fbpx

پشاور میں تین کمسن بچیوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

پشاور میں تین کمسن بچیوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والا مبینہ ملزم گرفتارکر لیا گیا

ملزم کا تعلق سفید ڈھیری سے ہے ملزم نے تینوں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا اعتراف کیا،ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ میچ بچیوں کے ساتھ میچ کرگیا،مبینہ ملزم کی عمر 25 سے 30 سال تک ہے،ملزم نے تین ہفتوں میں تین کمسن بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں دو کو قتل کر دیا، زیادتی کے بڑھتے واقعات پر آئی جی خیبر پختونخواہ نے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی تھی، پولیس نے ملزم کا سراغ لگانے کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی، ملزم نے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم کو عدالت پیش کیا جائے گا جہاں اسکا جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا

آئی جی پولیس کے پی کا کہنا ہے کہ معصوم بچیوں کا درندہ قاتل پولیس کی گرفت میں آگیاہے،ہزار گھنٹے کی سی سی ٹی وی فوٹیجزدیکھی، جیو فینسنگ وغیرہ تمام چیزیں کیں، ملزم اپنے انجام کو پہنچے گا، ایسی وارداتیں بڑے چیلنجز ہیں پولیس اپنے فرائض احسن انداز میں انجام دے رہی ہے،تمام ٹیم شاباش کی مستحق ہے، سی سی پی او پشاور کی قیادت میں، قتل کی تینوں وارداتوں میں مماثلت تھی،معصوم بچیوں کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا،

پشاور کے تین تھانوں شرقی ، غربی اور تھانہ گلبرگ کی حدود میں تین ہفتوں کے دوران 10 سال سے کم عمرتین بچیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی،خیبر پختونخوا میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بحث ہوئی تو اراکین نے بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جے یو آئی کی خاتون رکن اسمبلی نعیمہ کشور کا کہنا تھا کہ کمیٹیاں بنتی ہیں مگر اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں زیادتی کے کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ پنجاب میں کیا جاتا ہے

زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

کے پی میں سال 2020ء کی نسبت سال2021ء میں کمسن بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خیبرپختو نخوا پولیس کے اعدادو شمار کے مطابق 2021 میں صوبہ کے 28 اضلاع سے بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے کل 360 واقعات سامنے آئے جن میں سے 311 جنسی زیادتی کے واقعات کمسن لڑکوں جبکہ 49 کیسز لڑکیوں کیساتھ پیش آئے،

طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام