Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ڈائری کا اک ورق،تحریر:ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

آج پھر میں نے ڈائری اٹھائی اور اپنے پرانی تحریر پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔

انتظار گاہ کھچا کھچ مریضوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں ہمیشہ کی طرح اپنی ڈیوٹی پر مریضوں کے چہرے پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجھے تو ہر چہرہ ستا ہوا نظر آیا۔ ہر چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔ کوئی درد کی کیفیت سے بیزار، تو کوئی طویل انتظار سے پریشان تھا۔ ان سارے مریضوں میں ایک چہرہ ایسا تھا، جو دنیا سے بے خبر اپنے کام میں مشغول تھا۔ وہ ایک پچیس سے تیس سالہ خاتون تھی۔ پاؤں مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ غربت اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھی۔

وہ کبھی اپنی گود میں سوئے ہوئے بچے کو دیکھتی اور کبھی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک پرانی سی پرچی کو غور سے پڑھنے کی کوشش کرتی۔ اس کے لب مسلسل حرکت کر رہے تھے، جیسے کسی سے خاموشی سے فریاد کر رہی ہو۔ میں نے کئی مرتبہ اسے دیکھا مگر وہ اپنی ہی دنیا میں گم رہی۔

بالآخر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں اس کے قریب گئی اور نرمی سے پوچھا، "بہن! کیا ہوا ہے؟ کس کو دکھانے آئی ہو؟"

وہ چونکی، جیسے کسی گہری سوچ سے باہر نکلی ہو۔ اس نے اپنی گود میں سوئے بچے کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی آواز میں بولی؛ "باجی! میرا بیٹا تین دن سے بخار میں تپ رہا ہے۔ گاؤں کے عطائی ڈاکٹر سے دوا لی تھی مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔ آج بڑی مشکل سے کرایہ جمع کرکے یہاں پہنچی ہوں۔"

میں نے بچے کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ نحیف سا وجود ماں کے سینے سے لگا بے سدھ پڑا تھا۔ اس کے ہونٹ خشک تھے اور سانسیں تیز چل رہی تھیں۔

"تم نے خود کچھ کھایا ہے؟" میں نے پوچھا۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔

"کیوں؟ صبح سے یہاں بیٹھی ہو، کچھ تو کھایا ہوگا؟"

وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

باجی، گھر میں کل رات کی دو روٹیاں تھیں۔ ایک بیٹے کو کھلا دی اور دوسری اس کے باپ کے لیے رکھ دی۔ وہ بھی مزدوری کی تلاش میں صبح سے نکلا ہوا ہے۔ میں کیسے کھا لیتی؟"

اس کا جواب سن کر میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ میں روزانہ درجنوں مریض دیکھتی تھی مگر اس عورت کے الفاظ نے مجھے اپنے ہی پیشے کی حقیقت سے ایک بار پھر آشنا کر دیا۔ بیماری صرف جسم کو نہیں توڑتی، بعض اوقات غربت انسان کی ہمت، خواہشیں اور بنیادی ضروریات بھی نگل جاتی ہے۔

میں نے فوراً بچے کو معائنے کے لیے اندر بھجوایا۔ ڈاکٹر نے بچے کی حالت دیکھ کر فوری توجہ دینے کی ہدایت کی۔ خاتون میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی۔

"باجی، میرے بچے کو بچا لیجیے۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں۔"

میں نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔

"بہن! ہاتھ مت جوڑو۔ یہ ہسپتال ہے، یہاں تم اپنے بچے کا علاج کروانے آئی ہو، کوئی بھیک مانگنے نہیں۔"

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ شاید کئی دنوں سے اس کے دل میں جمع خوف، بے بسی اور محرومی کو پہلی مرتبہ کسی نے سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اس کے لیے کھانے کا انتظام کیا اور علاج کے ضروری مراحل میں اس کی مدد کی۔ بچے کو طبی نگرانی میں رکھا گیا۔ دوپہر ڈھلتے ڈھلتے اس کے بخار میں کمی آنے لگی تو خاتون کے چہرے پر بھی زندگی کی ہلکی سی روشنی لوٹ آئی۔

وہ بار بار بچے کو چومتی اور آسمان کی طرف دیکھ کر کچھ کہتی۔ میں نے پوچھا؛ "اب کیا دعا مانگ رہی ہو؟"

اس نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا؛ "باجی، اللّہ سے کہہ رہی ہوں کہ میرے بچے کو صحت دے دے۔ باقی زندگی تو جیسے تیسے گزر ہی جائے گی۔"

میں اس کی بات سن کر خاموش ہوگئی۔

شام کو جب میں ڈیوٹی ختم کرکے گھر جانے لگی تو وہ خاتون میرے پاس آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک روایتی سا سوٹ تھا۔ اس نے جھجکتے ہوئے وہ سوٹ میری طرف بڑھایا۔

"باجی، میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ یہ میرے لیے میری ماں نے اپنے ہاتھوں سے سیا تھا۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے رکھ لیں۔ میرے پاس آپ کی مہربانی کا بدلہ دینے کے لیے بس یہی ہے۔"

میں نے سوٹ لینے سے انکار کر دیا مگر وہ اصرار کرتی رہی۔ بالآخر میں نے اسے گلے لگا لیا اور کہا؛ "بہن، تمہارا بچہ صحت مند ہو جائے، میرے لیے یہی سب سے بڑا تحفہ ہے۔"

وہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ اچانک اس کا بچہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور ننھے ننھے ہاتھ میری جانب بڑھانے لگا۔ میں نے اسے گود میں اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے تو اس کی ماں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی بہہ نکلی۔ وہ بچے کے پاؤں چومتے ہوئے بولی؛ "میرے لال! تجھے کیا معلوم، تیری ایک مسکراہٹ کے لیے تیری ماں نے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ کتنی بار بھوکی سوئی ہوں، کتنی بار تیرے باپ کے سامنے اپنے آنسو چھپائے ہیں، اور کتنی بار اللّہ سے کہا ہے کہ میرے حصے کی ساری خوشیاں میرے بچے کو دے دے مگر اسے کسی کا محتاج نہ کرنا۔"


اس کی آواز بھرا گئی۔ اس نے بچے کو سینے سے لگایا اور سسکیاں لیتے ہوئے بولی، ’"باجی! جب یہ بیمار تھا نا، تو مجھے لگتا تھا کہ میری دنیا ختم ہو جائے گی۔ میرے پاس اسے دینے کے لیے نہ اچھا کھانا تھا، نہ گرم کپڑے، نہ مہنگی دوا خریدنے کے پیسے۔ میں بس اس کے سرہانے بیٹھ کر دعائیں کرتی رہی۔ رات کو جب یہ تپتا تھا تو میں اس کے ماتھے پر پانی کی پٹیاں رکھتی اور اللہ سے کہتی کہ یا رب! میرے بچے کو شفا دے دے، چاہے میری ساری عمر کی خوشیاں لے لے۔"

میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی سسکیاں میرے دل میں اترتی چلی گئیں۔ میں نے بہت سے مریض دیکھے تھے، بہت سے زخموں پر مرہم رکھا تھا، مگر آج مجھے احساس ہوا کہ بعض زخم جسم پر نہیں، حالات کے ہاتھوں ماں کے دل پر لگتے ہیں۔

وہ رخصت ہونے لگی تو میں نے اس کے مٹھی میں چند روپے رکھ دیے۔

وہ روتے ہوئے میرے قدموں میں جھکنے لگی تو میں نے جلدی سے اسے تھام لیا۔ اس نے میرے ہاتھ چومے اور کہا؛ ’"اللّہ آپ کو کبھی کسی کے سامنے مجبور نہ کرے، باجی! کسی ماں کو اس کے بچے کے لیے یوں بے بس نہ ہونا پڑے۔"

وہ اپنے بچے کو سینے سے لگائے آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ میں اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ اس کے پاؤں اب بھی مٹی سے اٹے ہوئے تھے، لباس اب بھی سادہ تھا مگر اس کی گود میں زندگی مسکرا رہی تھی۔

وہ دروازے سے باہر نکلی تو اچانک پلٹی، بچے کا ننھا سا ہاتھ میرے لیے ہلایا اور نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

میں نے بھی نم آنکھوں سے مسکرانے کی کوشش کی۔

اس روز ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی میں کافی دیر خالی انتظار گاہ میں بیٹھی رہی۔ سامنے وہی کرسی خالی تھی جہاں وہ عورت اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی سسکیاں اب بھی ان دیواروں میں گونج رہی ہوں۔


اگلے چند دن میں اس بچے کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر ایک صبح وہ خاتون دوبارہ ہسپتال آئی۔ اس بار اس کے چہرے پر پہلے جیسی بے بسی نہیں تھی۔ بچہ اس کی گود میں مسکرا رہا تھا۔ اس نے دور سے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

"باجی! میرا بیٹا اب ٹھیک ہے۔"

اس کی خوشی دیکھ کر میرے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔

وہ میرے سامنے کھڑی تھی، وہی مٹی سے اٹے پاؤں، وہی سادہ لباس، وہی غربت، مگر اس دن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا۔

اس کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتی رہی کہ ہم روزانہ کتنے لوگوں کو ان کے لباس، حلیے اور حیثیت سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں چھپے دکھ نہیں دیکھ پاتے۔

ہمیں کیا معلوم کہ صاف ستھرے کپڑوں کے پیچھے کتنے زخم چھپے ہیں اور میلے پاؤں رکھنے والی عورت کے دل میں کتنی پاکیزہ دعائیں آباد ہیں۔

اس دن مجھے احساس ہوا کہ غربت انسان کے لباس کو میلا کر سکتی ہے، اس کے پاؤں کو گرد آلود کر سکتی ہے، مگر اس کی محبت اور ممتا کو کبھی غریب نہیں کر سکتی۔

اور میرے خیال میں شاید انسانیت بھی یہی ہے کہ کسی کے زخموں پر سوال اٹھانے سے پہلے اس کے درد کو سمجھ لیا جائے، کیونکہ بعض اوقات ایک دلاسہ، ایک نرم لفظ اور ایک ہمدرد نگاہ کسی ٹوٹتے ہوئے انسان کے لیے پوری دنیا بن جاتی ہے۔

میں نے اپنی ڈائری کے اگلے صفحے پر لکھا:

"دنیا میں سب سے زیادہ بے بس وہ ماں نہیں جس کے پاس اپنے بچے کے لیے دولت نہیں، بلکہ وہ ماں ہے جس کے پاس اپنے بچے کے درد کے سوا کسی کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ اور سب سے بڑی غربت پیسوں کی کمی نہیں، بلکہ وہ معاشرہ ہے جہاں ایک ماں کو اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لیے اپنی بے بسی کا حساب دینا پڑے۔"

یہ لکھ کر میں نے ڈائری بند کر دی مگر اس دن پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ کچھ کہانیاں کاغذ پر ختم نہیں ہوتیں؛ وہ انسان کے اندر کہیں ٹھہر جاتی ہیں اور پھر عمر بھر اسے سونے نہیں دیتیں۔۔۔