افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے کی چشم پوشی، سہولت کاری یا حمایت ختم کرے،پاکستان

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے کی چشم پوشی، سہولت کاری یا حمایت ختم کرنا ہوگی-
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات کا نوٹس لیا گیا ہے، پاکستانی سکیورٹی اداروں کو الزام دینے سے افغان طالبان حکومت اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی، پاکستان کے خدشات قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے، طالبان کی حمایت اور ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کی زیادہ آزادی ملنے سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار بتائی گئی ہے، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور معاون نیٹ ورکس پاکستان کے لیے سنگین تشویش ہیں، مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں سنجیدہ جانچ پڑتال کی متقاضی ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساخت کے اسلحہ کی برآمدگی سنجیدہ جانچ پڑتال کی متقاضی ہے،پاکستان نے قندھار میں افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر خدشات کا اظہار کیا ہے، خدشات کو محض یکسر تردید کرکے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں، پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کےخطرات ہیں، افغان عوام نہیں، دونوں ممالک کا امن و استحکا م ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، افغان طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے کی چشم پوشی، سہولت کار ی یا حمایت ختم کرنا ہوگی اورافغان سرزمین پاکستان کےخلاف حملوں کی منصوبہ بندی،تیاری یا حملے کر نے کے لیے استعمال نہ ہو۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا، پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے تیار ہے، پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار دراندازی کے خلاف اقدامات کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں




