29 ستمبر: دل کا عالمی دن،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
20 اگست 2020 کی وہ تاریخ میرے حافظے پر ایک انمٹ نقوش کی طرح ثبت ہے، جب میں ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کی سرد میز پر زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا اور دل کے بند راستوں کو چیر کر میرا بائی پاس کیا گیا۔ آج جب پلٹ کر گزرے ہوئے برسوں اور معاشرے کی روش پر نگاہ ڈالتا ہوں تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی چہل پہل، روزمرہ کی گہما گہمی اور وقت کی اندھی دوڑ میں ہم انسان اس وقت تک خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے رہتے ہیں جب تک سینے کے وسط میں اٹھنے والا کوئی تیز درد یا سانس کا اچانک گھٹ جانا ہمیں موت کے دہانے پر لا کھڑا نہ کر دے۔ کاش ہم اس کٹھن گھڑی کے آنے سے پہلے سنبھل سکیں، جب واپسی کے راستے انتہائی محدود اور پچھتاوے لاحاصل ہو جاتے ہیں۔
دل کا مریض بننے کا سفر کوئی راتوں رات اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ سالوں پر محیط ہماری اپنی بے پروائیوں، غیر متوازن خوراک، ناقص طرزِ زندگی اور جسم کے خاموش اشاروں کو مسلسل جھٹلانے کا ایک اندوہناک منطقی نتیجہ ہے۔ اگر ہم دیانت داری سے اپنے روایتی دسترخوان کا جائزہ لیں تو واضح ہوگا کہ ہم نے قدرت کی عطا کردہ فطری سادگی کو تیاگ کر اپنی زبان کے چند سیکنڈ کے چٹخاروں کو اپنا قبلہ بنا رکھا ہے۔ ہماری ہانڈیوں میں تیرتا ہوا تیز گھی، بازار کی کڑاہیوں میں بار بار کھولایا جانے والا زہریلا تیل، تلی ہوئی اور بھنی ہوئی مرغن غذائیں، اور سفید میدے و چینی کے انبار دراصل غذا نہیں بلکہ شریانوں کے اندر جمنے والا وہ گند بن رہے ہوتے ہیں جو آگے چل کر سنگلاخ دیواروں میں ڈھل جاتا ہے۔ ہم نے خون کو پتلا اور رواں رکھنے والے موسمی پھلوں، کچی سبزیوں اور دلیے کو لاپرواہی سے چھوڑ دیا، اور نمک سے لدی ہوئی ڈبہ بند خوراک، جنک فوڈ اور سوڈیم و میٹھے سے بھرپور مشروبات کو اپنی جدیدیت کا معیار بنا لیا۔ جب خون میں چکنائی اور سوڈیم خطرے کے نشان سے اوپر نکل جاتے ہیں تو شریانیں اپنی قدرتی لچک کھو بیٹھتی ہیں، اور اس ناتواں دل کو پورے بدن تک خون پہنچانے کے لیے دہرا اور غیر معمولی زور لگانا پڑتا ہے، جس کا انجام رفتہ رفتہ شریانوں کے مکمل بند ہونے اور دل کے بیٹھ جانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
لیکن ظلم صرف اس غیر متوازن خوراک تک محدود نہیں، ہماری عادات اور معمولات نے بھی دل پر قیامت ڈھا رکھی ہے۔ آج کا انسان بظاہر متحرک دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے بدترین جسمانی جمود کی گرفت میں ہے۔ دفتر کی گھنٹوں طویل کرسی، گھر کے صوفے اور گاڑی کے آرام نے ہمارے پاؤں سے زمین پر چلنے کی حرکت چھین لی ہے۔ خون کی روانی کو بحال رکھنے والی روزانہ کی ہلکی سی چہل قدمی بھی اب ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد ہماری راتیں ہیں جنہیں ہم نے جاگنے اور جلنے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ دیر رات تک موبائل، ٹیبلٹ اور اسکرینوں کی نیلی روشنی میں غرق رہنا اور صبح تھکے ماندہ اعصاب کے ساتھ اٹھنا انسان کے اندرونی دفاعی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ نیند کی اس دانستہ چوری سے دل کو رات کے وقت ملنے والا قدرتی سکون اور خودکار مرمت کا عمل رک جاتا ہے، جس سے جسم مستقل سوزش کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ اور ان سب پر ستم سگریٹ، شیشہ اور تمباکو کا وہ دھواں ہے جو ایک ایک کش کے ساتھ شریانوں کی نازک اندرونی دیواروں کو یوں زخمی کرتا ہے جیسے نازک آئینے پر پتھر سے لکیریں کھینچی جا رہی ہوں۔
ان ظاہری کوتاہیوں کے پیچھے ایک اور خاموش قاتل چھپا بیٹھا ہے، جس کا نام مستقل ذہنی تناؤ، کڑھن اور اندرونی غصہ ہے۔ ہم نے سماجی دکھاوے، معاشی دوڑ اور چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو دل کا ناسور بنا رکھا ہے۔ مستقل پریشانی، حسد، تلخی اور بے صبری کے دوران جسم میں تناؤ کے ہارمونز کی سطح مسلسل بلند رہتی ہے، جو خون کی نالیوں کو بھینچ کر بلڈ پریشر کو معمول پر نہیں آنے دیتے۔ دکھوں کو سینے میں گھونٹ لینا، اپنوں سے اپنے جذبات نہ بانٹنا، اور ہر معاملے میں گھبراہٹ کا مظاہرہ دل کو ہر دم ایمرجنسی موڈ میں رکھتا ہے۔ مسوڑھوں کی سوزش کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا، درد کو دبانے کے لیے بے دریغ پین کلرز کھانا، یا پانی کم پی کر خون کو گاڑھا ہونے دینا وہ چھوٹی غفلتیں ہیں جن کے نقصانات رفتہ رفتہ دل کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔
یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ دل کی تمام تر تکالیف صرف انسان کی دانستہ بے احتیاطیوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات جسم کے اندرونی میکانزم کے وہ عناصر بھی آڑے آتے ہیں جن پر انسان کا فوری اختیار نہیں ہوتا۔ خاندانی تاریخ اور موروثی اثرات کی وجہ سے کئی افراد میں خون سے کولیسٹرول صاف کرنے کا نظام پہلے ہی سست ہوتا ہے، یا خون کے لوتھڑے بننے کا رجحان قدرتی طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ شریانوں کا سخت ہو جانا، یا ذیابیطس اور گردوں کے دائمی امراض کا ہونا خون کی باریک نالیوں کو خاموشی سے جھلساتا رہتا ہے۔ بچپن میں گلے کے ورم اور بخار کا نامکمل علاج بڑے ہو کر دل کے نازک والوز کو ناکارہ بنا دیتا ہے، جبکہ خون کی شدید کمی دل کے پٹھوں پر دہرا دباؤ ڈال کر انہیں لاغر کر دیتی ہے۔
دل کا عالمی دن محض تقاریر یا بینرز آویزاں کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دن ہم سے اپنے طرزِ حیات کے احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ دل کو روگ سے بچانا کسی ناممکن معجزے کا نہیں بلکہ خود پر تھوڑی سی نظرِ کرم، سچی ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کا طلبگار ہے۔ یہ حقیقت پلے باندھ لیجیے کہ دسترخوان پر چند مرغن لقموں کی قربانی دے دینا، ہسپتال کے آئی سی یو، تشویش ناک مانیٹروں اور بائی پاس کی کٹھن سرجریوں سے ہزار ہا درجے آسان اور سستا ہے۔ اپنے سینے میں دھڑکتی اس نعمت کی قدر کیجیے، صبح کی تازہ ہوا میں قدم بڑھائیے، سادہ پانی سے جسم کو سیراب رکھیے، اور ہر قسم کے بغض و پریشانی کو دل سے کھرچ کر باہر پھینک دیجیے۔ بیماری کے بعد سنبھلنا اور جینا اگرچہ ممکن ہے مگر بیماری کے دہانے پر پہنچنے سے پہلے بیدار ہو جانا ہی دراصل سچی دانائی، شکر گزاری اور زندگی سے حقیقی محبت کا سب سے معتبر ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں





