Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تاش کا کھیل ، جوئے کا الزام اور مبشر لقمان - اسٹیڈیم کے نیچے چھپا وہ راز جس نے دنیا کو حیران کر دیا,(قسطِ دوم)تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر

  • لاہور جم خانہ کے اس تاریخی ہال میں باہر برستی بارش اور بوندوں کا احساس ماحول کو اور بھی رومان پرور بنا رہا تھا جبکہ اندر ایک باوقار اور گہری خاموشی طاری تھی۔ جب میں نے مبشر لقمان صاحب سے پاکستان میں بریج کے ماضی اور اس کی جڑوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکڑی کی میز پر پڑے اپنے ہاتھ آپس میں جوڑے ایک گہرا سانس لیا اور ان کی آنکھوں میں ماضی کے دلفریب اور تلخ اوراق یکلخت کھلنے لگے۔ ان کا اندازِ بیاں بالکل کسی کہنہ مشق داستان گو جیسا تھا جس کے ہر جملے میں تاریخ کا وزن اور صحافتی بصیرت جھلک رہی تھی۔
  • نعیم صاحب ! اگر آپ پاکستان میں بریج کی تاریخ کے اوراق الٹیں - مبشر لقمان صاحب نے ایک پُراسرار مسکراہٹ کے ساتھ بات کا آغاز کیا تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ کھیل ہمارے ہاں کسی سرکاری حکم نامے سے نہیں بلکہ 1950 اور 70 کی دہائی میں شائقین کے جذبے سے پھیلا۔ 1957 میں ایک زبردست انجینئر اور بزنس مین خواجہ عظیم الدین نے کراچی میں '57 Club' کی بنیاد رکھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا باقاعدہ بریج کلب تھا جس نے پڑھ لکھے طبقے میں اس کھیل کی جوت جگائی۔
  • وہ رکے ! ہال میں بیٹھے کھلاڑیوں پر ایک نظر ڈالی اور پھر لہجے کو تھوڑا ڈرامائی بناتے ہوئے بولے ! لیکن اصل سسپنس تو وسط 1970 کی دہائی میں شروع ہوا جب ڈاکٹر محمد الیاس سعودی عرب سے کراچی واپس آئے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ بریج کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے کراچی کے بنگلور ٹاؤن ہال میں ایک کلب قائم کیا۔ ماحول بہت شاندار تھا لوگ بڑی تعداد میں آ رہے تھے لیکن پھر 1977 میں ایک غیر متوقع طوفان آیا۔ پاس ہی واقع ایک مسجد نے اس کھیل پر جوئے اور بدکاری کا الزام لگا دیا۔ ماحول اتنا کشیدہ ہوا کہ کلب کو وہاں سے فوری طور پر بند کرنا پڑا۔
  • پھر کیا ہوا مبشر صاحب؟" میں نے بے ساختہ پوچھا۔
  • انہوں نے مسکراتے ہوئے چائے کی پیالی اٹھائی اور کہا پھر وہی ہوا جو جنون کی راہ میں ہوتا ہے۔ کھیل ختم نہیں ہوا بلکہ اسے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کے ایک وسیع اسٹینڈ کے نیچے منتقل کر دیا گیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ وہ کھیل جو ایک الزام کی زد میں آیا تھا اسٹیڈیم کی گیلری کے نیچے ایسے پنپا کہ وہاں سے عالمی چیمپئن نکلے۔ ایم اسلم شیخ مرحوم جیسے عبقری انسان نے اس اسٹیڈیم کے نیچے سیشنز کروائے ، سپانسرز لائے ، ماسٹر پوائنٹ سسٹم متعارف کرایا اور پاکستان کو دنیا کے نقشے پر لا کھڑا کیا۔ اگرچہ 1995 میں ایک مسلح ڈکیتی میں اسلم شیخ کو شہید کر دیا گیا لیکن ان کی لگائی ہوئی چنگاری شعلہ بن چکی تھی۔
