پینتالیس سے پچاس سال کی عمر میں بے روزگاری ،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کے لیے انسان کو نہ صرف محنت کرنا پڑتی ہے بلکہ اپنے حالات، وقت اور ضروریات کے ساتھ قدم ملا کر بھی چلنا پڑتا ہے۔ ایک عام انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے، بچوں کے بہتر مستقبل کی فکر کرنے، والدین کی خدمت کرنے اور گھر کے اخراجات پورے کرنے میں گزار دیتا ہے۔ وہ اپنی جوانی کی توانائیاں، اپنی صلاحیتیں اور اپنی زندگی کے قیمتی سال کسی ادارے، کارخانے یا مل میں کام کرتے ہوئے صرف کر دیتا ہے، اس امید پر کہ جب تک اس کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں اور وہ کام کرنے کے قابل ہے، اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا۔ لیکن جب زندگی کے اسی مرحلے پر، یعنی پینتالیس سے پچاس سال کی عمر میں، اسے اچانک ملازمت سے فارغ کر دیا جائے تو اس کے لیے صرف روزگار کا دروازہ بند نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ جڑی کئی امیدیں بھی دم توڑنے لگتی ہیں۔
آج کے معاشی حالات میں مہنگائی، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، گھر کا کرایہ، ادویات اور روزمرہ زندگی کی ضروریات پہلے ہی عام آدمی کے لیے ایک بڑا امتحان بنی ہوئی ہیں۔ ایسے میں اگر گھر کا واحد کفیل اپنی ملازمت سے محروم ہو جائے تو اس کے لیے حالات کا سامنا کرنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ خصوصاً ان افراد کے لیے جن کی عمر پینتالیس سے پچاس سال کے درمیان ہو، کیونکہ اس عمر میں ملازمت سے محروم ہونے کے بعد دوبارہ روزگار حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع تلاش کیے جاتے ہیں، نئی ڈگریوں، جدید مہارتوں اور تجربے کی بنیاد پر بھرتیاں ہوتی ہیں، لیکن ان افراد کے بارے میں بہت کم سوچا جاتا ہے جو اپنی زندگی کے کئی دہائیاں کسی ادارے کو دے چکے ہوتے ہیں۔ جب کسی کارخانے یا مل میں اخراجات کم کرنے، عملے میں کمی کرنے یا انتظامی تبدیلیوں کے نام پر ملازمین کو فارغ کیا جاتا ہے تو ان میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی ادارے کی ترقی کے لیے وقف کیا ہوتا ہے۔ وہ برسوں کی محنت، تجربے اور وفاداری کے باوجود ایک دن خود کو بے روزگار پاتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب یہی افراد نئی ملازمت کی تلاش شروع کرتے ہیں۔ وہ مختلف اداروں میں درخواستیں دیتے ہیں، اپنے تجربے اور قابلیت کا ذکر کرتے ہیں، انٹرویوز کے لیے جاتے ہیں، لیکن اکثر جگہوں پر عمر کی حد ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ بہت سی ملازمتوں کے اشتہارات میں عمر کی زیادہ سے زیادہ حد پینتالیس سال مقرر ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی شخص کی عمر اڑتالیس یا پچاس سال ہو تو اس کا برسوں کا تجربہ بھی اسے ملازمت دلوانے میں ناکام رہتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پینتالیس سال کی عمر کے بعد انسان کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا پچاس سال کا شخص کام کرنے کے قابل نہیں رہتا؟ کیا برسوں کا عملی تجربہ، اداروں کے نظام سے واقفیت، کام کی سمجھ بوجھ اور ذمہ داری کا احساس کسی نئی ڈگری سے کم اہمیت رکھتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو پھر صرف عمر کو ملازمت کے حصول میں اتنی بڑی رکاوٹ کیوں بنا دیا جاتا ہے؟
بلاشبہ بعض شعبوں میں جسمانی صلاحیت، مخصوص فنی تقاضوں اور کام کی نوعیت کے مطابق عمر کی حد مقرر کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن ہر شعبے میں ایک ہی اصول لاگو کرنا مناسب نہیں۔ بہت سے ایسے کام ہیں جن میں تجربہ، معاملہ فہمی، نظم و ضبط اور ذمہ داری زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو بیس یا پچیس سال کسی صنعتی ادارے میں کام کر چکا ہو، مشینوں کے نظام، پیداوار کے مراحل، ملازمین کی نگرانی یا دفتری معاملات سے واقف ہو، اسے محض عمر کی بنیاد پر نظر انداز کر دینا اس کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ضائع کرنا ہے۔
