پاکستان کی اشرافیہ نے حکومت گرانے کی کوشش کی،مسائل پیدا کئے گئے ، اللہ نے کامیابی سے نوازا: وزیراعظم

0
39

اسلام آباد :پاکستان کی اشرافیہ نے حکومت گرانے کی کوشش کی،مسائل پیدا کئے گئے ، اللہ نے کامیابی سے نوازا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو قانون کے داہرے کار میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے تو انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی۔

نجی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی سے متعلق خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘جب حکومت سنبھالی تو ایک سمت میں توجہ دینا ناممکن تھا کیونکہ تمام ادارے بحران سے دوچار تھے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘پاکستان میں اشرافیہ طبقہ کے پاس تمام مراحات ہیں جبکہ وہ ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، شوگر مافیا بنے ہوئے ہیں اور طبقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے احساس پروگرام لے کر آئے تاکہ نیم متوسطہ طبقہ بھی ترقی کرسکے’۔انہوں نے کہا کہ ‘بالکل اسی طرح اسمال انڈسٹری متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں جو دراصل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں جبکہ بڑے صنعت کار اپنے اثرو رسوخ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں’۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اشرافیہ طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہے اور قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا اس لیے اشرافیہ کو قانونی داہرے میں لانے کے لیے گزشتہ دو برس میں متعدد فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے بہت شور شرابا ہے۔

معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘میرے نزدیک تین بڑے چیلنجز ہیں جس میں پہلا 10 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کا براہ راست معیشت پر منفی اثر تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو بجلی مہنگی ہوجاتی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو غریب آدمی پستا ہے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘گزشتہ 2 برس کی مشقت کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے بعد پاکستان میں بڑا چیلنج توانائی کا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سابق حکومت نے بجلی کے مہنگے معاہدے کیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر قرضوں کی قسطیں نہ دینی پڑے تو اپنے اخراجات کو کنٹرول کرکے ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں قرضوں کی قسطوں کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔

ملک میں توانائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے مہنگے معاہدے کیے جس کی وجہ سے اب ملک میں بجلی مہنگی تیار ہورہی ہے جبکہ عوام کو ‘سستی’ بیچ رہے ہیں یعنی ریٹ میں خسارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی قیمت نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، بجلی مہنگی ہونے کا مطلب ہے کہ مقامی صنعت پر مزید دباؤ جو بھارت اور بنگلہ دیش کا صنعتی شعبہ میں مقابلہ ہی نہیں کرسکے گی اور اگر صنعت کو سبسڈی دیتے ہیں تو خسارہ بڑھ جاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی ترین بجلی بن رہی ہے اور یہ معاہدے سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے لیکن آئی پی پیز کے ساتھ حالیہ معاہدے پر ان شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی پی پیز چاہتے تو ہمارے ساتھ از سر نو معاہدے نہیں کرتے اور عالمی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پاکستان کو ناکامی ہوتی کیونکہ سابقہ حکومتوں نے ان سے معاہدے کیے

اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے آج کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ 24 سالہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، معاشرے کے کمزور طبقہ کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے، جتنا بھی مشکل وقت آئے، عوام کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا جدو جہد کا اصل مقصد ہے۔

کابینہ اجلاس سے عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشکل وقت میں کامیابی حاصل کی، ہماری جدوجہد کا محور ہر کمزور پاکستانی ہے، کمزور طبقے کیلئے سوچنا اصل ایمان ہے، مدینہ کی فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینا چاہتا ہوں، تعلیمی نصاب میں مدینہ کی فلاحی ریاست کا تصور شامل کریں گے، شفقت محمود سے کہا ہے نصاب میں ریاست مدینہ کا تصور شامل کریں، ابتدائی طور پر آٹھویں اور نویں جماعت کیلئے نصاب تیار ہوگا۔

Leave a reply