باب المندب سے ایک پیغام،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
نقطہ نظر
مشرقِ وسطی ایک مرتبہ پھر ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف جاری کارروائیوں اور باب المندب کے اطراف میں اہم علاقوں کی واپسی نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ محض یمن کا داخلی تنازع نہیں بلکہ خلیج، بحیرہ احمر، عالمی تجارت اور پورے مشرقِ وسطی کی سلامتی سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے ۔ ایشیا، مشرقِ وسطی اور یورپ کے درمیان عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اس لیے اس علاقے میں کسی مسلح گروہ کا اثر و رسوخ صرف یمن یا سعودی عرب کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔
سعودی عرب نے یمن کے بحران میں ایک طویل عرصے تک سفارتی کوششوں، مذاکرات اور سیاسی حل کے لئے کوششیں کی ہیں ۔ اس لیے کہ ہر ریاست کی طرح سعودی عرب کے لیے بھی اپنی سرحدوں، شہریوں، تنصیبات اور علاقائی سلامتی کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہے۔
لیکن جب ایک غیر ریاستی مسلح گروہ علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن جائے اور بحری راستوں کو بھی متاثر کرے تو کسی ریاست کا اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنا ایک قابلِ فہم ضرورت بن جاتا ہے۔ سعودی عرب کی حالیہ سرگرمیوں کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ باب المندب صرف یمن کا دروازہ اور جغرافیائی مقام ہی نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کی اہم شہ رگ ہے۔ بحیرہ احمر میں عدم تحفظ کا اثر صرف یمن یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی تجارت، جہاز رانی، توانائی اور پاکستان سمیت تمام خطے کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کو یہ اجازت دے سکتی ہے کہ وہ ایک اہم عالمی بحری گزرگاہ کو اپنے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرے۔
جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے اس کی اہمیت کو صرف سیاسی یا معاشی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس سرزمین پر واقع ہیں۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، مسجد نبوی ﷺ مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کو حرمین شریفین کی سرزمین کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ حج و عمرہ کے وسیع انتظامات، حرمین شریفین کی توسیع، زائرین کے لیے جدید سہولیات، قرآن کریم کی طباعت و اشاعت اور مقدس مقامات کی خدمت سعودی ریاست کی عالمی شناخت کے اہم پہلو ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کا عنوان محض ایک رسمی لقب نہیں بلکہ ایک عظیم دینی ذمہ داری کی علامت ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی، عوامی، معاشی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں۔پاکستانی قوم کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی طویل عرصے سے موجود ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں اس تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان میں ہر شہری کو سیاسی اور فکری رائے رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن آزادیِ اظہار اور کسی غیر ملکی مسلح گروہ کی عسکری، مالی، تنظیمی یا تشہیری معاونت ایک چیز نہیں۔ جو عناصر حوثی ملیشیا یا کسی بھی غیر ملکی مسلح تنظیم کی عملی معاونت کرتے ہیں بیرونی طاقتوں کی پراکسیز کو پاکستان میں فروغ دیتے ، تشدد پر اکساتے یا پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کا قانون کے مطابق بلاامتیاز احتساب ضروری ہے۔ کیونکہ آج اگر کسی غیر ملکی مسلح گروہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دی گئی تو کل یہی نیٹ ورک پاکستان کے امن و امان اور داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔ لہذا یہ ضروری ہے حوثی ہوں یا کسی بھی دوسری غیر ملکی طاقت کے مسلح پراکسیز پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی بیرونی جنگ کا میدان نہ بننے دیا جائے ۔
پاکستان ایران کو اپنا ہمسایہ سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان روابط موجود ہیں ۔ لیکن اچھی ہمسائیگی کا بنیادی اصول باہمی خودمختاری اور عدم مداخلت ہے۔ ہم ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں ایسے تعلقات جو برابری اور عدم مداخلت پر قائم ہوں۔ ایران کے لیے بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی معیشت، مسائل کو ترجیح دے، خطے میں کشمکش کی بجائے سفارت کاری اور علاقائی تعاون کو فروغ دے۔
پاکستان ایک انتہائی حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ ایسے ملک کے لیے خارجہ پالیسی جذباتی نعروں کے بجائے قومی مفاد پر مبنی ہونی چاہیے۔ پاکستان کو کسی بھی ملک کے ساتھ غیر ضروری دشمنی مول لینی نہیں چاہیے لیکن کسی بیرونی طاقت کو یہ حق بھی نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے یا پاکستانی سرزمین کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے استعمال کرے۔اس اصول کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے۔ نہ بھارت کی پراکسی قابلِ قبول ہے نہ کسی دوسرے ملک کی مسلح تنظیم کی پاکستان میں سرگرمی قابلِ قبول ہونی چاہیے ۔
سعودی عرب کے لیے پاکستان میں عوامی جذبات کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ حرمین شریفین کی محبت، سعودی عوام سے تعلق، حج و عمرہ کی نسبت اور دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط روابط نے ایک ایسا تعلق قائم کیا ہے جو محض حکومتوں کے درمیان سفارتی تعلق سے کہیں آگے ہے۔پاکستانی قوم سعودی عرب کو حرمین شریفین کی خدمت کی وجہ سے خصوصی احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسی لیے سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کی حفاظت کا مسئلہ پاکستانی عوام کے لیے محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ ایک گہرا دینی اور جذباتی معاملہ بھی ہے۔
یہاں ایک اصول واضح رہنا چاہیے۔ کسی شخص کو صرف اس لیے مجرم قرار دینا درست نہیں کہ وہ کسی ملک یا سیاسی فریق کے بارے میں مختلف رائے رکھتا ہے۔ اختلافِ رائے معاشرے کا حصہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی مسلح تنظیم کی مالی، عسکری یا تنظیمی معاونت کرتا ہے، دہشت گردی یا تشدد کی حمایت کرتا ہے، بیرونی پراکسی سرگرمی میں شریک ہوتا ہے یا پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ ایسے عناصر کا محاسبہ ضرور ہو، مگر قانون کے مطابق اور بلاامتیاز۔ یہی مضبوط ریاست کی علامت ہے۔
آخری بات ........یمن کا بحران ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ریاستی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب نے اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا راستہ اختیار کیا ہے۔جبکہ باب المندب کی اہمیت نے اس پورے تنازع کو عالمی سطح پر مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات واضح رکھے.........کہ پاک سرزمین کسی غیر ملکی پراکسی جنگ لیے استعمال نہیں ہوگی۔ کسی مسلح غیر ملکی تنظیم کو پاکستان کے امن و امان سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قومی اداروں کے خلاف تشدد یا بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کو سیاسی اختلاف کا نام نہیں دیا جائے گا، پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ایران سمیت خطے کے تمام ممالک کے لیے بھی پیغام یہی ہونا چاہیے کہ ہم ہمسائیگی چاہتے ہیں، مداخلت نہیں ، تجارت چاہتے ہیں، پراکسی جنگ نہیں ، امن چاہتے ہیں، مسلح گروہوں کی سرپرستی نہیں۔ سعودی عرب کے لیے پاکستانی عوام کے دل سے یہ واضح پیغام ہے کہ
حرمین شریفین کی خدمت ایک عظیم دینی ذمہ داری ہے اور حرمین کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ہماری دعا ہے اللہ حرمین شریفین کو ہمیشہ امن و امان کا گہوارہ بنائے رکھے، مملکت سعودی عرب اور اس کے عوام کو سلامتی عطا فرمائے، امت مسلمہ کو فتنوں، جنگوں اور بیرونی مداخلتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
مزید پڑھیں





