Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوٹ سے نوٹیفکیشن تک،تحریر: انیلہ افضال ایڈووکیٹ

نقطہ نظر
rupee

انسان کو اس زمین پر وارد ہوئے لاکھوں سال ہو چکے۔ پہلے انسان نے ترقی کی اور اب تو زمانہ بھی ترقی کر رہا ہے۔ پہلے انسان غار میں رہتا تھا، پھر اینٹوں کے مکان میں آیا، پھر فلیٹ میں پہنچا۔ دنیا بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اتنی تیزی سے کہ ہم ابھی پچھلی ترقی کے ساتھ سیلفی ہی بنا رہے ہوتے ہیں اور دنیا چار قدم مزید آگے بڑھ جاتی ہے۔ اب دنیا ایک اور بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے، جسے بڑے بڑے لوگ نہایت سنجیدگی سے کیش لیس اکانومی کہتے ہیں؛ یعنی اب انسان ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں جیب میں پیسے رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ یعنی انسان کی جیب وہی رہے گی، مگر اس میں پیسے نہیں ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ رسید، پرانا رومال، یا پھر دو تین چابیاں ہوں گی اور بس!!

مستقبل کی معیشت کو کہا جا رہا ہے کیش لیس اکانومی یعنی ایسی معیشت جہاں نقد رقم کے بجائے موبائل، کارڈ، بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے لین دین ہوگا۔

یہ سن کر ہم پاکستانیوں کو سب سے پہلے یہی فکر لاحق ہوگی کہ پھر وہ مشہور جملہ کہاں جائے گا:

’’بھائی، پانچ سو کا کھلا ہے؟‘‘

کیونکہ پاکستانی معاشرت میں ’’کھلا‘‘ صرف کرنسی نہیں، ایک مکمل ثقافت ہے۔

ایک زمانہ تھا جب انسان اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنی اوقات کا اندازہ لگا لیتا تھا۔ اب دنیا ہمیں ایک ایسی معیشت کی طرف لے جا رہی ہے جہاں کیش نہیں ہوگا۔ یعنی مستقبل میں جیب تو وہی ہوگی، پینٹ وہی ہوگی، پرس وہی ہوگا، مگر پیسے نہیں ہوں گے۔

جیب دیکھ کر یوں محسوس ہوگا جیسے کوئی سرکاری دفتر ہو—عمارت موجود، اندر کام کچھ نہیں۔

اس نظام کو بڑے نفیس نام سے کیش لیس اکانومی کہا جا رہا ہے۔

وطن عزیز میں نقد رقم کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیسے خرچ ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آپ کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ ہے۔

آپ نے ہزار خرچ کیے۔

اب چار ہزار رہ گئے۔

پھر ہزار خرچ کیے۔

اب تین ہزار۔

یعنی پیسے آپ کے سامنے کم ہو رہے ہیں، اور آپ کو دکھائی دے رہا ہے کہ تباہی کس رفتار سے آ رہی ہے۔

کیش لیس معیشت میں آپ موبائل نکالیں گے، خریداری کریں گے؛ اور آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ آپ کب لٹ گئے۔ آپ موبائل کو غور سے دیکھیں گے۔

پھر آسمان کی طرف دیکھیں گے۔

پھر موبائل کو دیکھیں گے۔

اور کہیں گے، " یہ کب ہوا“؟


کیش لیس معیشت کا سب سے زیادہ نقصان شاید شوہروں کو ہوگا۔ موبائل کا نوٹیفکیشن چغلی کرنے والی آنٹی سے زیادہ خطرناک ہو گا۔ بینک اسٹیٹمنٹ سب کچھ بتا دے گی۔ یہی حالت خواتین کے ساتھ بھی ہو گی اب گھر خرچ سے پیسے بچا کر جوڑا خریدنا اور پھر " امی نے لے کر دیا ہے۔ “ کہنا کافی مشکل ثابت ہو گا؛ کیونکہ خرچے کی ساری تفصیل بیگم کے موبائل میں بھی محفوظ ہو گی۔ یعنی ڈیجیٹل معیشت سے نہ صرف نقدی ختم ہو گی بلکہ بہانوں کی معیشت بھی ختم ہو جائے گی۔


کیش لیس معیشت کا ایک اور عظیم نقصان یہ ہوگا کہ جیب کتروں کا روزگار متاثر ہوگا۔

بیچارہ جیب کترا بازار میں گھوم رہا ہوگا۔

سامنے آدمی کی جیب۔

ہاتھ ڈالے گا۔

کچھ نہیں!

