Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،رئیس عنایت اللہ چاچڑ

raees anayat


رئیس عنایت اللہ چاچڑ کا تعلق ضلع رحیم یار خان کے علاقے ظاہر پیر سے ہے۔ انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق اور اپنے خیالات کو الفاظ کا روپ دینے کی جستجو ان کی شخصیت کا حصہ رہی ہے۔ یہی شوق وقت کے ساتھ ادب، صحافت اور خدمتِ خلق سے گہری وابستگی میں بدلتا چلا گیا۔ اپنے علاقے اور اپنے شہر کے لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے، ان کی آواز کو اجاگر کرنے اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے جذبے نے انہیں صحافت کے میدان میں قدم رکھنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ڈیلی پاکستان ملتان سے بطور نمائندہ کیا، بعد ازاں ڈیلی جہان پاکستان ملتان سے بھی وابستہ رہے اور صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ آج وہ ڈیلی بدلتا زمانہ ملتان کے نمائندے کی حیثیت سے ظاہر پیر، ضلع رحیم یار خان میں اپنے فرائض محنت، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ صحافت کے ساتھ ساتھ ادب سے ان کی محبت بھی روز بروز گہری ہوتی گئی۔ مختلف اخبارات، رسائل اور ادبی پلیٹ فارمز پر ان کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں جبکہ مختلف ادبی سرگرمیوں میں بھی وہ بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کے لیے لکھنا محض الفاظ کو کاغذ پر اتارنے کا نام نہیں بلکہ اپنے احساسات، مشاہدات اور معاشرے کے مسائل کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ رئیس عنایت اللہ چاچڑ کی تحریروں میں زندگی کے حقیقی رنگ، معاشرتی احساس، انسانی جذبات اور اپنے لوگوں کے لیے درد نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک ایسا جذبہ محسوس ہوتا ہے جو قاری کے دل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب سے والہانہ محبت، قلم سے وابستگی اور مسلسل محنت نے ان کے اس خوبصورت سفر کو ایک منفرد پہچان عطا کی ہے۔ حب الوطنی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ ملک و قوم کی خدمت، معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا، مظلوم اور کمزور طبقے کی آواز بننا اور اپنے قلم کو حق و سچ کے لیے استعمال کرنا ان کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ ان کا یقین ہے کہ قلم اگر اخلاص کے ساتھ اٹھایا جائے تو یہ صرف تحریر نہیں کرتا بلکہ معاشرے کے احساس کو جگانے اور لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ رئیس عنایت اللہ چاچڑ کے لیے یہ سفر ابھی جاری ہے۔ صحافت، ادب اور خدمتِ خلق سے جڑی یہ راہ ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک خوبصورت مقصد ہے، اور وہ اسی عزم کے ساتھ اپنے قلم کو معاشرے، ادب اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے استعمال کرتے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