Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

افغان طالبان سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے کا جشن


ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکے کے بعد ایک جانب تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مذمت سامنے نہیں آئی تو دوسری جانب افغان طالبان کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے


ڈی آئی خان دھماکے میں 11 افراد کی شہادت ہوئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بعد ازاں زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے 2 اہلکار شہید ہو گئے،واقعہ کے بعد پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے دہشتگردی کے اس واقعہ کی مذمت کی لیکن پی ٹی آئی جو خیبر پختونخوا میں اقتدار میں ہے کی جانب سے مذمت سامنے نہیں آئی تو وہیں افغان طالبان کی جانب سے ڈی آئی خان میں دھماکے پر جشن منایا جا رہا ہے، ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، افغان طالبان کی جانب سے حملے پر جشن اور پی ٹی آئی کا مذمت نہ کرنا، دونوں کا گٹھ جوڑ واضح ہو چکا ہے،


https://x.com/AfghanTimes7/status/2103840056180101576?s=20


افغان ٹائمز کے مطابق افغان طالبان سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں مہلک حملے کا جشن منایا جا رہا ہے،رپورٹ کے مطابق افغان طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور صارفین کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ہونے والے اس مہلک حملے کا جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا،


https://x.com/AfghanTimes7/status/2103810541466882149?s=20


افغان ٹائمز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ایک وزیر نے دعویٰ کیا کہ آئی ای ڈی (IED) حملے کرنے والے خودکش بمبار پاکستان کے ایٹمی بموں سے زیادہ خطرناک ہیں،


پاکستانی سیکورٹی اداروں اور مبصرین کے مطابق، افغان طالبان کے حامی پروپیگنڈا نیٹ ورکس ایسے حملوں کو پاکستان کے خلاف اپنی نظریاتی جنگ کے حصے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے ہمدردی رکھنے والے ڈیجیٹل اکاؤنٹس (خصوصاً ایکس اور ٹیلی گرام پر) حملوں کی ویڈیوز اور بیانات شیئر کر کے اسے کامیابی قرار دیتے ہیں ان اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کے حوصلے بلند کیے جا سکیں۔


پاکستان مسلسل یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ افغان طالبان کی آمد کے بعد ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ملی ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں-ماضی میں بھی (جیسے بنوں پولیس پوسٹ پر حملے کے بعد) پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ حال ہی میں ستمبر 2026 میں پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علا قوں (جیسے کنڑ) میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔


ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں شامل ہے جو افغانستان کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کاسب سے زیادہ شکار ہیں۔یہاں پولیس، سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اکاؤنٹس کی جانب سے حملوں کا جشن منانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرحد پار موجود عناصر اب بھی پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی پشت پناہی کر رہے-