اگست میں فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی سے 10 ارب روپے کی بچت ہوئی، اویس لغاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے بروقت اقدامات اور مؤثر فیصلوں کے باعث اگست 2026 میں فیول ایڈجسٹمنٹ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے کے ساتھ تقریباً 10 ارب روپے کی بچت بھی ممکن ہوئی۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے بیان میں اویس احمد خان لغاری نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں فیول ایڈجسٹمنٹ 2.0581 روپے فی یونٹ تھی، جو اگست میں کم ہو کر 1.73 روپے فی یونٹ رہ گئی۔ ان کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداوار میں مقامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہے۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اگست 2026 کے دوران ملک میں پیدا ہونے والی مجموعی بجلی کا 72 فیصد مقامی وسائل سے حاصل کیا گیا، جبکہ صرف 28 فیصد بجلی درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی کے ذریعے پیدا ہوئی۔ مقامی وسائل کے زیادہ استعمال سے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوا، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملی۔ اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی ایندھن مارکیٹوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ عالمی حالات کے نتیجے میں اسپاٹ کارگو کی قیمتیں 23 سے 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہیں، جس سے درآمدی ایندھن کے استعمال کی صورت میں بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن اور این سی ایم سی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اضافی مقامی گیس کا انتظام کیا۔ اضافی مقامی گیس کی دستیابی کے باعث مہنگی آر ایل این جی کی خریداری سے گریز ممکن ہوا، جس نے فیول ایڈجسٹمنٹ کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر اضافی مقامی گیس دستیاب نہ ہوتی تو پاور سیکٹر کو مزید ایک گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے مطابق فرنس آئل یا درآمدی آر ایل این جی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صورت میں صارفین کے ٹیرف میں تقریباً 10.6 ارب روپے کا اضافی اضافہ ہوجاتا۔ اویس لغاری نے فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا سہرا عوام کے تعاون کو بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں نے رات کے اوقات میں چند گھنٹے لوڈ مینجمنٹ برداشت کی، جس کے باعث حکومت کو بجلی کی پیداوار کے اخراجات کو کم رکھنے میں مدد ملی اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ کم کیا جاسکا۔ وفاقی وزیر توانائی نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے بجلی کی قیمتیں کم رکھنے کی حکومتی کوششوں میں تعاون کیا، جس پر وہ دل کی گہرائیوں سے ان کے شکر گزار ہیں۔ اویس احمد خان لغاری نے مزید کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو عوام پر 10 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑتا۔ حکومت اپنی عوام دوست پالیسیوں کے تحت بجلی صارفین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بجلی کی پیداواری لاگت کو کم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔





