دبئی میں ہونےوالی مشاورت میں پی ڈی ایم کےسربراہ کو کیوں دوررکھا گیا؟ حافظ حمداللہ

الیکشن کرانا پی ڈی ایم کی نہیں، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے
0
35
pdm

اسلام آباد: اپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہونے والی مشاورت میں پی ڈی ایم کے سربراہ کو کیوں دور رکھا گیا؟انہیں کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟-

باغی ٹی وی: ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آئینی طور پر الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، اسمبلیوں کی مدت 12 اور 13 اگست کو ختم ہوگی، اسمبلی وقت سے پہلے توڑ دی جاتی ہے تو الیکشن 90 روز کے اندر ہوگا، اگر اسمبلی وقت پر ختم ہوتی ہے تو 60 روز کے اندر الیکشن ہوگا الیکشن کرانا پی ڈی ایم کی نہیں، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ہم مقررہ وقت پر الیکشن چاہتے ہیں ہر جماعت علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑےگی، البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن پی ڈی ایم کا حصہ ہے، دبئی میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں نہیں لیاگیا، اتنا بڑا قدم اٹھانے پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی، یہ سوال میرے ذہن میں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے شکوے، وزیر اعظم سے ملاقات

بعد ازاں گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی، جبکہ ملاقات میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اوراتحادی امورپربات چیت پر وزیراعظم مولانا فضل الرحمان کو موجودہ صورتحال پراعتماد میں لیں گے۔

اس ملاقات میں دبئی مذاکرات ، آئندہ عام انتخابات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت ہوئی ،سربراہ پی ڈی ایم نےمستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت نہ کرنے کےگلے شکوے کئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم سربراہ اور جمعیت علماا سلام کے سربراہ کو میاں نواز شریف کا پیغام بھی پہنچایا، وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کو ، دبئی میں میاں نواز شریف کی ملاقاتوں پر بریف کیا ۔ اور یقین دہانی کرائی کہ نگران سیٹ اپ اور عام انتخابات کےحوالے سے فیصلے مشاورت سےکئےجائیں گے۔

وزیر اعظم کا عمران خان کو جواب

Leave a reply