دوسری جیب۔

کچھ نہیں!

پچھلی جیب۔

پھر بھی کچھ نہیں!

یوں مستقبل کا جیب کترا بھی شاید سائبر کرائم کی طرف منتقل ہو جائے؛ بلکہ وہ تو کچھ کچھ آغاز کر بھی چکے ہیں۔ کبھی ڈیلیوری والے بن کر اور کبھی ایچ ای سی کے مینیجر کی حیثیت سے کال کر کے آپ سے اؤ ٹی پی لیتے ہیں اور ڈیجیٹلی آپ کی جیب کاٹ لیتے ہیں؛ بلکہ کچھ تو آپ کے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں۔


آنے والے وقتوں میں سب سے بڑا انقلاب شادیوں میں آئے گا۔

ابھی شادی میں ایک خوبصورت لفافہ دیا جاتا ہے۔

لفافے کے اندر رقم۔

اوپر نام۔

اور اندر ایک خاموش دعا:

’’اللہ خوش رکھے۔‘‘

مستقبل میں لفافہ ختم۔

موبائل نکالو۔

دلہن کے والد کا اکاؤنٹ نمبر پوچھو۔

رقم منتقل کرو۔ اور 5000 موصول ہونے کا نوٹیفکیشن آئے گا؛ لیکن مسئلہ یہ ہوگا کہ شادی کے بعد لفافے کھولنے کی جو تفریح تھی وہ ختم ہو جائے گی۔

نہ یہ معلوم ہوگا کہ کس نے پانچ ہزار دیے، کس نے دو ہزار، کس نے ایک ہزار۔ بس بینک اسٹیٹمنٹ ہوگی۔ اور پاکستانی رشتہ دار بینک اسٹیٹمنٹ کو بھی شاید ویسے ہی دیکھیں گے جیسے آج لفافے دیکھتے ہیں۔


بچوں کے لیے بھی زمانہ عجیب ہوگا۔

ہماری نسل نے دس روپے کا نوٹ دیکھ کر فیصلہ کیا تھا کہ ٹافی لینی ہے یا جوس۔ آنے والے وقتوں کا بچہ کیا کرے گا۔ ہمیں تو سوچ کر ہی جھرجھری آ جاتی ہے کہ مستقبل کا بچہ سودے کے بچ جانے والے پیسوں میں ڈنڈی کیسے مارے گا؟؟ ہائے یہ جدیدیت کیا کیا دکھائے گی!!


لیکن جو بھی ہو پاکستانی قوم کی ایک عادت ایسی ہے جسے دنیا کی کوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ختم نہیں کر سکتی:

مول تول۔

آپ دنیا کے کسی بھی نظام میں ہمیں ڈال دیں، ہم قیمت کم کروائیں گے۔

دکاندار:

’’دو ہزار۔‘‘

ہم:

’’پندرہ سو کر دیں۔‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’اچھا سولہ سو۔‘‘

’’نہیں, باجی، ابھی تو کہا دو ہزار!‘‘

’’تو پھر چھوڑیں، نہیں چاہیے۔‘‘

دکاندار:

’’اچھا سولہ سو پچاس دے دیں۔‘‘

ہم:

’’چلیں ٹھیک ہے۔‘‘

اور پھر ہم فاتحانہ انداز میں گھر آتے ہیں کہ آج ہم نے کاروباری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

کیش لیس معیشت آئے گی تو ادائیگی ڈیجیٹل ہوگی، مگر مول تول اینالاگ ہی رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ کیش لیس معیشت محض پیسے رکھنے کا طریقہ بدلنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ہماری روزمرہ عادات، خریداری، بچت، کاروبار اور مالی نظم و ضبط بھی بدل سکتے ہیں۔

لیکن پاکستان میں ٹیکنالوجی چاہے جتنی جدید ہو جائے، ہمارا بنیادی سوال وہی رہے گا:

’’بھائی، کچھ کم کرو۔“ اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب دنیا کو یقین ہو جائے گا کہ کیش لیس معیشت آ سکتی ہے، ڈیجیٹل پاکستان آ سکتا ہے، موبائل والٹ آ سکتا ہے، QR کوڈ آ سکتا ہے؛ لیکن پاکستانی خریدار کے اندر بیٹھا ہوا مول تول کا وزیرِ خزانہ کبھی ریٹائر نہیں ہو سکتا۔