fbpx

پرویز الٰہی ہی ہمارے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں:اوروہ ضرورجیتیں‌ گے:چوہدری شجاعت حسین

لاہور:پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کی حمایت کرنے کے ن لیگ کے دعوے کی تردید کردی ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پرویز الٰہی ہی ہمارے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں:اوروہ ضرورجیتیں‌ گے

پنجاب اسمبلی میں‌ تازہ صورتحال پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صاف الفاظ میں واضح کرتا ہوں کہ چودھری پرویزالٰہی ہی وزارت اعلیٰ کے ہمارے امیدوار ہیں، ہمارے ارکان سپیکر پنجاب اسمبلی کو ووٹ دیں گے۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ غلط افواہیں پھیلا کر ہمارے کسی رکن اسمبلی کو غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے: مسلم لیگی ارکان پنجاب اسمبلی نے ہمیشہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کی ہے، انشاء اللہ وہ چودھری پرویزالٰہی کی حمایت کریں گے۔چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں نے کبھی غلط بیانی نہیں کی، ہمیشہ صاف گوئی کا درس دیا ہے:اس طرح کی بے بنیاد افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔

دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ منحرف ارکان کو نکال کر دوبارہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ کروا لیتے ہیں،

ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے حمزہ شہباز کے حلف اور گورنر کے اختیارات کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ حمزہ شہباز کے وکیل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ 14 اپریل کو تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، پھر سپریم کورٹ میں صدر پاکستان نے آرٹیکل 63 کی تشریح کے لئے ریفرنس دائر کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکومت سے ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جا سکتا ہے؟ منحرف ارکان کو نکال کر دوبارہ وزارت اعلیٰ کی ووٹنگ کروا لیتے ہیں، عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے، تحریک انصاف کے وکیل اور پنجاب حکومت ہدایات لے کر پیش ہوں،کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس پر لاہورہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا، ایسی صورت میں پولنگ وہی پریزائیڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی تھی۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز وزیراعلی نہیں ہیں، ان کی موجودگی میں الیکشن غیر آئینی ہو گا، انہیں ہٹا کر انتخابات کیلئے 10 روز کا وقت مقرر کیا جائے۔ جسٹس شاہد جمیل خان نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی کے دوسرے انتخابات میں 25 اراکین کو نکال کر انتخابات کروانے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایک روز کی مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دن اور دے دیں تاکہ وزیر اعلی کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مہلت نا دی جائے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے کل صبح دس بجے تک سماعت ملتوی کردی۔