اس مسئلے کا ایک پہلو وہ بھی ہے جس پر عموماً کم بات کی جاتی ہے، اور وہ ہے گھر کے واحد کفیل کی ذمہ داری۔ فرض کریں ایک شخص کی عمر اڑتالیس سال ہے۔ اس کے بچے زیرِ تعلیم ہیں، والدین بوڑھے ہیں، گھر کے اخراجات اسی کی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں اور شاید اس نے اپنی محدود تنخواہ میں سے کچھ رقم بچوں کی تعلیم یا مستقبل کے لیے بچانے کی کوشش بھی کی ہو۔ وہ ہر ماہ تنخواہ ملنے پر گھر کا بجٹ بناتا ہے، بجلی اور گیس کے بل ادا کرتا ہے، راشن خریدتا ہے، بچوں کی فیس جمع کرواتا ہے اور ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اچانک اسے بتایا جاتا ہے کہ اب ادارے کو اس کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔
اس ایک فیصلے کے بعد اس کی زندگی کا پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ پہلے جو شخص مہینے کے آغاز میں گھر کے اخراجات کی منصوبہ بندی کرتا تھا، اب اسے یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اگلے مہینے گھر کیسے چلے گا۔ بچوں کی فیس کیسے ادا ہو گی؟ بیمار والدین کی ادویات کہاں سے آئیں گی؟ گھر کا کرایہ اور دیگر ضروری اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ یہ سوال صرف ایک بے روزگار شخص کے نہیں بلکہ اس پورے خاندان کے ہوتے ہیں جس کا معاشی سہارا اچانک ختم ہو جاتا ہے۔
اس صورتِ حال میں ذہنی دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرے گا۔ وہ اپنی پریشانی اکثر دوسروں سے بیان نہیں کرتا، اپنے بچوں کے سامنے مضبوط رہنے کی کوشش کرتا ہے اور گھر والوں کو تسلی دیتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اس کے دل میں جاری کشمکش کا اندازہ ہر کوئی نہیں لگا سکتا۔ ایک طرف اسے نئی ملازمت کی تلاش ہوتی ہے اور دوسری طرف گھر کی ذمہ داریاں اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ اپنی عمر، تجربے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور بار بار یہی سوال اس کے ذہن میں آتا ہے کہ اگر اب اسے ملازمت نہ ملی تو وہ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کرے گا؟
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر ملازم کے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ، تجربہ یا مناسب رہنمائی موجود نہیں ہوتی۔ اکثر افراد نے اپنی پوری عملی زندگی ملازمت کرتے ہوئے گزاری ہوتی ہے۔ انہیں ماہانہ تنخواہ ملتی رہی، جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتے رہے۔ انہوں نے کاروبار چلانے، منڈی میں مقابلہ کرنے، سرمایہ کاری کرنے یا گاہکوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کا تجربہ حاصل نہیں کیا ہوتا۔ ایسے شخص کو یہ مشورہ دینا کہ وہ ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کر لے، بظاہر آسان لیکن حقیقت میں ایک مشکل حل ہے۔
کاروبار کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے، جبکہ بے روزگاری کے بعد انسان کی جمع پونجی بھی آہستہ آہستہ گھریلو اخراجات میں صرف ہونے لگتی ہے۔ اگر وہ قرض لے کر کاروبار شروع کرے اور کاروبار کامیاب نہ ہو تو اس کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر بے روزگار شخص سے یہ توقع رکھنا کہ وہ فوراً کاروباری بن جائے، حقیقت پسندانہ رویہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے اس کی مہارت اور تجربے کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اگر وہ کاروبار کرنا چاہے تو اسے مناسب تربیت، رہنمائی اور قابلِ برداشت شرائط پر مالی معاونت میسر ہو۔
حکومت، صنعتی اداروں اور نجی کمپنیوں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ملازمتوں میں عمر کی حد مقرر کرتے وقت کام کی نوعیت، امیدوار کی صحت، قابلیت اور تجربے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص متعلقہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو صرف اس کی عمر کو بنیاد بنا کر اسے موقع سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے شعبوں میں جہاں تجربہ کار افراد ادارے کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں، وہاں عمر کے حوالے سے زیادہ لچکدار پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح کارخانوں اور ملوں کو بھی چاہیے کہ وہ عملے میں کمی کے فیصلے کرتے وقت ملازمین کی طویل خدمات، گھریلو ذمہ داریوں اور دوبارہ ملازمت حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کو مدِنظر رکھیں۔ اگر کسی ادارے کے لیے کسی ملازم کو فارغ کرنا ناگزیر ہو تو اسے مناسب نوٹس، واجب الادا تنخواہوں، قانونی مراعات اور جہاں قانون یا معاہدہ تقاضا کرے وہاں گریجویٹی یا دیگر مالی فوائد کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ممکن ہو تو ملازم کو دوسری جگہ روزگار تلاش کرنے میں رہنمائی بھی فراہم کی جائے۔
صنعتی اداروں میں ایسے پروگرام متعارف کروائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے تجربہ کار ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے طریقۂ کار کی تربیت دی جائے۔ اس طرح ادارے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملازمین بھی بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق خود کو تیار کر سکتے ہیں۔ اس عمر میں کسی شخص کو کام سے الگ کر دینے کے بجائے اس کے تجربے کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ درمیانی عمر کے بے روزگار افراد کے لیے مؤثر روزگار پالیسی تشکیل دے۔ ملازمتوں کے مواقع، ہنر مندی کی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے مراکز اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے افراد کو ان کی سابقہ ملازمت کے تجربے کے مطابق نئی ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد دی جائے۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی تربیتی پروگرام اور شفاف شرائط پر مالی معاونت کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ تاہم ان اقدامات کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ روزگار کے مواقع حقیقی ہوں اور ان تک رسائی صرف کاغذی اعلانات تک محدود نہ رہے۔
ہمارے معاشرے کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ پینتالیس یا پچاس سال کی عمر کوئی ایسی حد نہیں جس کے بعد انسان کی عملی زندگی ختم ہو جائے۔ یہ عمر تو وہ مرحلہ ہے جب ایک شخص اپنے کام، زندگی اور ذمہ داریوں کے بارے میں کافی تجربہ حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے پاس مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت، کام کو سمجھنے کا شعور اور اپنے شعبے میں کئی سال کا تجربہ موجود ہو سکتا ہے۔ ہمیں ایسے افراد کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی معاشی اور سماجی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ایک تجربہ کار شخص بے روزگار ہوتا ہے تو اس کی آمدنی ختم ہونے کے ساتھ اس کی قوتِ خرید بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے اثرات بازار، کاروبار اور مقامی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے درمیانی عمر کے افراد کے روزگار کا تحفظ صرف ان کی ذاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے کہ اگر پینتالیس سے پچاس سال کی عمر میں کسی شخص کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے، نئی ملازمت کے دروازے عمر کی پابندی کے باعث بند ہوں، کاروبار کا تجربہ اور سرمایہ بھی موجود نہ ہو اور گھر کی تمام ذمہ داریاں اسی کے کندھوں پر ہوں تو وہ کیا کرے؟ کیا اس کی برسوں کی محنت کی کوئی قدر نہیں؟ کیا اس کے خاندان کی ضروریات اہمیت نہیں رکھتیں؟ کیا اسے صرف اس لیے بے سہارا چھوڑ دیا جائے کہ اس کی عمر کسی اشتہار میں درج حد سے زیادہ ہو گئی ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ روزگار کی پالیسیوں میں انسان کو محض ایک عمر یا عدد کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اس کی قابلیت، تجربے، عملی صلاحیت اور ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دی جائے۔ ادارے ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں تجربہ کار افراد کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مواقع میسر ہوں، اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے کہ روزگار سے محرومی کسی خاندان کو معاشی تباہی کے دہانے پر نہ پہنچا دے۔
یاد رکھیے، ایک شخص جب اپنی جوانی کسی ادارے کی ترقی کے لیے صرف کر دیتا ہے تو عمر کے اس حصے میں اسے سب سے زیادہ ضرورت تحفظ، عزت اور روزگار کے مواقع کی ہوتی ہے۔ اسے صرف اس لیے مسترد کر دینا کہ وہ پینتالیس یا پچاس سال کا ہو چکا ہے، ایک ایسا رویہ ہے جس پر معاشرے اور اداروں دونوں کو غور کرنا چاہیے۔ تجربہ بھی ایک سرمایہ ہے، اور اس سرمائے کو ضائع کرنے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانا ہی دانش مندی ہے۔
مزید پڑھیں