  • مبشر لقمان صاحب کے لہجے میں اب ایک فخر اور جوش نمایاں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1972 میں 'پاکستان بریج ایسوسی ایشن' بنی جو 1993 میں 'پاکستان بریج فیڈریشن' (PBF) میں ڈھل گئی۔ اور جانتے ہیں نعیم صاحب؟ 1980 کی دہائی پاکستان میں بریج کا سنہری ترین دور تھا ، 1981 میں جب پاکستان کی ٹیم Bermuda Bowl کے فائنل میں پہنچی تو یورپ اور امریکہ کی چھاتیاں دہل گئیں۔ یہ امریکہ اور یورپ سے باہر دنیا کا پہلا ملک تھا جو اتنے بڑے عالمی فائنل میں پہنچا تھا۔ 1986 میں ہم نے پھر فائنل کھیلا۔ ضیاء محمود جیسے عظیم پاکستانی کھلاڑی نے دنیا بھر میں اپنی ذہانت کا لوہا منوایا اور ہم ایشیا اور مڈل ایسٹ (BFAME) کی چیمپئن شپس مسلسل جیتتے رہے۔
  • یہاں پہنچ کر مبشر لقمان صاحب کا چہرہ اچانک اداس ہو گیا اور ان کی آواز کچھ دھیمی ہو گئی۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا اور باوقار کھیل اچانک گمنامی کے اندھیروں میں کیوں چلا گیا؟ کیوں اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی جو ملنی چاہیے تھی؟
  • انہوں نے خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چند تلخ حقائق سامنے رکھے۔ سب سے پہلی وجہ حکومتی سرپرستی اور فنڈنگ کا نہ ہونا ہے۔ بریج کو کرکٹ یا ہاکی کی طرح کبھی سرکاری فنڈز نہیں ملے۔ آج اگر ہمیں بین الاقوامی سطح پر ٹیم بھیجنی ہو تو 2 سے 2.5 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں جبکہ فیڈریشن کو ملنے والی سالانہ گرانٹ ناکافی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے 'بوڑھوں کا کھیل' یا صرف 'امیروں کا مشغلہ' سمجھ کر نچلی سطح پر پھیلاؤ سے روکا گیا۔ کھلاڑیوں کی عدم دستیابی اور ہجرت نے بھی اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔
  • اور کیا کوئی مخصوص طبقہ یا مذہبی گروہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ میں نے مبشر صاحب کی انویسٹیگیٹو صلاحیتوں کو ٹٹولتے ہوئے چبھتا ہوا سوال کیا۔
  • مبشر لقمان صاحب نے نفی میں سر ہلایا اور بڑی سنجیدگی سے کہا نہیں نعیم صاحب ! یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ کوئی منظم طبقہ ، مذہبی یا سیاسی جماعت اس کے خلاف نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ہماری عدم توجہی ، آگاہی کی کمی اور جوئے کا وہ بے بنیاد الزام ہے جو صرف معلومات نہ ہونے کی وجہ سے تاش کے 52 پتوں پر چپکا دیا گیا۔ جب لوگ یہ سمجھیں گے ہی نہیں کہ بریج میں ایک روپے کا بھی جوا نہیں ہوتا اور یہ شطرنج کی طرح ایک تسلیم شدہ 'مائنڈ اسپورٹ' ہے تو وہ اپنے بچوں کو اس طرف کیسے لائیں گے؟
  • باہر برستی بارش کی دھیمی سی سرسراہٹ کا احساس اور جم خانہ کا وہ تاریخی ہال مبشر لقمان صاحب کے ان فکر انگیز انکشافات سے جیسے گونج رہا تھا۔ پاکستان بریج فیڈریشن کے نويں منتخب صدر کے طور پر اب ان کا اگلا قدم کیا تھا؟ وہ اس کھیل کو اسکولوں ، کالجوں ، عام سفید پوشوں اور خواتین تک کیسے پہنچانا چاہتے تھے؟ اور کیا وہ تاش کے اس کھیل سے جوئے کا داغ دھو پائیں گے؟
  • یہ تمام انقلاب آفریں منصوبہ بندی اور مبشر لقمان صاحب کا اصل ویژن کیا تھا؟ اس کا سنسنی خیز احوال اور آخری باب... اگلی اور آخری قسط میں