جی ڈی پی گروتھ 3.94فیصد حکومتی دعوے پرپاکستان مسلم لیگ ن نے گزشتہ 9 سالہ رپورٹ جاری کر دی

0
66

پاکستان مسلم لیگ (ن ) ریسرچ ونگ نے گزشتہ 9 سالوں کی مجموعی ملکی پیداوار کی رپورٹ جاری کی ہے-

باغی ٹی وی : وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نےہفتہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہاتھا کہ کورونا وائرس کے دوران معیشت کو درپیش چیلنجوں کے باوجود 3.9فیصد جی ڈی پی گروتھ ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی بڑی کامیابی اور مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔روپے کی قدر میں کمی کے باوجود جی ڈی پی تقریبا 300 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ قومی اکائونٹس کمیٹی نے جی ڈی پی گروتھ کے تخمینے کو حتمی شکل دے دی ، الحمد اللہ جی ڈی پی گروتھ 3.94فیصد ہوگئی ہے۔

اسد عمر نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وباء کے باعث معیشت کو درپیش ایک بڑے چیلنج کے باوجود یہ گروتھ وزیراعظم عمران خان حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ثبوت اور بہت بڑی کامیابی ہے۔

جس پر اب پاکستان مسلم لیگ ن کے تحقیقاتی ادارے نے 3.9 فی صد کی ملکی پیداوار کا سیکٹر وائز تجزیہ کیا تحقیقاتی ادارے کے مطابق
اس دستاویز / ٹیبل کا مقصد صرف ممکنہ علاقوں کو اجاگر کرنا ہے جہاں مبالغہ آرائی کی جاسکتی ہے۔ لہذا صرف ان ہی ذیلی شعبوں / علاقوں کی اطلاع ہے جن کی نمو پر اس سال بڑا اثر پڑا تاہم اس کے بارے میں جاننے کے لئے ، مالی سال 2013 کے بعد اب تک یعنی (9 سال) پر غور کیا جاسکتا ہے۔

پی ایم ایل این کی جانب سے کہ نیچے دیئے گئے چارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے مالی سال 13 کے بعد کے (9 سال) میں ملکی پیداوار کی اوسط کیا رہی –

زراعت ، صنعت اور سروسز سیکٹرز کی 9 سال کی کارکردگی-

علاوہ ازیں رپورٹ میں مندرجہ بالا شعبہ جات کے علاوہ دوسرے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کی گیا-

رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت کی حکمت عملی دستاویز حکومت کی جانب سے اپریل کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی تھی ، جس کی بنیاد پر ترقی کا تخمینہ 3 فیصد کی حد میں کم تھا ، لہذا ایک ماہ کے دوران نمایاں طور پر کیا تبدیلی آئی جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس نے جی ڈی پی کو اوپر کی طرف 3.9 فیصد کردیا ، اس سے پہلے حکومت کا اپنا تخمینہ 2.1 فیصد تھا۔

· تاریخی طور پر ، مالی سال 2019 کے لئے پی ٹی آئی کے ذریعہ جی ڈی پی کا تخمینہ 1.9 فیصد (اہم نیچے کی نظر ثانی) نکلا ، اور اب اس میں ترمیم کچھ قدرے اوپر کی گئی جو کہ 2.1 فیصد ہے-

بہت سے ماہر معاشیات / تجزیہ نگار جیسے ڈاکٹر حفیظ پاشا ، ڈاکٹر ساجد امین ، ڈاکٹر نوید احمد ، پرویز طاہر نے اس جی ڈی پی گروتھ نمبر کوغیر حقیقت قرار دیا اور اپنے تخمینے کو 2 اور 3.5 فیصد کی حد میں بتاتے ہیں۔

· ڈاکٹر حفیظ پاشا نے روشنی ڈالی ہے کہ حکومت نے توانائی (بجلی / گیس) کی نمو میں 23 فیصد کمی کا اعتراف کیا ہے لیکن دوسری طرف تخمینہ لگایا گیا ہے-

صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر نمو جو توانائی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی (دلچسپ بات یہ ہے کہ 2018 میں ، توانائی کی نمو بھی منفی 17 فیصد تھی-

صنعتی نمو کے ساتھ 4.6 فی صد، (اگرچہ بہت عجیب ہے)۔ مزید ، انہوں نے روشنی ڈالی کہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں منفی پیداوار ہے۔

ڈاکٹر ساجد امین نے تخمینہ لگایا کہ پیداوار میں 2 اور 2.5 فیصد کے درمیان اضافہ ہوتا ہے چاہے ہم کم بیس اثر دیکھیں۔

ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں سسٹم میں بہت زیادہ لیکویڈیٹی بھی لگائی ہے۔ اپریل 20 کے دوران ، تقریبا 2 کھرب روپے مالیت کی لیکویڈیٹی ہے اور دیگر اقدامات کے نظام کی شکل میں ٹیکہ لگایا گیا۔

اعلی غذائی افراط زر سے گھرانوں کی قوت خرید کم ہورہی ہے جس کے نتیجے میں حقیقی اجرت میں کمی واقع ہوگی جس کا مطلب سرمایہ کاری میں کم بچت میں ہوگا۔

برائے نام شرائط میں جی ڈی پی میں اضافہ کم قرض / جی ڈی پی اور مالی خسارے میں بدل جائے گا جوآئی ایم ایف کی شرائط۔ میں حکومت کی تعمیل کے سلسلے میں آسانی پیدا کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے آخر میں واضح کیا گیا کہ نوٹ: مذکورہ بالا گفتگو / تجزیہ محض قیاس آرائیاں ہوسکتی ہیں-

ایک نظر رواں ماہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے جاری کی گئی جی ڈی پی کی رپورٹ پر

واضح رہے کہ رواں مالی سال اقتصادی شرح نمو 3.94فیصد کی توقع ہے، زراعت کے شعبے کی شرح نمو 2.77فیصد پر آگئی جو گزشتہ برس 3.31فیصد تھی ، صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.57 فیصداور خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.43 فیصد متوقع ہے۔

تعمیراتی شعبے ، لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ میں نمایاں اضافہ ، بجلی اورگیس کی گروتھ میں کمی ہوئی ، رواں مالی سال سالانہ اوسط فی کس آمدن 2لاکھ46ہزار414روپے رہی ، گزشتہ مالی سال کے مقابلےمیں فی کس آمدن میں 14.6فیصد اضافہ ہوا ، گزشتہ برس فی کس آمدن 2لاکھ15ہزار60روپے تھی۔

ڈالر کی کرنسی کے مطابق فی کس آمدن میں 13.4فیصد اضافہ ہوا اور1361ڈالر فی کس آمدن سے بڑھ کر یہ 1543ڈالر ریکارڈ کی گئی ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرنے کہا کہ 3.9فیصد جی ڈی پی کا حصول بہت بڑی کامیابی ہے۔

وزیرتوانائی حماد اظہر نے کہا 3.9فیصد ڈی جی پی شاندار معاشی بحالی کی اعلیٰ مثال ، معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو گی، وزیر مملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ڈیفالٹ کے دہانےپر معیشت ملی تھی، الحمداللہ کور ونا کے باوجود معشیت 4%پر ترقی کررہی ہے۔

وزارت منصوبہ بندی میں قومی اکائونٹس کمیٹی کا 103واں اجلاس سیکریٹری منصوبہ بندی کی زیر صدارت ہوا تھا جس میں مالی سال 2020-21کے لیے گزشتہ چھ سے 9ماہ کے اعداد وشمار کی بنیاد پر اقتصادی شرح نمو کے تخمینوں کا جائزہ لیا گیا۔

قومی اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2019-20میں اقتصادی شرح نمو منفی 0.38فیصد سے کم ہو کر منفی 0.47فیصد ہوئی تھی ، رواں مالی سال2020-21میں زرعی شعبے میں شرح نمو کم ہو کر 2.77فیصد ہو گئی جو کہ مالی سال 2019-20میں 3.31فیصد تھی۔

رواں برس اہم فصلوں کی شرح نمو 4.65فیصد رہی اور گندم ، چاول ، مکئی کی تاریخی پیداوار ہوئی جبکہ گنے کی فصل کی پیداوار دوسری سب سے زیادہ پیداوار رہی ، گندم کی پیداوار کی شرح نمو 8.1فیصد، چاول 13.6فیصد ، گنے کی شرح نمو22فیصد اور مکئی کی فصل کی شرح نمو 7.38فیصد رہی جبکہ کپاس کی فصل کی پیداوار میں کمی ہوئی اور اس کی شرح نمو منفی 22.8فیصد رہی ، جبکہ کاٹن جننگ کی پیداوار کی شرح کم ہو کر 15.6فیصد رہی۔

دوسری اجناس میں سبزیوں ، پھلوں اور چارے کی پیداوار زیادہ ہوئی ، اور ان کی پیداوار کی شرح 1.41فیصد رہی ، مویشیوں( لائیو سٹاک) کی پیداوارکی گروتھ 3.1فیصد رہی اور جنگلات کی گروتھ 1.4فیصد ریکارڈ کی گئی ،صنعتی شعبے کی گروتھ 3.57فیصد متوقع ہے۔

کان کنی اور کھدائی کے شعبےکی ویلیو ایڈیڈ کی گروتھ کم ہوکر 6.5فیصد رہی ، لارج سکیل منیوفیکچرنگ کے شعبے میں جولائی سے مارچ 2021کے اعدادوشمار کے مطابق بے مثال گروتھ ہوئی اوریہ 9.29فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اس شعبے میں ٹیکسٹائل کی گروتھ 5.9فیصد، فوڈ بیوریجز اور تمباکو کی گروتھ کی شرح 11.73فیصد ، پیٹرولیم مصنوعات 12.71فیصد ، نان میٹالک مصنوعات24.31فیصد، فارماسیوٹیکلز 12.57فیصد ، کیمیکلز 11.65فیصد ، آٹوموبائلز( گاڑیوں ) کی شرح نمو 23.38فیصداور کھاد کی شرح نمو 5.69فیصد رہی۔

بجلی اور گیس کے شعبے کی گروتھ میں کمی ہوئی اور ان کی شرح نمو 22.96فیصد ریکارڈ کی گئی ، تعمیراتی شعبے کی گروتھ میں اضافہ ہوا ور اس شعبے کی گروتھ 8.34فیصد ہوئی ، رواں مالی سال خدمات کے شعبے کی گروتھ 4.43فیصد متوقع ہے۔

ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے میں گروتھ کی شرح 8.37فیصد رہی ، ٹرانسپورٹ ، سٹوریج اور مواصلاحات کے شعبے کی گروتھ میں کمی رہی اور ان کی گروتھ 0.61فیصد ہوئی ، فنانس اورانشورنس کے شعبے میں 7.84فیصد کے ساتھ گروتھ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہائوسنگ ، جنرل گورنمنٹ خدمات اور دیگر نجی خدمات کے شعبوں میں گروتھ میں اضافہ ہوا، ہائوسنگ کے شعبے میں 4.01فیصد ، جنرل گورنمنٹ خدمات 2.20فیصد اور نجی خدمات کے شعبے میں گروتھ 4.64فیصد رہی۔

رواں مالی سال جی ڈی پی کا کرنٹ مارکیٹ کے لحاظ سے حجم 47709ارب روپے رہا اور اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.8فیصد اضافہ ہوا گزشتہ برس جی ڈی پی کا حجم 41556ارب روپے تھا۔

اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 3.77فیصد ، خدمات کے شعبے کی منفی 0.55فیصد تھی ، زرعی شعبے میں گزشتہ مالی سال اہم فصلوں کی شرح نمو 5.24فیصد ، لائیو سٹاک 2.10فیصد ، جنگلا ت 3.60فیصد تھی-

پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے پی ٹی آئی پنجاب حکومت کی اڑھائی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری

Leave a reply