے پوچھا کہ امریکا اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ کرے گا؟ تو ترجمان نے کہا کہ امریکا پاکستان یا دوسرے کسی ملک میں کسی سیاسی مسئلے میں خود کو ملوث نہیں کرتا۔ ترجمان میتھیو ملر نے کہا، ’امریکا کسی ملک کے اندرونی سیاسی معاملات میں خود کو ملوث نہیں کرتا اور ہم پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعتوں کا ساتھ نہیں دیتے۔‘ واضح رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کے دور حکومت میں پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی جانب سے سائفر کے من گھڑت ہونے کے مبینہ اعتراف کو عمران خان کے خلاف چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

Leave a reply