فلسطین :پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ستمبر 2027 تک ملتوی کرنے کا فیصلہ

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے پیش نظر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات آئندہ برس ستمبر تک ملتوی کر دیے ہیں، جنہیں اب 11 ستمبر 2027 کو مشترکہ طور پر منعقد کیا جائے گا جبکہ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اور اسر ائیل میں شدید سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک صدارتی فرمان کے مطابق اب صدارتی اور قانون ساز انتخابات 11 ستمبر 2027 کو ایک ساتھ ہوں گے۔
فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے مطابق اس التوا کی بنیادی وجہ اسرائیلی اقدامات کی طرف سے کھڑی کی جانے والی ’رکاوٹیں‘ ہیں، جو انتخابات کو ان کی طے شدہ تاریخ پر منعقد نہیں ہونے دے رہی ہیں،رواں ہفتے رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے مؤقف اپنایا تھا کہ اسرائیل نے فلسطینی الیکشن حکام کو مشرقی القدس یا غزہ تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔
فلسطینی صدارت کا کہنا ہے کہ شفاف، منصفانہ اور جامع انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے مناسب سیاسی، سیکیورٹی اور زمینی حالات کی فراہمی انتہائی ناگزیر تھی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اس فرمان کے مطابق یہ انتخابات نافذ العمل عام انتخابات کے قانون کے مطابق ریاست فلسطین کے صدر اور قانون ساز کونسل کے معزز اراکین کے انتخاب کے لیے مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بسنے والے ہمارے غیور فلسطینی عوام کی بھرپور شرکت کے ساتھ منعقد ہوں گے۔
یہ فیصلہ تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے کی بنیاد پر اور تمام سیاسی دھڑوں اور قومی قوتوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں ایوان صدر کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان رکاوٹوں کا مشترکہ ادراک ہوا جو مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد میں سدراہ تھیں، اور اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی گئی کہ ایسے سازگار سیاسی، سکیورٹی اور میدانی حالات پیدا کیے جائیں جو اس قومی عمل کی شفافیت اور همهگیری کو یقینی بنائیں۔
ایوان صدر نے انتخابات کی تاریخ میں اس مصلحت کے تحت ترمیم کی ہے کہ مغربی کنارے میں بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں قابض دشمن کے ظالمانہ اقدامات کا تسلسل جاری ہے، جن میں نوآبادیاتی توسیع، غاصب یہودی آباد کاروں کے حملے اور روزمرہ کے عسکری دھاوے شامل ہیں، اس کے علاوہ فلسطینی عوام کی نقل و حرکت کی آزادی پر عائد پابندیاں، فلسطینی فنڈز غصب کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ انتخابی عمل کے انتظام کے سامنے پیدا ہونے والے سکیورٹی، معاشی اور انتظامی چیلنجز بھی اس کی زد میں ہیں۔
جہاں تک غزہ کی پٹی کا تعلق ہے تو فرمان میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہاں غیر معمولی سکیورٹی اور انسانی حالات کا تسلسل برقرار ہے، تعمیر نو کے عمل کا تاحال آغاز نہیں ہو سکا، پٹی سے قابض فوج کا مکمل انخلا عمل میں نہیں لایا گیا، سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورسز اور پولیس فورسز کی تعیناتی سے متعلق ضروری انتظامات پر بھی تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس تک مرکزی انتخابی کمیشن کے عملے اور بین الاقوامی مبصرین کی رسائی پر عائد کردہ ظالمانہ اسرائیلی پابندیوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے، جو کہ انتخابی تیاریوں کی تکمیل میں جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور متعلقہ اداروں کی اس صلاحیت کو محدود کرتی ہیں کہ وہ انتخابات کی نگرانی اور جانچ پڑتال کے اپنے مقدس فرائض احسن طریقے سے انجام دیں۔
صدارتی فرمان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس نئی تاریخ کے تعین کا بنیادی مقصد ایک جامع فلسطینی قومی مذاکرات کے لیے خوشگوار فضا ہموار کرنا ہے، تاکہ ہمارے قومی اتحاد، زمین کے مقدس اتحاد اور سیاسی نظام کو بھرپور تقویت دی جا سکے، انتخابی عمل کو درپیش تمام چیلنجز کا شاندار طریقے سے ازالہ کیا جا سکے، اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت تمام گورنریوں میں ہمارے باوقار عوام کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بات پر زور دیا ہے کہ انتخابات ہمارے لیے محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک قومی اور آئینی فریضہ ہیں یہ ہمارے عظیم فلسطینی عوام کا وہ بنیادی حق ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حقیقی نمائندوں کو آزادانہ اور جمہوری طریقے سے منتخب کرتے ہیں، جو کہ فلسطینی اداروں کی جمہوری روح کو تازہ کرنے اور ہمارے سیاسی نظام کے جڑواں بازوؤں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس فرمان کے تحت مرکزی الیکشن کمیشن اس بات کا پابند اور مکلف ہے کہ وہ نافذ العمل عام انتخابات کے قانون کے مطابق صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری، ان کے انتظام اور ان کی شفاف نگرانی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے، مشرقی مقبوضہ بیت المقدس سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں ان کے بالکل آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور جامع انعقاد کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پارلیمانی انتخابات نومبر کی 28 تاریخ کو جبکہ صدارتی ووٹنگ 2027 کے آغاز میں متوقع تھی،دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے محمود عباس کے اس اقدام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کو ’کرپٹ‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین سار نے جمعہ کو صدر عباس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ قانون ساز انتخابات کو ملتوی کرنے کا منصوبہ بنا کر بین الاقوامی برادری کو ’بے وقوف‘ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب، یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری طویل عرصے سے فلسطینی اتھارٹی سے اصلاحات کے تحت باقاعدہ انتخابات کے انعقاد پر زور دیتی رہی ہے، تاکہ فلسطینی سیاسی نظام میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
فلسطینی علاقوں میں آخری بار قانون ساز انتخابات 2006 میں منعقد ہوئے تھے، جن میں حماس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی،ان انتخابات میں حماس نے فتح کو شکست دی تھی، جو فلسطینی اتھارٹی پر غلبہ رکھتی ہے۔ اس انتخابی نتیجے کے بعد دونوں دھڑوں کے درمیان شدید کش مکش شروع ہو گئی اور بعد میں حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس سیاسی اور علاقائی تقسیم نے مغربی کنارے میں فتح اور غزہ میں حماس کی حکمرانی کا رخ اختیار کر لیا۔ اس سنگین رسہ کشی کے نتیجے میں فلسطینی قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کا اجلاس 2007 کے بعد سے اب تک ایک بار بھی منعقد نہیں ہو سکا ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے آخری بار 2005 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، جن کی آئینی مدت 2009 میں ختم ہونی چاہیے تھی،تاہم اس کے بعد سے وہ بغیر کسی نئے انتخابی مینڈیٹ کے صدارتی فرمان کے ذریعے اپنی حکومت چلا رہے ہیں، جس پر اندرون اور بیرون ملک سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں





