انسان کی زندگی میں بعض اوقات سب سے بڑی آزمائش غربت نہیں، دولت ہوتی ہے؛ سب سے بڑا امتحان کمزوری نہیں، طاقت ہوتی ہے، اور سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنی کامیابیوں کو اپنی قابلیت کا کمال سمجھتے ہوئے اس ذات کو بھول بیٹھتا ہے جس کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ اس کے کردار کا آئینہ بن جاتے ہیں اور اس کا غرور اس کی شخصیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے طاقت ور آئے، اپنی قوت، دولت، شہرت اور علم پر ناز کیا، مگر وقت نے بارہا ثابت کیا کہ انسان کی تدبیریں اپنی جگہ اور قدرت کا فیصلہ اپنی جگہ۔ سمندر کی وسعتیں ہوں یا آسمان کی بلندی، اقتدار کے ایوان ہوں یا شہرت کے روشن اسٹیج، انسان کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اس کی حیثیت محدود ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انسان اپنی محدود طاقت کو لامحدود سمجھنے لگتا ہے اور پھر اس کی زبان سے ایسے دعوے نکلتے ہیں جو اس کی عاجزی کے بجائے اس کے تکبر کی خبر دیتے ہیں۔
ٹائٹینک کی داستان اسی انسانی غرور کی ایک علامت بن چکی ہے۔ اس زمانے میں یہ جہاز جدید انجینئرنگ کا شاہکار سمجھا جاتا تھا۔ اس کے پہلے ہی سفر میں پیش آنے والے حادثے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیونکہ اس سے منسوب مشہور جملے کہ اسے خدا بھی نہیں ڈبو سکتا،، کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہو گئ تھی ۔لیکن اس حادثے سے ملنے والا سبق آج بھی زندہ ہے: انسان کی بہترین منصوبہ بندی بھی اسے ہر حادثے سے محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ترقی پر فخر کیجیے، مگر اپنی تدبیر کو قدرت کے ہر فیصلے سے برتر نہ سمجھے
اسلام ہمیں غرور سے بچنے، عاجزی اختیار کرنے اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں تکبر سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ زمین پر اکڑ کر چلنے والا انسان نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے۔ یہ تعلیم صرف چلنے کے انداز تک محدود نہیں؛ یہ لہجے، رویّے، گفتگو اور دوسروں کے ساتھ ہمارے برتاؤ تک پھیلی ہوئی ہے۔ کبھی انسان کے پاس دولت آ جاتی ہے تو وہ غریب کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، کبھی عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اپنے سے کم مرتبے والے کو انسان سمجھنا بھی بھول جاتا ہے، اور کبھی شہرت اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو وہ دوسروں کی عزت کو اپنی انا کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔
حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود چیزوں سے نہیں، بلکہ ان چیزوں کے باوجود اس کے اندر باقی رہنے والی عاجزی سے ہوتی ہے۔ بڑا وہ نہیں جس کے سامنے لوگ خاموش ہو جائیں؛ بڑا وہ ہے جس کے سامنے کمزور انسان بھی اپنی عزت محفوظ محسوس کرے۔ عظمت بلند آواز میں نہیں، نرم لہجے میں ہوتی ہے۔ کردار کی بلندی دوسروں کو نیچا دکھانے سے نہیں، انہیں عزت دینے سے ظاہر ہوتی ہے۔
اسی طرح جاپانی شہری تسوتومو یاماگوچی کی زندگی ہمیں انسانی بقا اور حوصلے کی حیرت انگیز مثال دکھاتی ہے۔ وہ ہیروشیما اور ناگاساکی، دونوں ایٹمی حملوں کے دوران موجود تھے اور دونوں سے بچ گئے۔ ان کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی زندگی کتنی غیر معمولی آزمائشوں سے گزر سکتی ہے۔
ان واقعات سے ہمیں دوسروں کے انجام پر خوش ہونے کے بجائے اپنی اصلاح کا سبق لینا چاہیے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کا دل توڑ سکتا ہے، ہماری کامیابی کسی کے احساسِ کمتری کو بڑھا سکتی ہے اور ہمارا طنز کسی انسان کی عزتِ نفس کو زخمی کر سکتا ہے؟ ہم دوسروں کی لغزشیں گنتے رہتے ہیں، مگر اپنے لہجے کی سختی، اپنے دل کے حسد اور اپنے رویّے کی تلخی پر نگاہ ڈالنے کی فرصت نہیں نکالتے۔
حسد دل کو بے سکون کرتا ہے، کینہ رشتوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے اور تکبر انسان کو اپنی غلطی تسلیم کرنے سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس شکرگزاری دل میں سکون پیدا کرتی ہے، معافی رشتوں کو نئی زندگی دیتی ہے اور عاجزی انسان کے کردار کو خوب صورت بناتی ہے۔ کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا، کسی کی پریشانی میں اس کا سہارا بننا اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنا ایسی خوبیاں ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں بڑا بناتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ آج جس کے پاس اختیار ہے، کل اسے دوسروں کے سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ آج جس کی آواز سنی جاتی ہے، کل شاید اس کے لیے چند محبت بھرے الفاظ ہی سب سے بڑی دولت بن جائیں۔ اس لیے نہ اقتدار پر اترائیے، نہ دولت پر، نہ حسن پر اور نہ شہرت پر۔ یہ سب عارضی عطیے ہیں؛ ان کی قدر کیجیے، مگر انہیں اپنی برتری کا پیمانہ نہ بنائیے۔
میری نظر میں زندگی کا سب سے خوب صورت انسان وہ ہے جس کی موجودگی سے دوسروں کے دلوں کو سکون ملے، جس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ مرہم بنیں، جو اپنی کامیابی پر شکر ادا کرے اور اپنی ناکامی میں بھی امید کا دامن نہ چھوڑے۔ جو کسی کی خوشی سے جلنے کے بجائے اس خوشی میں شریک ہو، جو اختلاف میں بھی تہذیب کا دامن تھامے رکھے اور جسے یہ احساس ہو کہ انسان ہونے کے ناتے ہم سب خطا کے امکان سے دوچار ہیں۔
آئیے، اپنی زبان کو غرور سے، اپنے دل کو نفرت سے اور اپنے رویّے کو تحقیر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سے صرف کامیابی نہ مانگیں، کامیابی کے ساتھ عاجزی بھی مانگیں؛ صرف عزت نہ مانگیں، دوسروں کی عزت کرنے کا ظرف بھی مانگیں؛ صرف خوشیاں نہ مانگیں، دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے والا دل بھی مانگیں۔
کیونکہ انسان کی اصل جیت یہ نہیں کہ وہ دنیا کو اپنی طاقت سے مرعوب کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے کردار سے دل جیت لے۔ آخرکار ہمارے عہدے، دولت، شہرت اور دعوے یہیں رہ جاتے ہیں؛ ہمارے الفاظ کی یاد، ہمارے رویّے کے اثرات اور ہمارے ہاتھوں سے پہنچنے والی آسانی لوگوں کے دلوں میں باقی رہ سکتی ہے۔
غرور انسان کو اپنی بلندی کا یقین دلاتا ہے، مگر عاجزی اسے اپنی حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ اس لیے اتنا بلند ضرور ہوں کہ دوسروں کے کام آ سکیں، مگر اتنا بلند کبھی نہ ہوں کہ کسی کا درد دکھائی دینا ہی بند ہو جائے۔






