Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بدلتا پنجاب مریم نواز کا خواب،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

ایک چراغ سے کسی نے پوچھا ’’تمہاری روشنی کہاں تک جائے گی؟‘‘ چراغ نے جواب دیا ’’جہاں تک کوئی اسے لے کر چلتا جائے۔‘‘ قوموں کی تقدیر بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ہم نے برسوں بچوں کے ہاتھ میں کتابیں تو دیں مگر ان کے ذہن میں سوال ، غور ، تحقیق اور تخلیق کی وہ روشنی پیدا نہ کر سکے جو مستقبل بناتی ہے۔ کتابوں کا بوجھ ، رٹا ، امتحان کا خوف اور نمبروں کی دوڑ کردار ، عملی زندگی ، ذہنی صحت اور تخلیقی صلاحیت پر غالب رہی۔ ایسے ماحول میں پنجاب کی نئی تعلیمی اصلاحات ایک اہم آغاز ہیں۔ کتابوں کا بوجھ پچیس فیصد کم کرنا ، پہلی سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت کی تعلیم ، تعلیمی ویڈیوز تک رسائی ، اساتذہ کی تربیت ، ذہنی صحت کے لیے مشاورت اور جسمانی سزا کے متبادل نظم و ضبط جیسے اقدامات نظام کو رٹے سے فہم اور خوف سے اعتماد کی طرف لے جانے کی کوشش ہیں۔ اصل امتحان اعلان کا نہیں اس آغاز کو ہر بچے کے کمرۂ جماعت تک مؤثر اور یکساں انداز میں پہنچانے کا ہے۔

اس سفر کو کامیاب بنانے کے لیے صرف کتاب کا حجم کم کرنا کافی نہیں، سیکھنے کا طریقہ بھی بدلنا ہوگا۔ تعلیمی سال کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ہر مرحلے میں محدود نصاب ، مسلسل تدریس اور مختصر جائزہ رکھا جا سکتا ہے تاکہ بچہ پورا سال ایک ہی امتحان کے دباؤ میں نہ رہے۔ سوالات یہ جانچیں کہ اس نے کیا سمجھا ، کہاں استعمال کر سکتا ہے اور مسئلہ کیسے حل کرتا ہے۔ اس تبدیلی کا اصل مرکز استاد ہونا چاہیے۔ بہتر انتخاب ، مسلسل تربیت ، بہتر تنخواہ ، مراعات ، معاشرتی عزت اور ترقی کے واضح مواقع کے بغیر تعلیمی اصلاح ادھوری رہے گی۔ استاد کو صرف ملازم نہیں بلکہ قوم کے فکری اور اخلاقی معمار کا مقام دینا ہوگا۔

تعلیم صرف ذہن بنانے کا نام نہیں ، انسان اور ذمہ دار شہری بنانے کا عمل بھی ہے۔ صفائی ، سچائی ، دیانت ، وقت کی پابندی ، دوسروں کا احترام ، قانون کی پاسداری ، اجتماعی ذمہ داری ، اختلافِ رائے کا احترام اور عوامی املاک کی حفاظت کتابی اسباق کے بجائے اسکول کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننی چاہیے۔ جاپان کے تجربے سے اخلاقی تربیت ، صحت ، خوراک اور تحفظ کو تعلیم سے جوڑنے کی اہمیت سیکھی جا سکتی ہے ، مگر اسے پاکستان کی اپنی تہذیب اور اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ہر بچے کے لیے محفوظ اسکول ، صاف پانی ، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بیت الخلا ، ابتدائی طبی امداد ، ہنگامی انتظام ، محفوظ آمدورفت اور ہراسانی و بدسلوکی سے تحفظ بھی ریاستی ذمہ داری ہے۔ ضرورت مند بچوں کے لیے مفت تعلیم ، کتابیں ، لباس اور غذائیت سے بھرپور لنچ بریک اسی ذمہ داری کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔

اور پھر مستقبل کی وہ دنیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت علم ، معیشت اور روزگار کے انداز بدل رہی ہے۔ پاکستان کے لیے وقت صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا نہیں اسے سمجھنے ، بنانے اور اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ ابتدائی جماعتوں سے مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ ، آگے چل کر اعداد و شمار ، تحقیق ، روبوٹ سازی اور سائنسی علوم ، جامعات میں جدید تحقیقی مراکز ، مقامی زبانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور صنعت ، زراعت ، صحت ، تعلیم اور حکمرانی میں اس کا عملی استعمال ایک جامع منصوبے کا حصہ بننا چاہیے۔ ساتھ ہی رازداری ، اخلاق ، انسانی اختیار اور محفوظ استعمال کے اصول بھی لازم ہوں۔ پنجاب اگر ’’ستھرا پنجاب‘‘ کے ساتھ ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ بھی بننا چاہتا ہے تو اسے محض ایک مہم نہیں بلکہ نسلوں پر محیط تعلیمی عہد بنانا ہوگا۔ واضح اہداف ، مستقل بجٹ ، آزاد نگرانی اور سالانہ عوامی جائزے کے ذریعے آج روشن کیا گیا یہ چراغ کل کے پاکستان کی سمت متعین کر سکتا ہے۔