Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پائیدار ترقی اور خواتین کے لیے مواقع،تحریر:قرۃالعین خالد

نقطہ نظر
quratulain khalidd

زمانہ جاہلیت میں مرد و زن میں فرق کیا جاتا تھا۔ عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا پھر سرور کائنات کی تشریف آوری نے دنیا کو بتایا کہ "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ"

پھر دنیا کو پتہ چلا کہ"ماں کے قدموں نے نیچے جنت ہے۔" پھر زمانے نے جانا کہ"دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔" پھر دنیا نے حضرت خدیجہ کے روپ میں دیکھا کہ عورت کاروبار بھی کر سکتی ہے۔ حضرت عائشہ کے روپ میں دیکھا کہ عورت درس و تدریس بھی کر سکتی ہے۔ عورت جنگوں میں مرہم پٹی بھی کر سکتی ہے۔ زخمیوں کو پانی بھی پلا سکتی ہے۔ عورت مومنوں کو جنگوں میں جوش دلانے کے لیے شاعری بھی کر سکتی ہے۔ جب یہ فیصلے صدیوں پہلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کر دیے تھے تو اب اس معاشرے کے چند نام نہاد مردوں کو عورت کے کام سے کیا مسلہ ہے؟ آج دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے کہ عورت ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔ وہ معاشرے کا پچاس فیصد حصہ ہے اس لحاظ سے تمام شعبوں میں ساجھی دار ہے۔ لہذا پائیدار ترقی کے شعبے میں مواقع بڑھانا صرف صنفی برابری کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی اور معاشی مسائل کے پائیدار حل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ جب خواتین کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں تو معاشرے میں زیادہ موثر اور مثبت تبدیلیاں لاتی ہیں۔ خواتین کی شمولیت اور مواقع کو بڑھانے کے لیے ہم اس بارے میں دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے میں توجہ دلانا چاہوں گی تعلیم اور ہنر کی فراہمی کے بارے میں۔ عورت اور مرد کی تقسیم سے باہر آ کر سوچیں کہ حصول علم ہر مسلمان مرد و عورت کا حق ہے۔ دین اسلام میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ یہ ہنر آدمیوں کے سیکھنے کا ہے اور یہ خواتین کے لیے ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام خود کرتے تھے۔ کپڑوں پر پیوند خود لگاتے تھے تو، ثابت ہوا کہ مرد و خواتین سب کام کر سکتے ہیں۔ مردوں کی طرح خواتین کو بھی گرین جابز کے لیے تربیت دی جانی چاہیے۔ انہیں ایسے جدید ہنر سکھائے جائیں جن کی پائیدار ترقی میں ضرورت ہو۔ جیسے سولر پینل، ٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، پائیدار زراعت اور کچڑے کی ری سائیکلنگ وغیرہ، اس کے بعد اگر ہم تعلیم کی طرف آئیں تو سائنس اور ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس کے جتنے شعبہ جات ہیں اس میں طالبات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، تاکہ وہ ماحولیاتی سائنس اور گرین انڈسٹریز کی ترقی میں اپنا بنیادی کردار ادا کر سکیں۔ پھر اگلہ اسٹیپ یہ ہونا چاہیے کہ ماحول دوست کاروبار کے لیے مالی معاونت کے حوالے سے گھریلو خواتین کو آگاہی دیں ان کے لیے باقاعدہ ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے ان کو کاروبار کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔ جو خواتین ماحول دوست کاروبار جیسے پائیدار فیشن، اورگینک فارمنگ یا پلاسٹک کی متبادل مصنوعات کا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہیں انہیں آسان شرائط پر مالی امداد اور بزنس لونز دیے جائیں۔ خواتین کے بنائے ہوئے پائیدار اور ہینڈ میڈ اشیاء کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے پلیٹ فارمز مہیا کیے جائیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمائشوں کا انعقاد کیا جائے۔ پھر اگر ہم دیکھیں کہ فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کی نمائندگی سرکاری اور نجی اداروں میں ماحولیاتی پالیسیاں بنانے والی کمیٹیوں میں خواتین کو بھی ضرور ذمہ داریاں دی جائیں اور یونین کونسل اور محلے کی سطح پر خواتین کی ایسی تنظیمیں بنائی جائیں جو پانی کی کمی، صفائی اور شجر کاری جیسے مسائل کے حل کے لیے خود فیصلے کر سکیں۔ ایک بہت اہم نقطے کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی کہ پائیدار زراعت میں ہمارے دیہی علاقوں کی خواتین کی سپورٹ بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ کیونکہ آج بھی دیہاتوں میں زراعت کا بڑا حصہ خواتین ہی سنبھالتی ہیں۔ انہیں جدید اور ماحول دوست کاشتکاری، پانی کی بچت کے طریقوں اور لائیو سٹاک کی پائیدار دیکھ بھال کی مفت تربیت دی جانی چاہیے۔ زمین کی ملکیت و زراعی وسائل پر خواتین کے حقوق کو قانونی طور پر مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کر سکیں۔ انہیں مزدور کے احساسات سے نکال کر مالکیت کا احساس دلایا جائے۔ پھر اہم نقطہ یہ ہے کہ خواتین کے لیے کام کی جگہ پر سازگار ماحول کس طرح سے بن سکتا ہے؟ تو گرین انڈسٹریز میں خواتین کے لیے کام کا ایسا ماحول بنایا جائے جو محفوظ اور لچکدار ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس فیلڈ کا حصہ بن سکیں تو ہم ایک بات دیکھیں دھیان رکھیں کہ اگر ہم پائیدار ترقی کی ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی آدھی آبادی یعنی خواتین کی نظر انداز نہیں کرنا بلکہ انہیں اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر با اختیار بنا کر آگے بڑھانا ہے۔ خواتین میں وسائل کو سنبھالنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے ضرورت صرف اس امر کی انہیں صحیح مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں۔ اگر ہم بہترین معاشرہ چاہتے ہیں بہترین پاکستان چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب مل کر کام کریں گے تو بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ وہ کہاوت ہے نا ایک سے بھلے دو اور ایک اکیلا اور دو گیارہ۔ تو اسی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی خواتین کے لیے راہیں ہموار کریں تاکہ پاکستان کا مستقبل روشن ہو۔ ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں اور جیو اور جینے دو کو اپنی زندگی میں شامل کریں ترقی آپ کا مقدر ہو گی۔ ان شاءاللہ!