آج کے دن :معروف شاعرہ پروین شاکرروڈ حادثےمیں وفات پاگئیں‌

0
32

لاہور:آج کے دن :معروف شاعرہ پروین شاکرروڈ حادثےمیں وفات پاگئیں‌،تفصیلات کےمطابق 26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔

 

یہ نہرو، گاندھی کا نہیں مودی کا ہندوستان ہے،اشارہ ملےتوگھنٹےمیں صفایا کردیں گے:

پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

دل کے مریضوں کے لیے اکسیرحیات،کم خرچ بالا نشین ، ہرامیرغریب کی پہنچ میں‌

پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

پہلے یاری پھرمکاری،آشناکوقتل کرنےوالی نے عجیب کہانی سنادی

ہر سال پروین شاکر کی برسی کے موقع پر علم و ادب کے شائق نہ صرف انھیں یاد کرتے ہیں بلکہ ادب دوست حلقے اور مداح خصوصی نشستوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں جس میں پروین شاکر کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور ان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔

دوریاں ختم اب کویت اورسعودی عرب دوبارہ مشترکہ طورپرتیل پیدا کریں گے

پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں

انشا اللہ عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے،رحم دل اورنیک حکمران ہے 

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے —————- زخمِ ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے

شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے —————- آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

Leave a reply