میں اکثر سوچتی ہوں…
کیا میرا اللہ سے محبت کا دعویٰ سچا ہے؟
میں کہتی تو ہوں کہ مجھے اللہ سے محبت ہے، میں درود پڑھتی ہوں تو آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔۔ محمد ﷺ کا نام آتا ہے تو دل دھڑک اٹھتا ہے مگر جب بات آتی ہے اپنی خواہش چھوڑنے کی، اپنی سہولت قربان کرنے کی، اپنی ضد توڑنے کی— تو میں ٹھہر جاتی ہوں۔
کیا یہ محبت ہے یا صرف ایک خوبصورت دعویٰ؟ پھر میں نے دل سے پوچھا اگر تمہیں واقعی محبت ہے، تو تمہاری بے چینی کہاں ہے؟ تمہاری وہ تڑپ کہاں ہے، جو محبوب کی ناراضی پر چین چھین لے؟
میں کامل نہیں ہوں میں کمزور ہوں، میں سہولت پسند ہوں، میں کبھی اپنی نیند کو، کبھی اپنی خواہش کو، کبھی اپنے لوگوں کو اللہ کی رضا پر ترجیح دے دیتی ہوں۔
مگر اے میرے رب! اگر میرا دعویٰ کمزور ہے، تو میری طلب سچی ہے۔ مجھے وہ دل دے، جو تیری محبت میں اپنی سہولت بھول جائے۔ مجھے وہ آنکھ دے، جو گناہ سے پہلے تیرے غضب کو دیکھ لے۔ مجھے وہ ہمت دے،جو تیرے لیے قربان ہونا سیکھ لے۔ میرے ربی! میں دعویٰ نہیں کرنا چاہتی، میں سچی محبت چاہتی ہوں۔
شاید محبت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ جب دل ایک طرف کھینچ رہا ہو اور اللہ کا حکم دوسری طرف بلا رہا ہو، تو ہم کس کا انتخاب کرتے ہیں؟ جب نیند آنکھوں پر بوجھ بن کر چھا رہی ہو اور نماز کا وقت ہو، جب غصہ کسی اپنے کو سخت جواب دینے پر اکسا رہا ہو اور اللہ ہمیں صبر کی تلقین کر رہا ہو۔ جب کسی خواہش کو پورا کرنے کا موقع ہو مگر اس میں رب کی ناراضی کا اندیشہ ہو، تب ہمارے فیصلے ہماری محبت کی گواہی دیتے ہیں۔
میں جانتی ہوں کہ محبت صرف آنسو بہانے، خوب صورت الفاظ کہنے یا دل میں جذبات محسوس کرنے کا نام نہیں ہے۔ محبت تو اطاعت مانگتی ہے، وفاداری چاہتی ہے اور اپنے محبوب کی رضا کو اپنی خواہش پر مقدم رکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اگر میں اپنے رب سے محبت کرتی ہوں تو مجھے اس کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اگر میں اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتی ہوں تو مجھے آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ دینے کی فکر بھی ہونی چاہیے۔
لیکن میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں، تو اپنی ہی کوتاہیاں مجھے شرمندہ کر دیتی ہیں۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ میں نے دل میں توبہ کا ارادہ کیا مگر پھر اسی غلطی کی طرف لوٹ گئی۔ کتنی بار کسی نیکی کا موقع سامنے آیا مگر میں نے یہ سوچ کر قدم روک لیا کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں کر لوں گی۔ کتنی بار دل نے مجھے سمجھایا کہ یہ راستہ درست نہیں مگر میں نے اپنی خواہش کو خاموشی سے جیتنے دیا۔
پھر بھی میرا رب کتنا مہربان ہے کہ میری لغزشوں کے باوجود مجھے اپنی طرف لوٹنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ میری خطاؤں کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ میری کمزوریوں کے باوجود مجھے دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی توفیق ملتی ہے۔ یہی امید مجھے ٹوٹنے نہیں دیتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میرا رب میری کمزوریوں سے واقف ہے مگر میں یہ بھی جانتی ہوں، کہ مجھے اپنی کمزوریوں کو جواز بنا کر ان ہی میں گرفتار نہیں رہنا چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری نماز محض ایک فرض کی ادائیگی نہ ہو، بلکہ میرے اور میرے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے۔ قرآن کھولوں تو صرف الفاظ نہ پڑھوں، بلکہ اپنے رب کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں۔ درود پڑھوں تو میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کے ساتھ آپ ﷺ کی تعلیمات پر چلنے کا جذبہ بھی بیدار ہو۔ میں جب کسی کے ساتھ معاملہ کروں تو میرے اخلاق میں بھی اس محبت کی جھلک دکھائی دے جس کا دعویٰ میں اپنی زبان سے کرتی ہوں۔
اے میرے اللہ! مجھے اپنی محبت کا مفہوم سمجھا دے۔ مجھے ایسا نہ ہونے دینا کہ میری زبان تیرے ذکر سے تر رہے مگر میرے اعمال تیری رضا سے دور ہوتے جائیں۔ میرے دل میں نیکی کی خواہش پیدا کر اور مجھے اس خواہش کو عمل میں بدلنے کی توفیق عطا فرما۔ جب میرا نفس مجھے غلط راستے کی طرف بلائے تو مجھے اپنے حکم کو یاد رکھنے والا بنا۔ جب میں کسی آزمائش میں پڑوں تو مجھے صبر عطا فرما، اور جب مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو مجھے مایوسی کے بجائے سچی توبہ کی طرف لوٹا دے۔ میں جانتی ہوں کہ میں ایک دن میں کامل نہیں بن سکتی مگر میں ہر روز پہلے سے بہتر بننے کی کوشش تو کر سکتی ہوں۔ میں گر جاؤں تو دوبارہ اٹھ سکتی ہوں۔ بھٹک جاؤں تو اپنے رب کی طرف واپس آ سکتی ہوں۔ کمزور پڑ جاؤں تو اسی سے قوت مانگ سکتی ہوں۔ میری منزل بے عیب ہونا نہیں، بلکہ اپنے رب کی رضا کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہے۔
میرے ربی! میری محبت کو میرے کردار میں اتار دے۔ میری تنہائی کو اپنی یاد سے آباد کر دے۔ میرے فیصلوں میں اپنی رضا کو مقدم رکھنا سکھا دے۔ میری آنکھوں کے آنسوؤں کو سچی توبہ اور میرے دل کی بے چینی کو اپنی قربت کی طلب بنا دے۔
میں نہیں چاہتی کہ قیامت کے دن میرے پاس دعووں کے الفاظ تو ہوں مگر اعمال کی گواہی کمزور پڑ جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی کا ہر گزرتا دن مجھے تیری اطاعت کے قریب کرے۔ میری آخری سانس تک مجھے ایمان پر ثابت قدم رکھ اور مجھے اپنی رحمت سے محروم نہ فرمانا۔ یا اللہ! مجھے صرف تجھ سے محبت کرنے والی نہیں، بلکہ تیری محبت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اپنانے والی بنا دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین!
مزید پڑھیں






